ي7 گیفیات ک

لصف صریى ے 7.02 سرلذشت

-.

رم مارک اعم اح زیم ی عنہ ٰ ساب یس ان مشرقی افرپقہ ۔ انچارج ار ییئشن انگستان د ام کہ

سم سب اکن طخ ما ا ور از ا ہی ہی وا ای ی2 تہ تَحِمَدہونصلیٔ علی رس لِۂالکریم ا ا ری میں یہ ۶م رمق مجو و سجحج ہیر

کے

قوالناصر

و رو ے راب کے ا افرلیشین میس احریت کا سغوذ اور معاندین کیا جکائی ےر و ۱ - غقرمات شڈ میں ۱ گی لفطد کا ہے کے نے جو ۱ گر عال (لف) شش زندگی کے بتدال ام ہی رت خیزہ ال الثائی کا انعا, یح ات لت ای قادیان 002 یت یت ور ۱ می وی سے لا ات ۰

کت ا ا ری و و وو کا ا ا رش کا یی فراخت کے بع نیقی فلح کی اغیام دی وک گرا مکو را کا جج ہیں کی می ری ا و مشرقی افریقہ بالنویش نیردلی میں مزیرگر ری سی ,200 مناظروں او رجیکروں میں شرکت نیج باعل کا 01ج

۱ رت افریقہ کے یےتقرری ہت اتائی دی سالوں پتجرہ ...2ے إ رت مت از 00+ ۱ ول رر 20417 روٹی جس مناظرہ ا 0

کت اشاععت لی رکا خاش اجمام گر و ری تو تا "0ھ 2297

۱ موا نکی ترجمۃ الخرآ نکی طباعت و اشاعت 2000 ٣‏ ٰ0۳08ھ+7“ کیک ہے ۱ ماج دکا فیام۔ ڈبورا می رکی جار اور مسلمائوں کا مار و لوہ حا 424 ازم تواز جع فلت نت

میدسلام ۔ دارالسلام کی لیر جب وو 6مک سح نت سب حزاغیہ میس مساجد کے لیے زمینوں کا تصول ۱ اک44 پاکنتان کے لے دائھی اورم رکز ریہ م شآبر ا نے

کیا بش ساہد سا 142 رنہ جس سالانہ میں تقرریں ٦ى‏ 20 اڈ می ھا ۱ں ۷ی ےھ اڑا یں مساجر 144 درک قرآن شیک سعارت ا

"سی ی0 3 مرن جات ا کا

نت کت یر یکگکرانی

ہاور کک رڑکی دید الج ری

نت چری رکا گر اور ناظ راصلا و ارشارتعیم الترآن

انکتتان کے لے کترری

لرن میں آآم

مازو نکی طرف خصوصی وج من اسر کا قام

ادن می ں گیٹ پاوس کاتیام ي8س ٹربیت اشاعت لچ

بین الاقوائی شر سک اخبارات ے رااطظہ

مد نخارت جین

تادئی پل کانفزنن

ایک امم واقّے اور اسلائی گل نین مجر میں وثورکی آم

نول خرو کی تردید

یرب تپ یت طاندی وزیر داظہ کی آم علائرے الا ٹک باری غلاففت رابعہ کا انخاب

کا قیام اور یکرٹرکی شپ

--- ۔ے

مع نت 07 ن بیس یم انت شر انرن کت اک

نع ہیں آنری مم

یدن میں دوش

اعریکہ رداگی بے ایک خاش دثوت ترررالی

اتان ٤‏ )ً20 ے ری واجکٹنی جماعت کی شورکٰ میس پسلا خطاب۔ مواخات اریہ یس پسلا جع

ما کول کا دورہ

4+ اریکہ میس ساج دی لیر 22

و نت ان

ان ید کے تام کی خریک جماعت کی 7رت ڑا اتقام

دی این سے رابلہ

تربیتی گلامز

اریہ سے اع عام سے راب

یں مای غدات واشکش نعل ہونلس اعتاز مین شمروں میں مو رپ استتّالہ ماد کی تر ی ریٹائرہٹ کا ڑصل ا رین جاع تکی طرف سے عزت افزائی صفت خیفہ ام الرا کی قرر ال وت کت اد دنر جما تو کی طرف سے عرنت افرائی منظوم مانرات ریائرمنٹ کے بعد شرمات 22 غدبا تی کت طابرالقادرئی کے خیالا تک رو ڈاکڑ اصرا ری خجر بر تبھرہ مفتی آف میا یک تقید تر ایر ری اشاعت اسلام کے ام ا انل کی تق رکا رد مضاین ۰ 9" لو خلا ءکرا کی حوصلہ افزائی اور خوشوری زان ضلی ۔خطو

ہتم ‏ رْب ١رك‏ 65

یں لفظ سالوں بر حیط عالٹی چمادبالت رآن ارد یور رگذشت (دوست جھشابد مو رات یت)

7 نظ راب حکیفیات زندگی "جو علسلہ کے متاز اور نامور عالم و مجار کے رشحات قعم کا نہ ہے بظا ہر ایک پر جوشی دای الی ا کے ٹین الاقوائی مع رکوں اور شماندا رکامیابیو ںکی رو داد دکھائی دیتی ہے- ور یقت غلفاء اص بی تکی کامیاب رہڑمائی اور جماعت کے اخلاص و عقیرت سے لبری: تیم الشان کارناموں کا کیک یم الشان مرقع ہے جس کے کے سی دقت سیر نا حخرت ارس ض موعود علیہ العلا مکی قوت قد سیہ پور ی شمان سے جلوہگر ہے او رآ پکی صداقت ادد موید ین ال کا چک ہوانشان ے۔-

اس !جا لکی تی لکیلے ہیں ایک دی کے بل کر دی کے صوثی مض حخرت خواجہ مبردرد کے بنبرہ حخرت مرن صرنواب صاحب دہل گی کے اس مان کا مطالع کرنا ہوگا جو آپ نے جلسے سالانہ تقادیان ۱۸۹۲ء 5 *"0“*“0سھ2

فرایا- آپ اس وقت تک بماعت سے وابستۃ نہیں ہوۓے ےگ رقادیان ئآ مظاہرات نے بامور ربا یکو سی مکرتے پر جو رکردیا اور فور فراست و اصیرت ے معمور ہوکرا نہیں ے ٭1سال فی للکھناڑا- :

3

2

اک جس پر نس سے زیادہ شریف اور کیک لوگ بی سے

جن کے چھروں سے مصلمانی نو ر کیک فان دا یلا "یندا ر'سوداگر عم اض برتم کے لاگ تھ - ہاں چند مولوی بھی تھے گر مسکین مولدی- موادی کات ۲ 9 کی ما کک 1 ین مدگوکی اد بد عات سے ہچ دا لاصو یکہریت اعمراو رکھیاے سعادت کا عم رکتاے - .......چھلوکں بی سے ود رشت پکیانا جات ہے ازفا کی کنکوں نے نات پا ز رد یک وت ۲یئئک‌یی 00 ق3 دای ددبار نیس ہو کا ری رح جو الل تحالی کے نزدیک ہو مکنا امیا ہے اود جم کے دل یش الراذر رہل ماناری عبت یا کک کی کن وا رخف رے اق ےن فیا کے کالا کے سے کال نین ہو سک اور کاو زی دی سے 000 قایف 2یا علما ےجرد کی بد کا رخف عالف ررش رگد کرت چلاجا جا ےس لان داد و کےا ھ مرز ضا یک رٹ یس سا سا ا ےت دریا شش بن یاند ھن سے وریا 0 089 مو اک ےک مرو فولےگاا ود ثابت ذورت رزیا۔ کل روز پا کے نال نکی تیوک ہالے جاد ےگا آند می اورار

٢‏ 7 وو و

۱ :توچ ہصح روم ںسوووچھ رہ . ہش ۔ جو سر رج کی

90 -390999ة5ب- سمسےہم ووپوویں ررژے۔ہے۔۔ سے سے

3

ہےجہڈہ

کو جس میں ھت خودبی چتد روز مس عم ہو جاتے ہیں ای .٠ے‏ تے ہی ٦‏ موک ہر ے۴" اج بت سور مع شی سس سی یر یج موعور علیہ الللام کے وصال مارک کے بعد حخرت اق کا 7 ت 31 کے ہے ہر ا جج ا ا ا تد دا سے ٹیل الق راو ربز ور ےہ کے رجننموں تے خلیقہ وقت کے جاشار غاد مکی کے : کے پچ ہے تر ددسزی طرف حفات اریت کا سکہبزروں یں ٹلوپ ےسچیکتکات ہر طرف رآ ی انوارو یرکات ےکی ہے گے کہ رت ما موودعل" ام نے اپ وی ہم تھنیف ”نے سام می ۸ اسال قمل پر شوکت وینگدئی ذرئی 2 من ای درخ تکاس کے پچھلوں سے اور اس نیرک ا کی شی سے ش کے جے (صلحہ ہے بکو الہ زروعانی خز ای جلر )٠۴ ٣س ٣‏ تی ہلل پاے رام دن میس حفرت سج موعود علیہ السلام کے رت خائ ٤‏ شٹی مھ این صاحب کے لت کر مو شی مارک اتد صاحب ات ۹۳۲ ۹۹٣ھ‏ ہیں جو رت کی موعور علیہ السلام کے وصال کے قریأ مال ۵ اہ بعد بیدا ہو تے 7" ا تقر کپ انت رت ال

وووجتتتے

4

سے اللہ کے ثول ای ھا ملا اور دای جار یش وامانہ رک میں کر ہر

ہل اور ١ء‏

ٌ‌ ری ۸۸ مازل ےککرنے کے بادجود جوانوں کی لح ایت فرضلق

: ا ھڑعاو زا وا ںہستی

زر ب لکیہ کو پر چے 0 ات زندگی أ پگ ذددست قوت عمیہد اکر پر شار لق

تفر کاسوگودکے جاثا ردام مم سے ایک لا عیب ری ے ری نات اٹاف کے ما رین ۷اھت رن َ و و کک :7 ۶ کر من راہ ھت کون کے سو ںوہ سے گید کہ وعوت الی الل نات اع کین 5 ان ری ارہ ر‌ 7 ظ ہے دہ ای لے ہارے مقدس امام عام حور کے ں6 . ای جو 0 ا ہے دحوت الی اللر کی ین فرا رہے ہیں۔ چنائ "0 کرای کک ںار رت نے ا ےک َ کی رر ےک ا کا لکمانے کاستقم بھی ال تا کی کو امو ا کی نکی کے ہکا جو اس بات کی فا رر رر رجا ین

5

پرے کے لے جا ہے- اس عمیر کے ساعھھ جب دہکام شرو حکرے اب دیکھیں سے ال تواٹی کے ففل کے ساہ دی می سک سکثزت کے سات او رس جیزی کے سات وہ الاب پدا نا شور ہھ جا گاج سکی ہم تنا لے میں -' (خطبہ بجع ۲۸ فروری ۱۹۸۳ء۶) * را ھی بلا اش می سے - دو وق تگز رکیاجب چند نشین پ انھا رکیا جا تا- اب و یو نک و بھی مغ بنا بے گا بو ہو ںکو بھی ملغ بنا ڑ ےگا بہماں ت ککہ بب لیے ہوتے پیا رو نک وبھی سن نا بڑے گا او رھ خمیں و دہ دجاؤں کے ذ ریہ کے چماد میں شال ہو کت ہیں دن رات الد سےگرمہ و زا و یکر سیت ہی ںکہ اے نام میس !تی طاقت نیں ےک ہم پیل پھر تینک یں اس لگ بس لیے لیے تھ سے التاکرتے ہی ںکہ فو دلو ںکو رل دے --” (ظبہ جع ”ارچ ۶۱۹۸۳) ام دنا میں جیشہ یش کے لے آپ کےگیت گا جامیں گے - آپ کے ناموں سے م ر چم کے آغاز ہوں گےے- مو رخ ی ہکھا کر ےگاکہ فلاں احری نوج ان اس طر حکپڑے ےآ یا تھا- فایاب <2 ری نوج انس طرح یک معمولی جاڑت کے لے آیا ول وراس نے بے سے تب یلیاں پیر اکییں- فلاں فلاں گا ول شرب ”ا نے پدا ایا - فلاں فلا لگر جب پھرمسیروں میں تبدبیل ہے اور بے فلاں مار کے کارناموں کے نیہ میں ہے --........ ری جو ھنر ا نٹ ا نے کا طریقہ ے جج ند بی میں - مد اکی راہ شس چچلناہے نو جان مار کے

عت_| پھچ سو صصمٔسسسسو:

6

کے کت یں ا مر ری ا کے یں ور

کے و ا اہر ا کل ا زی کے - ضابی: دای بات بچھول جانین سپ نے نے سے فا نی ےپ ےون کی عو تاپ کو موں کا مردار ہنایاگیاہے - انا مقام فو پچائی ںکہ آپ ہی ںکون ؟ پر دیگھیں آ پکی وکیفیت ہی برل جا ےگی- ا داسمیں بدل جائھیں یت رما ں لمت بوڈ ن7م درو لکااخاق پر کرس ال نما یکی طرف سے آپ کے لے مقر ہو چا ےک آپ نے ان علا قو کو م رکرناے - انغاء ایل تال یٰ- ''

(خطبہ جے ٢‏ اگ ر۱۹۸۵ء)

باط دنا اٹ ری سے تین اور پاتدار لت مان نو کے ابھر رہے ہیں بدلل رہا ہے نظام کنا کید و ظفر تحعاتی خمیں خر نے اب انان یر نان ح و ظفر سے ککھا گیا تمارے بی نام کنا

آے

بسماللەالرحمنالرحیم نحمد٥ونصلی‏ علی رسولەالکریم وعلی عبد٥المسیح‏ الموعود

رت مال

ایک خعرصہ سے عزیزوں / روستول اور اعماب بماعت کا ماکمار سے مال ہد ہاککہ اللہ تا یکی دی بہوکی نوف سے اس عاج کو مت اسلام و اح بی گی نصف عیدی سے زائد عرصہ تک دنا کے چار براعنظموں میں وش لی ہے ان فدماتکااگرچہ ختزی سی لان

ا جھاعت اتی کے خادم ہوت ےکی حقیت سے یہ خخدمات علسل ہکی ا رکا ایک حصہ ہیں - جج نکو فو کرنا بھی سلسلہ عالیہ اتی ہکی خدمت سے-

٠‏ ٣ہ‏ ایک امات ہے اور اس امانت کااداکرنالازبی ہے اور ا کی ادا مگ ی کی گی صودرت ےہ النع مد ما ٹکو ہن کیا جاۓ-

۳ ان حدما تکی ادائگی کے ساسلہ می جماعت کے جن عخلص احباب تے مان تماون فرمایا ان کا جذزکرہ ن کرنا اسان ناشنای ہے اس نا۶ ان غدات کے ساتھ ان عخلصین کا ذکر جنموں نے عابز سے اس سی حرصہ می کی طرح سے ناو نکیاادر اپٹی اص اعداد سے نوازا اور دغاوں سے کھی ید دکی “کا ؤکر ضردری

ے۔- 0

8

ون وت وک بناء بر خاکسا رک زور دیاگیاکہ عاتز ان خقدمات کا گر ہکرے- سا رکو ابتداء اپنی تقی رخ دمات کے تذکرہ سے قاب ر- لان اجا پکااعرار اور گمراراور وجوہ پالا کے پیش نظرعاجز نے فیصل ہکیاکہ خاکسار جہماں ہماں سلسل ہکی طرف سے سلسلہکی حدم تکی انام دب یکییه مور رباان خدما تکااحاب اور خززوں کے شکریہ کے سات تی المقددر جماں تک یادداشت ساتھ دیق ہے ذک رک ووں- سلسلہ یں متر رجہ زی تر بھی جو صخرت موڑاتا لام رسول صاحب را کی نے اپ سیرت و سوا کے ان رات کے روم می مکھی ہے بھی خاس 2977ء و ےد ہے حقیقت يہ ےکہ سلسلہ عالیہ کے ان تمام دا مکاجو خفاء عظا مکی طرف سے مامور کے گئ ان سب کے عالات اور خر مات می کامیالی کااصل باعث جیراکہ خرت مولانا نے تیر فرمایا دا تھال کی خائص تیر و نضرت توی ہے نہ صرف اور ترک کے اپے اس بر گکی اس حم کو زیل میں ور کرنے میں سعادت گتا ہوں پلکہ اس لے بھ یک جج نقنشہ خاکسا رکااور حلملہ کے مقررہ خدا م کا انوں .. +-‏ ورنہ نماکمار اپنی ذات' انی علھی عالت ٴ اپ کت ویو اور اپ کرد روں سے پیورے طور بر آشھاہے- لیکن جو ہرکت اور سعارت نحیب ہ وق دہ جناعت کے پزرگ غظامکرا مکی تذجہ اور دعاٰوں سے ُی ‏ د رنہ مین آ ا داٹم

9

ر٢حٹ.ٹرط]َے.بببب_بسکےُےکےتسٹےس‏ سستکیسیٹیبسس

مک رم ہو ںکہ ان دا مکوجو سید نا رت اقرس سج مو عودعلیہ ااعلو ۃ والعلام ىا آپ کے غلفاء عظام کی طرف سے عسی کا م کی مرا خیام دہ کیلع مامو رج جات ہیں اللہ تی اپنی مات حیرات سے نوا ز ماس او راپ تی ا مرا ر سے ا نکی م دک ہے او را نک کامالی کے ساماع پا کر سے اور ان سے ان کی طاقت اور مقررت سے بد ھک رکام لیت ہے - جھے اپنی ز نی یس ا بے کگڑوں موا تع بپیشی آآے ہیں اور مس نے الد تھال ی کی نصر تکو آسان سے اش کی طرع پر نت ہوۓ دیھا- میں اس مںپ چتد واقعات بیو رعثا لکلے ریا ہوں-" عزی در آپ تن ےکگھا- ”اس عبد تق یر مد ا توالی نے سید نا حضرت سح موعود علیہ

سام کے نیل بے شا ر ا فضال د ہکات ناز لکی ہیں-- ان یش سے کش اج مارگ یا رک کی ساد پنی سے اد رض اج کی تیرکی جم کو توق حاصل ہو گی - مساج دک ابق ای حرلات (ادر مشن )نوس زکے قا مکی تحریبات او را نکی خر دکی سیل ) اسر نے کییں اور اعباب نے نمایت اخلاص اور فراغ دی سے ا نکیل چتدہ 0

وہ گر صب بل ‌ے- (حات قی) المدلل شم مد کہ اب اس ماخ تکی ادائجگ کی تی مل ری سے اورال

نوکر: سے |میر ےک ان ملس دوستوں کا مذکرہ بھی احباب کے علم می نآ کے گا

ہڑوں نےگمزشن صف صدی سے زائد کے حرصہ میس اس عات کو اپنے خاش

اس عاجز تق رادم سلسل ہکو اوہ تنالی نے مض اپنے ففضل سے ضف صدی سے زا تر عرصہ سے مات سلسلہ میں مفیرغرمت بچا لان ےکی تذفق دی میں اپ اپ رے لقن سے اععد گربہ بی بات سپرد

10

تناون اور دماؤں سے نوازا اور ان نحدمات کے انام دضیے میس انمول نے اچ فراخ حوصلہ سے االی اعداد سے بھی نوازا-- الع تحاو نکرنے والے اباب ٹیل مد ہی نہیں بللہ خو تین بھی اور میرے عرزی بھی ہیں اور نوج ا ن بھی ادر اک طور پ4 بے رفقا کار مرپی اور ملمخین بھی جنوں نے زمایت خلوص سے الن خد مات کے ساعلہ میں پررتک میں سات دیا-جزاھم الله احسن الجزاء-

خر می ماکسمار ان سب عمزیزوں اور دوضنتوں کش رگزار سے جنموں نے اس عاز کی گی شنہ نضف عمدی سے زائد کے عرصہ می دبٹی خدمات اشحام دسیے من امرادکی اور اب پا فضوص ریہ کے سخ ہی ںکرم مولانا دوست مج صاحب شاپ جننموں ے اکمار کے اس مسود ہکو تقد ىی نگ سے دیکھابڑھا نوک پگ در ہت کی- ضردری حوالہ جات کااصل سے مقال کر کے تحمدی قکی- مخ توالہ جات ازرم زا دکو شا لکیا جو ماکسا کی ضدمات سے نتلی رک تھے اس تقائل قرراداد نماکمار مولانا موصوف کاو شُ رگزار اور نون ے-- جزاہ الله احسن الْجَزاۃ

والسلاع

اشن اظر

حچی ‏ و پارک۱ھ

11

زندگی کے اب ایام

ہزرگ یرت ' تیک عفت نرائی لص اتی ک بنا ہوں- نام جن مبارک اھ جے- نماکسارکی پد ائنشی کے وفت چماں تک سوج ساتھ دی ے میرے دادا جو ایک نیک 'پابند صوم و صلوۃ اور پزرگ خصلت تھ - ا ن کا اس مگرائی شی قطب دن تھا-- ان کے بے کانام مھ وین تھا جو خاکسار کے واللد محتزم تھے اس نا مکی بناء بر ان کاخیال تھاکہ میرا نام مبارک وین رکھاجاے- میرے ماموں منزم چ الد نشی صاحب نے اپنے بڑے بے کا نام مھ علی رکھا ہوا تھا اور کے بے کانام اص علی- انوں نے اپنی بھن (ماکسا رکی دالدہ) سے ناکسمار کا نام میارک ‏ لی رکھنے کاسوچا۔- لان میرے والد مز رگوار نے نماکسا رکانام مارک اتد تچ کیا-- افمدللہ تدم تر ماکسماراس مارک نام سے موسوم اور محروف ے-

خماکسا رکی بیدرائشی اکن بر کے ممین میں ٭اج ر کو ہوگی- شی من ۹۰ء اور تر سال ۱۴۴۸ء تا رات من اور ول ی۱۷ رح یئ اد ضمان میس پیدائ٠‏ ہوئی- میرے والد اع دنوں یہماں لہ ملا زمت مئیمم تے- آپ پڈاریی ضرتے- صن افاقی سے اتی دفوں ددادر ای جزرگ اس شمرمں یلور پڈاری میم تھ- جس مکان میش یہ بزرگ رجے تھے اسی مکان میس میرے واللر صاحب کا تھی اع کے ساتھ رہنا ہوا ہہ دونوں اتی ضیل عو راسپپور کے رت وانے تھے ایک کانام خی سریلندنماں صاحب تھا اور دو مسرے بز رگ کا نام خی عررین“ صاحب تھا- میرے والر صاح بک اج ریت سے تخارف النا پردد

12

002 ہوا- بے وولوں ای سحالی بھی گے- الن دول تقادیان رے اخبار بد ر“اور اخار ”الم شال ہوتے تھے - مہ اخبار ان ایی احیا بکو گی آتے تھے میرے داللد صاحب بھی شوق سے ان اخبارا تکو پٹ ین گے - آہست جس ان اخبارات کے مطالعہ سے ححطرت ضیح موعور علیہ الاو والسلام کے المامات اد روف و ریا جو شال ہوتے بمت نوج سے ا نکو پڑت اور ان کے پوارا ہو ن ےکی اططاعات سے جو ان اخیارات میس ہین یں ان سے مان ہوتے- بالاخ الد تھالی نے آ پکو یہ سحادت پٹ یکہ ے *۹اء میں بذ ریہ خط عقرت چع موعور علیہ الصلو ۃ والسلام کی ہج تک بی - آ پک بت کا کر اخیار پر ر*' ٠۳‏ مار ے ۱۹۰۶ء صفااکالم ‏ ایس بج ان یل ”زسلسلہ حقہ کے نئ مم رھ وین صاحب پڈاری ض ماع آباد ضلع مان“ ہوا-- میرے والد صاحب تے ابی ڈائزی میں کا ے- فی زوین صاحب جوکو لہ اتفائان لع گور داسپو ر کے رتۓے

دالے تھے ٴ اج ی تے اور ہم میں سے شئی حررین صاحب نماز

اکن ران می کی ملادت رو زان کرت اور اشار ری

ققادیان سے ان کے پاس ٣٦‏ تھ- چجھے عرجو مکی بک یکو دس ھکر رخبت

پیا ہوگی اود مر مکی تُریک پر بی رت سکع موعو علیہ الصلو ‏

دالسلا مکی مد مت میں گرم ىی بیع ت کاخ ط کے ویا-

بمازمانہ مھیرے واللد صاح بک جوائی کا تھا آپ تے ٹل کا اسان پا سکرنے کے بعد پڈا رکا عفان دیا-- اس میں کامیالی کے بعد آپ کا تقر شجا آباومیِ ہو1- میرے دالد صاحب کے احربیت قو لکرنے کے تین سال بعد اکسا رکی پیدائش ہوئی-- اس حاظ سے نماکسار مفضل بدا ران ایی ہے - طالب خیال ےک

13

اس بناء پ مہیرے واللد حنزم نے اکسا رکا نام مبارک ات رکھا- میرے والد شا آہاد سے شع مان کے لف قصبات اور علقوں میس انی لازمت کے ساسلہ میس تی ہوتے رہے- ا نکی تید یی کے ساتھ ساتھ اکسا رکی والدہ اور ہے ماج ان والد کے برا ہکھوۓ رہ اور ہوش ستجھالے اور پانچریں چٹ سا لکی عمر یں داشل ہونے پر پرا ری کول اود ابدائی تیم کے سکولول میں ان بات مض زا بی رہا- پھ عرصہ لب جو ایک پرانا مشمور شمرہے اور ددیا راودی کے ایک رف آاد ہے اس شرکے ٹل سول میں بی اور دوسری جماع تکی تیم اص لگا - يہ شر میرے والد صاحب کاآبائی وعلن ہے پھربھ عرصہ بعد ریا آبادریلدے نیشن جو خایدال مان ریاوے کیشن پر ہے اس یش سے چند میل کی فاصلہ پر ایک قصبہلوٹھڑہے ہماں تک یادداشت اق بی ہے یمان کے سکول جیری جماعت کے ابقدائی چندماہ لیم حا لکی- اس پراتھری کول می ناب سلطان مج صاحب نائی استاد تھے جو میرے وال دحتم کے دوست اور ان کے زھ جو بھی تھے- اس قصبہ لوٹھڑ سے میرے والد نے قادیان ججر تکر جانے کا نیل ہکیااور طازمت ترک کرد ک- اس راد ہکی یل می اولا آپ نے اپے والہپذ رگد رک جھ ان دفوں آپ کے ہاں مم تھ اور خاکسارکی وال کو اتی ایی ہکا عبہ اپ ون جوا دی ان کے کھوانے کے بہد جس ققدر انور آپ کے ا وی بین ن کاب شگ می اود وۂ ری شیا ور فو تکزورن او گھ رک ملاز مکوجھ جا روں کے للے ارہ ٹول او رگھ رک کام ا نکر رے ا ]گر دیا اور لازمت سے اق دے دا- ان دفو لالہ رام تھی کلکز رت جو دالد صاحب کے اضر تے انمول نے والد صاحب ے ہگلہ رشبرہ امو کوٹ میلا رام ےپ کیا ”ٴپھاروزگار ہیا دا“ رو زگارتڑک کریی

14

اور ا عق دیے سے عکیا--'' والر صاحب نے ااع سے بی ک نک رما ”آپکاظدا تنکمرام والا مرا اور مرا 2دا مرزاظلام اھر قادیاٰٰ دالا خداے --'' مزیر والد صاحب نے اہی فی جوش میں انییں لیکھر وم کے تلق میں سماری جننوتی سنائی او رس رح پڑدی ہوکی بے مار داقعہ سناکر اخٗین لن کی اد رکناکہ مرا را میرے لے ہنرو زکا رکا نظ مکردے گا--'' انشاء الد

وا صاصہہکوتغ کا مھ قا وروش ھی ٹیس آپ کیرک

عو ری ہار ےگھری ا نکو دیے آتیں- مرذاگی کییے ہوتے ہیں - یمان یہ کرنا بھی مزاسب معلوم ہو ےکہ جب لوٹ زآپ پچھوڑنے گے نآ خری رات دالرصاحب نے خواب دیکھا ”نیل ان ذیلبدا رکو یہ پیا پچنچاگرجاؤ" اس خواب کے ذکر کے ساتھ والد صاحب تے اپنی ڈائریی میں کھا سے -- ”اعم الفاظ اد کم رہے لین خواب کا مطموم توب باد ہے '' پچ رآپ نے وہ موم رر گیا ے- لن فل اس کہ خواب کاجو ملموم انہوں نے مچھا اور در کیا دہ یماں کھوں پت پیل خان صاحب زیلدار کے پارہ میں لکنا ضروری معلوم ہو ے- 7 9“ ۹۹ ی۹ س'" انار لہ رپائ یکیلئ تی کیا ہا اط جو یھ ی کوئی اض یمان ای نکر اکن اس لہ میس ہو تی کسی نار یکی وج سے سی دقت دہ نقادیان بفرض علاج گئ اور خحترۓ غَلٔف١‏ ئ الاول یرنا رگ ورالان صاحب ے لاب عگروایا- نیل ناں حضو رک ما زی بت بی ذک کر ور آپ کا منوع اضانع ہوا کا ھی اس وچ سے میرے والد صاحب ہے اس کا صن سلوک اور بت کا رو را جب والد صاحب لوٹھڑ تبدیل ہوکر گے نو ہمارے لئ رئیش کا ظا مکیا-

15

بج کاذکروالدصاضبثنے ای ڈائرکی می بھ یکیاے- لو زپچھوڑنے سے پل الد صاحب نے جو خواب دیکھی اور غاب میں سے

رایت بوئ یک ٹیل غان ذیلرا رک ہیام بن چاکر جا اس کا مفموم والر صاحب نے

اپئی ڈائری میس ککھاے:-

اواب کات معلوم ماد را دہ بی تھا صجرے ہرذافلاع اھر

قادیالی نے جینگو یک کہ میرے ہاں الیک لڑکاپیرا ہو گااس کانام مور و گادہ جلد جلد بد ھھ گا- مرزاصاح بک وکیا متلوم تھ کہ میرے ہاں پا ا ہد گانا بھی پا ہوگی - گرا نک وکیا معلوم کہ میس ا س کی پیا ہی تک زندہ رہد ںگااد را کانام مود رکھوں گا پھر نکو ا" "کی نے اداد نک وو مل جا دع گ- پچلرانوں ن ےکھاکہ دہ فل عمرہوگا- ا نک وکیا معلوم تا کہ وہ لیف وگ اون ےےکھاکہ دو اولدالعزم ہ وگ ا نکیا معلوم تو آا زور ہھگایا پناذ رہن گا“ یا کہ دا بڑے پٹ ا رارے الا ہو گاادد پل رکھاکہ دہ دنیاک ےکناروں تک شمرت یا گا.۔ ان کوکیا معلوم تھاکہ دو شثرت پان گااد ردنا ےکناروں تک بھی جا ے - دو صاحب شمان شوہ ہوگ٠-‏ ا نک وکیا معلوم تھاکہ میا بنا تی شان 0000 دوا تل ووگا- ویر دخ نی سیب ا یں جو قداتقالی نے مرزا صاحب پ لاہ یں این سے ملوم ھ تم ےک مرز ااح بکاخد اتعالی ے خاص تعاق بی _*

لا لاحب سے بیس تناک ر نیل خماں ات زیانز ار ےکرا:-

پچ نے قادیان بھی دمکھا ادد مرزاصاحب کے پیل خی کو

'ٗ-_

: 16

اض ای سے وک جی ر اجب اپ ہہ سد ے ٰ ٣‏ ری سس 0

ا ہوقی او رٹم نے این نہ دیھا اد کہ اس کے کے ا ےم کر لت و

صرح رو تاس وقت خداقا کو وک کت ا و ا لّٰ

پکیاجو اب دی گے-” 7 والرصاحب ات ڈائی ئل جۓئیں:< رت سے کن میں ٣0ے‏ ی رر ال رج اس مم ے جار ہوں-” و ا ا اط یں سے یز بے معازس سے او رکا ئل پت ۱ 2 وا ہے ے : : ایس بی 7 اور ساحب محتزم نے زییدار صاحب کے ا با نکی تد قک ادد انا و ۰ تپ ڈانزی می ںگھا:-

انموں ے میرے ما ۓ احری ت گا

کے ھا بھی ررست- پت کااظ ما رکیاتھا-ڈ ٠‏ : اذفت ااضار بج 3 ا ک2 نے مواسے معلوم ہو ےک وا رصاح بک ڈازی ے اعت ەل بری میمت ماک یی تد رفک رکردوں- را ہو تشیاع آیاد

و تم

17

"ول ال2 ا کی ذفات ہنی آو ز اکسا رکی م وضع وج چا: میریاں خاں میس تبد بی ہ دگئی - بیماں قریبآ ذدسال رہا- " عزیزم ش خلا شحھ صاحب ج کہ میرے والد کے مشیرہ زاد تھے ان دنوں سی بھی والر صاحب کے ساتھ رجے تھے - مالسا رکی والدہ اضر بیت سے ناجنا خیں بل الف ابن کیلیے شلام مھ کے ذ رجہ والد صاح بکی بل ہکتب اور اخبارات چو ری سے تعلقی رکھتی میں - نبری نالہ میں لوا دیق یں ٣‏ والر صاحب ان ارات او کت بکوپڑ شن نہ پاگل - اس ملا سے تید پگی ہوکر خائص علتان شرٹس ھ خحرصہ بیرون دزوازہلوہاری ین رہے- اس حعرصہ یش جو آپ تے ریا دیکے ان کا رآ پک اڈائزی سے تا ہے- آپ کے اپنے الفاظ میں ا نک یمال درر حگردیتاہوں- ج7 ئک مق مت ضا اک یکین اس کو زور سے دبا جا تھااور ذہ ھٹا ہو نایا یمال م ککہ اص کا حم جو رلشم انرم تھا رگوش کے قریب ہ گیا اسے دبانے سے میری خی کھ لگئی او رج دکی نماز یی - * ”ایک دفعہ ایک فرشنہ نے میرے پائوں چپ ڑکر جج ےکیٹ لیا اور ٹیس خحصہ میں ا ٹھاکہ ا پک کر مار وں اس وت مہرے م ران ےکی طرف ےگ کی ىی آوا زی ت مکیوں ملمان نی بناتے اس پش یدار ×ااور نما تر اراگی-" ”رای ایام میس ایک وف ہکشنی عالت میس آ سان پر بے حضرت مو عو وعلیہ الصلو و السلام ین شکلوں میں دکھاۓ گے -- ا ول سر پھ لگ ی کاصافہ تھا- چاند ک ےگول انز حضو رکی شکل کات یگئی جو

1

اب

ون

18

ان کی تی رن کی ان اکب میلو 1 یک حیمائ سی شل ںی جو پر پپلون پنئے ہو ہرس گھ ےہ ١‏ پر شل غاب ہوگی اور ایک ہند وک شمل جاند میں دکھاکی دسے ' کی - مر صافہ دا ڑھی منڑی ہوک یی -"

ار صاحب اتی ڈائری می اس خواب کرک رک ےکھت یں ۱

دیحوت ایاج

اشززں نے ایک فو ڈو رکا جو ححضت یم مو علیہ دا الام می دی ریا تا 777 س0 2 ےی اب ا ا سےا کچ کاو

ریاوے یش نکوٹ میلا رام امعروف رشیدہ سآ“ انا آپ ردعال

رےے۔ اس میک کا ؤکرکرتے ہوتے والر صاصب نے لھا

و ا و یک الاول کا سناما- واقعہ بر تھاکہ نخرت مولوی ور الج صاحب ۶-0 ٴٴٴ00۷*9+ھ۶0 ےی یک یر کے و کید روہ کی۔ تو نے اما ابی جیھت کپ ٹر

19

2 2 2 و شا صاحب براوز ا مغزصیر مگاۓ شا نے (جو اپچپنے بڑے بھالی سیر عزانت شاہ نا کو فرض عاح تا دیان نے گے تھے اور جضمور امن "ار کے معاغ جے) جو رکو تین اشرفیاں سن ےکی شی جن پونڑ آمست سے کینوا وج - تضمورنے اس سوا لکنند ٥ک‏ بلاکر وی جیوںن پونڑ اس کو وے رج - سیر عنایت شاہ “سید منگاۓ شاہ “سید صرورشاہ تیوں بعائی موضحع ہیل والا کے ممول زمندار تھے - نیراجری مان جے۔-* ایک اور واقہ ہشگل ولاک میرے والد صاحباتے اتی ڈائری می ںکاھاے:- ض ہش والا میس امبرخاں بلورچ نے تھی ایک واقعہ رت غلقہ ٣‏ شی تمیی فور کے انا کی ات ان مان غا تہ می رہتا تھا- ین نے دیکھاکم ہروقت اذائیں ہی یی" انا ہما رون مین سال وو نے سے اور کے نی قادبائی احری ملمان سب جٹ بیو شاک کے ہوتے تے - گے ایا معلوم ہو تھاکیہ ان لوگو ںکو سوا نم زمی پڑ جن کے او روگ ام یا

یس اکیہ اوہ ذک کر کا ہہوں لو ٹھڑ کے قیام کے دو ران والد صاحب تے سا زمت

کے کے بر و مخ پھر ٹاو رکا وذ اور درخواس تک کے سے اسعفی دنے دا اور تقادیان گے گے - مہ عالات ایتراء ۱۹۱۸ء کے ہیں-- والد

٠ 2 2 2‏ عو رنے فیا ا اہن دقت ‏ ا ھا نے ادن جانے سے قیل حخرت خلیفۃ ا سج الا کی غرمت می خ

فور وین کے ا سبھھ میں ین اللہ تھی آپ کے سوا نکد چا ا تکھاکہ قادیان آنا اتا ہوں ادر بی کہ انا سامان گاڑی بش ب ککرن چاہتا ہوں-

کر کل رو ےکہیں سے مور ےگا و رآ پکی ضرذدت بدا لاس کے نام می ب ککروں- حضو رکا جواب پشام مولان عبرل تیم صاحب یرجھ ت ؟ب۔ ۱

20 ّ۲ موصول ہوا رز جواپ ۸ فروری ۶19۸ کاکھا

ا ای با کے نام کوا دی 'کھ رک ے تھے- والد صاحب اٹیڈ انرک جم

- َ ۹ ِ ١ ٰ ۱ ۱ ۱ (1

حضور کے برا تیویٹ سارٹری تھے" ہوم تا ہغشی عبراگگکریم صاحب آری "والدہ“ج ادر میرے وادا ‏ بہ اک کا ا

,یب رر ور ہے

8ءء رر وس وت وت ٰ 7 فا ات رر کہ ۱ 7 یت رت ٤ ْ‏ ح" رر ا 12 ۱ یا بے اکر در نیشن ناشن ایاج کر ۱ ۶ و سے بد ۱ نے ےت

ےج کنل کی تی و میک اخ اتا لمج ١‏ کے سات معلوم ہو گی ہے-"' : بی ا :

حخرت گی ھردبین صاحب سان مار عام صدر اشن اصدے (بیعت مار 1907ء ات24 بر1968ء) آپ سلسلہ اعد ےک ایک فدائی شخصیت تھے تادیان میں لگ خانہ ادف و وآف زی ز'بہشتیمقبرہ اظارت شوۃ وت اور نار ت امور امہ یں س مگ ر مل رہے او رخ میں طویلی عرصہٴ تک صدراشن اعد بی کے مار عا مکی حیثیت سے شا ندار خدمات اضجا مد یں۔ اح گی اجمرکی ہما ہی نکی آاا کی اور رکز ام بیت۔ رہد ہ۔ کے قیام جس جن برکو ںکوحضرت داب شجردین صاحب کے دوش بدو کا مرن ےکی سعادت طعییب ہو گی الن یس مرذرس تآپ تے۔

کا جو اسیممس وسسمٌٗسسےکےکسمٗکسک-

21

قادمان شآم

ال تال یکی خاضص فصرت سے والد صاح بکی تنا بی ری ہوگی اور قادیان کچ گئۓ- قادیان کر والر صاحب کا زیادہ نا جلنا اور اٹھنا ٹیٹھنا رت کی موعور علیہ الصلو ت والسلام کے بی صسحابہ کے ساتھ تھا با فصو حضرت حافظ عاعر عل ‏ صاحب ادر حافظ مان الین صاحب کے ساتھ - والر صاحب بت وماگو تی - اللہ تعالی کا فضل ہوا یھ عرصہ بعد مگر غانہ میں بطور ارک آ پکو مقر رکیاگیا- پر رہ روپ ماہوار اہ مقر ہوئی - ممیرے والد صاحب کا بست با قاعدگی سے بن ود ر کہ علادہباہدار چند ہو کے تضور غلیفۃ: ا الا کی خدمت می ہراہ اتی طرف ے ایل روپ راہ ججثواتے اور یش اوقاتٹ گرے مارۓ کارکوں کی طرف سے نذرانہ اکٹھ اکر کے تو رکو مات - پییشہ ان کا یہ مان اچتمام ربا اپنے بچوں اور عمزیزو ںکو بھی اس طرلققی کے اغخقیا رکرن ےکی جکقی نکرتے رہے- پل والد صاحب ایل قادیان آے پلتھ عرصہ بعد نماکسا رکی دالدہ اور بم بھی قادبان تی گن - یہاں ہہ وک رکرنا مناسب معلوم ہو ےک نناکسار کے بانا حم ٹن م رٹیم صاحب مرجوم دمففور نے دو مرے رشتۃ داروں کے دعس اپ بئی انی مار ی والدہکو اص تیب دبیکہ وہ اپنے نماوند کے پا تادیان ہی ٦‏ ھ2 رش دار واللر صاحب کے اجد یی ہونے کے باعث بماری والدہکو قادیان جائے سے روک رر تھے آا ار والر صاحب دعاکر کے سے خاکما ر کی والرہ گی

۶7

22

۳ 2 نارمان آجاٹں- رشن وار ا سکوشش میں جھےکہ غناکسار کے والد صاحب بی

تا نکو چھو کر والیں اہ وط لے ؟ّھی.- اس مقصد کے حول کے سے رشن وار خطلف جلے اختیا رکرتے رئےس این سلسلہ میں ایک وقعہ حمبہ سے فارے رشن داروں نے وال رص کو طلاع کوک یک آ پک یی سعیرو غوت ا ا و ا کس کا ا صاضب سے ررخواس تکرتے رسے روہ جنازہ بڑھائے اریہ ہو والا طتاحب جو مان میں گ اہو نۓ تھے خواب دیھاکہ یرہ مار بین “مان عانہ ےی دی لک اہ ید ا چا سی ین ایک :وت اور زشن وا رم شش رح رصاح بکوخ لگ کرد رات تھں چس تا در یا می سے جے اطلاع دیں<- نیش شر طاحب علیہ گے انموں نے دیھاکلہ یا ری ہے“ نا انموں نے والرصاض کو کک ھکراطلاع ذ یک بنضل ؤر ا سیرہ ےا نل ا یا ےت رہ رپ

7 ۰ھ 0 یھی بر ایں بای ڑی سے نس میں ملف لو کے کول ہیں اور مار دالدہ یلو نںکرکنا انی ین ئن خواب ال صا ب کو ین تک ھا زی داد بی ص- 9 مم یع بد جار ی و جاد ان لین اور ای کے ور ےکی مور ہو سر ںا ازرم گار جے ران ناف 97 پی و و ۹٠١‏

23

اشنا وو کے اوج والر ضاح بک گی مور حفہ ویج پل رآ پک اولاد کی شقلف میں می سکئی.- میرے عزی: بھائی تل اح صاحب نک کے دو ران ای جئ - ذوسرے عزی: بھائی جع نور اض صاحب پاضل عمالک عرب اور دمشق گے اور خاکمار مشرٹی افریقد کے علاقوں می سکیا خاکسا رکی والدہ ان مو ں کی خلت ٹون سے مع ہوک ی ہیں - وم رد

لو

قادیائن مس م سب کے آجاے بر اکسا رکو والد صاحب تے تل ال ملاع پ1 ۷را و گی بھی اس کے بعد چو ھی جماعت میس داشل جوا.- سی کلاس پائی کول کی ارت کے ا سکمرہ یس گی بھی جس کے بائیں طرف پا یک یزاون کے اس بجی وض تہ بیج 3 ال * نے ابلور مع نار گجوایا ھی جخاع کی کیل کے بیز والہ گور نے خاکسا کو درسہ اتی میں داش لکرایا یرس اریہ خحوضصی ورپ زی تیم کے حول اور فی اخرا کے فا مکیکیھا۔ برس اتی یں ہمال تماد ہے پیل مولوی فا لک یم دی جا تھی بعد یس ۰٢‏ می ۱۹۴۸ء کو ےک ام ہوا یٹس میس پے دو سال مولوبی فاضل اور بعد بش وو ال تخب طااب کو ںکو بطو ر ملغ ری کیا جا تھا بررسہ اعریہ میں خاکمار کے انیس سے متروف اور بزرگ مخالی رم مولتی عبدلرن صاحب نٹ م0 ضاخب اود کیا عرصہ حخرت مولوی جم احائیل صاحب پلال پا ری اور نضخرت تاعی سید ار مین صاحب اور حر ا ا

24

صاحب کے علاوہ ردار عبدال رن سال مھ تھے مہ سب بزرگ تیگ ' ٹر نوا اور ججررداسامزو تھے ا نکی زم رمگراٹی ماکسمار سالماسال مد دس اجحدبہ یل 0 اص لک رح را پچجھ عرصہ بعر رت حافظظ مرزاناصراضر صاحب ھی مد رس ار می داقل ہوۓ- ناکما ر کے کلاس یلو تھے - مولوی فاض لک لگرىی مل ے اب انیو ری سے حاص لکی-

بعد ازاں پزریجہ اخاب ناکما رک جامعہ ارب کی مجلشی کلاس میں داخلہ طا- بی اک کیہ کا ہوں جامعہ اب چچار سا لکی تی مکامرکز ہوگیتھا- کن جامعہ ای : سے بن طلیہ نے مولوی فاضل مک تعلیم حاص لک ری شی ان کے لے اب دوسال : کا حرصہ صرف ججلفی یی کیلع مقرر تھا-- اس امظا مکی وجہ سے بد رسہ اعد" ۱ کے لپلض اساجزہ جامعہ احریہ می پر وق مقر ہو او عفرت مولدی سید جم : سرور شاہ صاحب رکیل 0 ور پے مقر ہوۓ اور وو سرے اساتزہ فخرت ١‏ مولوی اساعیل صاحب لال پر ری“ عضرت میرسید جھ اححای صاحب' عفرت مولوی اربمتر نال صاحب اور رت عافظ رونی مل صاحب کے علاوہ نضرت عافط مبارک اض صاحب اور حخرت ممولوی مھ بار صاحب عارف بھی تیم دی کی غرض سے مفرر ہوۓے- مہ ایسے ہز رگ اساجزہ تے جو جامعہ کے اوقات مل تعلیم رین کے علادہ ات یں ا یں کی کے ا خوب ماد سے تضرت عافظ روشن علی صیاخب ایل دفعہ بیار ہو و اپ ےگھریں چارپائی بر لیے ہوے فقہ کاسیقی دیا- ریہ سب کے سب اساتذہ بے عد ہعددد تر نوا تھے حطرت مولوی سید ھھ سرور اہ صاحب گی بلاناظھ جامعہ سے پھ اور بھی دوسرے اوتقات میں اب ےگ با کو تعلیعم وپ کا امام رکھت- الد تما ی

ان س یکو جزاء خردے- ان سب اساتزہ نے خوب ٹوپ اپنا فریقہ ا جام دا -

25

جامہ حر کی ملیف کلاس سے یو کے مس تر وو وں کے انروإ کے ریہ آ رہ مغ نے والوں کا انشردید لیا-- خاکسا ری آ شرب کلاس می ول ططاب معلم تے.- آخری اصتحان یس تین کامیاب ہے ویش جم می عبرالقادر صاحب سالق سوداگر مل اور ماکسمار- انردیو بیس بی کامیاب ہو ہے ان ونوں مبلتین کلاس کے طلبا مءکیلنے ضردری تھاکہ دہ پ رمنمون کے بر چہ می سکم ازم ساٹ فیصدکی خ لیس اور مزا نکل مس بھی خماص نببت سے یر اضصل کریں- آنری کلاس کے من اس سال نامور سکالر اور دا ور رگ تے- ناکما رکویا نآ ربا ےک مقالہ کے صن حفرت ڈ اکٹ می مھ اسم ایل صاحبٴ تھ۔ 1یک تڑفی خا کے معن ححفرت مولانانشٹس صاحب تے ای طرح روسرے مضائن ادر ول ہے بھی- متقالہ میس نماکسا رکو ٭٭امیں سے ۸۰ نہر سے اور تجلبقی خلا میں ٭٭امیں سے ٭ہ٭افیرنے- ولظد ا مد

یی ڈ ااخت کے بد خجیفی ف راک شک اضعام دہی

فی پک لی ضنری ماع سے جب کامیالی سے فراخت ہوگی نو ہندوستان کے مخلف علاقوں ادرشروں میں تقرری ہوقی دتی- یادپڑنا سےکمہ سب سے پل لرعیانہ شمرٹی نظارت دعوت و تحلئغ نے مماکسا رکو بطو مغ کنوایا-- لرصیانہ ٹل زاکما رک تام زم صون سیر عبرال رجیم صاحب جو ان دنوں جماعت کے بتزل جرٹڑیی تھے کے مکان بر ہوا- وہ ریاوے میں ملازم تھے حقرت سج موعود علیہ العلو ۃ وال سام کے 1یک منص صھالی ححضرت عنایت تی شاہ صاحب کے بی تھے - لہ ویکفغفیلڈ گج میس حخرت صوئی ام جا کے مرید اور ان سے اص عقیرت

نے ا رپائیشی نشی اور امریوں کے بھی ممدوگھرانے تھے ان

26

ین سے ایک ذوست میاں تر عم صاحب تبل سا کی مشور و مروف شخصیت شی الا اوز عم کے لوڈ رجنٹرڈ جلر عا و جن ون سے حلومعت کے ر یرون اور 1 کاو ںکی جلز بن دی کاکام ااع کے سیر تھا ان کاا بنا مکان تماجو دو ضزلہ تھا شام کے وقت پالا مان کی چمت بر خجبتی مجمہیں موس مک رما مین فاعم ہیں“ ان کے ۱ بس ٹیے میاں غلام نی صاحب اذر صن مھ صاحب بھی اپنے پاپ کے کام جلر مازی میں شریک تھے ش میں ا نکی دوکان بھی تی ا رخیانہ میس قیام رإ الوم روزازہ بعد نماز قرب میاں نوز مم صاحب کے مکان لا تھابقی مالس کاانعقار ہو:ا را روزانہ بب قگوگی نہ کوئی خی راحری مولدی ما اع کے ۱ 3 لب شیک ہو - ا تھی طرخ یادے او راس دقت ااظار :"ا سان سے غکان کے بالا ان کی ادی رکی مت پر اخیاب اپنے اور رق ہوتے اور سوال وجوا بکی ہہ مجلس قائم نہوکی - ڈڑھ دو ماد تک نے علسلہ جار ی رپا یش ۴ ادقات اگر بے اس مہ کے مس دی ہو جاتی تو ویکغیلڈ گن کے نوجوان لپ لے کر شام کے وقت صوقی صاحب کے مکان بر اکر جھے نے جاتے ان نیقی الس کی وجہ سے اور لیا عرصہ کے قیام لد حیانہ کے باعث اس شر کے اج ری احباب ے پ افو س گرا تتلق موانست کا را ہہوگیا۔ ان دنوں ماسٹر کت لی صاحب ل١یج‏ ذہا نک رخمنٹ کول میں نی رت جماعت کے پر نٹ تھے رت کا معز علیہ لصاو واٰسلام کے ایک مصحالی رت خی امم وین صاح ب بھی ان دنوں الی رکوغار سے ححخرت نواب مم علی ماں صاح ب کی طلازمت سے فارغ ہوکر ارعیانہ میں میم ہو جے تھے عالم تھے- لمت یکتب کا ذ خر ان کی ما ر ےکی تھا جاعت کے خلا ف کسی مولوی تے جماریی مجابنفی ید وچی رکا شعرہ مز نک رحطرت کی موعودعلیہ الصلو ‏ والعلام کے خلاف اشتعال اگ تقر یکی اور آپ کے خلاف

27

7 زانی۔ حضو رک یکب سے لن مو فکو غلط انداز میس بی یکر کے عوا مکو ڑا امن سلسلہ می اکسا ہک وکسی سابقہ دی اور ہز رگ کے کشوف کا مطالعہ گرۓ اور ضروری <الہ جات کی تلاش کی ضرورت خی می ا یا مولویو نکی اشنتعال اگری:ٹی کاجواب دیاجا گہے-

زاکسار رت شی ام وین صاح بکی خدممت مل الع کے مکان ب عاضرموا- اع سے ا انی آی کی خرض ائی- اضمون نے فلا مد الج اع رتناب وین کیل ھکھا- ایس کناج کے میا لع سے اکسا رکو مطلوبہ حوالہ مل گیا خر امربوں کے اض کے جواپ میں اس حوال کو شا ئ کر کے ان کے اشتتعا لکو دو رککرن ےک ال ید کامیاب صتی گی وف و ریا کی تیریں ہوقی میں- عخرت کک موعوز علیہ الیلام ک ےکن فک بھی تی رحھی٠.-‏ امدللہ اس جواب سے شرفا کو لی" فا نیت ہوا:؛ و تاعت کے اب کو خا مسرت- لڑعاذ اک احاب اس بی جدوجہد سے جو روزانہ کا ایک دستور بین چکاتھاادر سوال دوجواب یں ے نا سے متا تھے- حرت شتی اج رین صاح ب بھی ؟ ان کے اواتے ٦ء‏ مفھالن مم نخان ہے !اة ناشن بات ےدک کیا ہزرہ ہے حفرت خی صاجب کا خاکسمار سے ایک نماص تعلق ہوگیا۔ اس تل کی بناء ایک دن انموں نے جج مالی رکو لد سے آ جانے اور رت نواب مھ علی غاں صاحب سے انی تاد کے معالمہ میں جو تنا زم تھا کہ میس رو زا نہ حخرت غلیفد* وت شض فوا صضاحب کےامعحلق :کھت ہوں جس مین ات "/ت وت تا زی ذرف اس کرت ہؤں-تاز کے تلق یں ایا کہ ان کے سا جو لی معابرہ ہوا تھا نس کے مطابقی انیس ادانگی نیس ہو بی - خط میں اس کا ذکرکرتے ہیں - خاکسمار نے ان سے بے نکر حجرت اور

28

ینا کنا کی ہم خاکسارکالہ نا نے اق جات عطای لن ےس سپ سکع ٹکیا آپ ہدرگ میں- می آپ کے کو ںارک ہونا ت 9 2 7 آآب حقرت واب صاحب ا تی ہے ےو مر ا نے ہی سن طرح رت نواب صاحب بزرگ حا" حطرت سج موعور علیہ السلام کے مقر باصن حر نشی صاحب چھے آپ کا یہ خ کناچا یں لگ آپ پآ ج زی ےپ طریق ین ےک آپ و رکی خدمت میں جاک زی اپ اما لی و ری رر رع جس سےمتحلق خی کیا جاک ہکس مد کک درست ہے پا یں می عرش کردا ا کین ہج سے بن قکرزیں- ال تزائی حفرت شٹی صاضبکو نام ترک 7 ٣٦۳۷ك‏ و رس اس عر ضکو قیو لکیاادر یح ہے ویک بنزش صاحب'اکرچہ خاکساد گر میں ؟ تہ ہیں ؟علم بین ان کے متقالمہ یش یں ایک ادف خر ھ_گکراضوں نے خوش لی سے اکسا کی با کو نائی یں پک قو لکی- معلوم ہوا اس مال کے دل میس نات مار نہیں مہ دای ہے جوا کی بات کیک بات چوں چان سح زا قول کر ے اچ نون رت خی صاحب ضور ید اشنا 2 رر و را 70 ی یب و و وف موم کی ورتی اور ھا کی صورت پیراہ وگ

رس ملا قات میں حضورنے لرعیان میں جماع تکی سا او ریف یف سے

29

]یں بھی ان سے دریا تکیا- جس بر حرت شئی صاحب نے کہ دل سے یہ ی۴ ضضور ای۰ 'وجران ہمارے ہل آ کل آیا×اے - ”یبا رک-"رن ات بھاعت کے احیاب اور فوجوانوں کے سا تم لک یی مسائی میں ممروف سے روزانہ ججلینی مالس منعقد ہوکی ہیں-- اجحری احاب اور نوجھان خی را ھی وت ان بیالس میں شریک ہوتے ہیں اور سوال دجواب اد رکش ایل انداز ہیں وی ے- حقرت خی صاحب نے بڑے ا انداز یں لدمیانہ میں می ۱ ہیس یہت ات وک وی مھا حائیل صاضت بلال پو دی اذ جخریت مولان علان کب چو جس پوس جورت سے فماا-- اللہ تال ان :رو ںکو اپنی رحمت سے نوازے انول نے بھی میرے یارہ پچ ایس پچ اذ جخوری خوشنودی کاباث ہدئے اس موںع جنر ساب سس فا مار ککوی س فی بھوائؤٹا* جرت ضٹ یآ مھ دیع صاخب کے اس وک رکاجو اث حضور بر ہوا اس کے تلق میس ے٢‏ دب رجلہ : حالافہ ۹۳۴۳اء کے دوران جضمورنے انی تقر می ناکسار کے یارہ مندرچہ ذیل الفاظ یں کر فہایا:- د۵ نے مغ جھ بدا ہو رس ہیں ان میس بھی اجلے نوج ان تل رس ہیں- مواوی مج لیم صاحب ایک اجچے ملغ ہیں - مولوی مارگ ات صاح بکی تا بلیت اس سے پل معلوم نہ شھی اب ظا ہز تی ہے ہار جماعت میس ایک صاحب ت جو اب فوت ہو ںوہ جن کے متعاق حہ جن یکیاکرتے تھے تھا کہ عافظ رون علی صاحب مرحم کے متتحلق بھی کلنہ چٹ یکر کے تھ - اب

30

یں ای لیا وت وی سے < یں کان ۰0 پچ

۱ س توب زرعیانہ شر تق میں یئ اس خوقع ر ضردری معلوم ہو تا کم 7 لے سس ہج کے کہ ری سوہ ,>> رر روہ سو سے وا کے ا و فی ۵ رہ یی یہ ا 7 18888+ و ۳ ا رر تپ ےسا شر وا جب الا ظما “شا کیا٠‏ پا من وکا

موگورو : اض نے اع کا ماع تا میں حضرن اق سکو زبروست ران عقیت ۶ ھ0 : ِ رم سو 7 و 2 ا ا ا ا پت نل ۰× جون۱۹۳۱ء ص۴۵م) ۱ ۹9۹9۹ 0

ری و سے را کال اکا

بے بوتہ. اس بات سے نماض خوشی اور سرت رہ کہ ام عات کی نقردری 1

31

ابی جدوج دک آغازاس شمرے ہواجمال ہمت کا آاز ہو|- وڈ ار

ماکسار نے اپے لئ این شمرمیسں لقرر یکو مبارک فا لمگردانا- متودد عرتہ دارالبیعت میں جانے 'نمازیں ادارنے“ذکم ال یکمرن ےکی فی پاتا رہ لد عیانہ سے سال کی ت روایات وال ہیں - حخرت بی مو عورعلیہ العلام کا یماں تیر مرحہ قام ‏ اشتمارات ' طباعت کا کب رن احربیت میں نمایاں ظورے بایا جات ال پان کے نف احیاب س گرا تلق رہ تی کک کے بعد میاں فور مھ صاحب کے نادان کے افرادہاکستان آک اہو ر میں آباد ہوئے- میاں لام نی ان کو نے تے بعد بیس خاکسا نے ان کے بھائی سن رضاح ب کید کے

ا ام کے ووں میں سزاجیکی ترجمۃ الترآ نکی اشاعت کے رعمل بہونے بر جلدسازی

ازرم لے ہکن کے ینک ڈائریک تک کر خی ذل بایا- آ کل بی دوست ادن می ہیں - جماعتی کاموں میس ما دوہی لیت یں.- یں انی فیا تک لاو ارت دجو تنا کی برایت ءر ساس شع کے ملف دیمات میس بھی جان کم تع متا ہار تن راک کی ادا یق ھی- : ول کک می جمیت اپھ یٹ کا جس ۴۱۵ا اد ھب ۹۳۳اء ہو رپ ھا- لن گا پردکرام ین اححدیت کے غلاف مضاین بر تقریریں بھی تھیں- جراعت یہی ددخواسعت پر مولدی غلام اھ صاحب بعد 'مولوی مہ سلیم صاحب اور اکسا بات جانے کا1رشاد ہوا راع تکی طرف سے مناظظرہ کے ل ےکو شش را تہ نے انکارکر دیا- اس سکس لہ میں اخار فطل ٣ء‏ جنودکی ۱۹۳۲ء مم ۹ میں سب زیل تقصیلات شخائع ہوگیِں- ھک مگزشھ سال بیماں کی ععست ااور یٹ" نے اے

3 عسمہسمصصمدتج , ۳مہ مد سسم۔-

وت انا عجل کیا تھا جب کہ مقائی احمری اپے جس سالانہ جم شمولی کی غرض سے تادبان جا گے تھے اور عحسیت برکورہ نے اح پر نکی حدم موجورگی سے ناجاتزفا دۃاٹھاااد رجچراروں نے با کس کی الا ع کے ابی تا رر میں اع یو نکذمنا رکا ٹچ دی اس لئ و موق یپ نے با بن شعیت ا اور بث کت کے ار باب است کشر سے تر و تقر یی ر راف تآیاکہ آپ لو گگذشہ عا لگا طر حکوئی ال یں کے پا اتاد :ما ظروکرکے پلک بر مق دہاش لک وت :نے وش کے ؟ امن با ران ین یں اطائ 3یں۔ رہ لزا ۓ رخفوا مت گز شن مال کے تر سے ہم یت اب یٹ کے روي ے واّف پ نات مان جیز سے لئے نا ظرصاحب دعوت و تن کی خدمت مم ورٹواہست بی نات 70 نظارت گا رایت کے مات مولوی خلا اج صاحب میا مولدی مم سلیم صاحب اور مولد تا مبارک ۱م صاحب مین می ٣ا‏ حبربعد دوپ رکللن تیگ -

جب ہار ما رکی باد وپانیٰ اور اتتضار کے پاوجو دکارپداذالتا زی نے کال غاموشی اغقیا کرک نز پلک بر یقت عال دا بے سے لئ دکھلی شی * بیام سملرٹڑری صاحب جمعیت احر یٹ کلت کے ز ریہ قیام عالا ت کا نما کرد یا اور سا بی بب یتکھاکہ

ک کو چا جے بنعیت اپ بی ٹکو میران من ظرہ میں گے کے گے ۱

یو رکرے ورتہ ا کی اہ ےکوچہ مم ہے احعلیو ںکوفر تک لاہ سے رکا جاے- پھر مات اشہمارات کے زرلہ اإئریٹ

33 را رو ں کیپ اکردہ غللا ھیوں کا ازال کیا جا رآ تر جب انصاف پپند اوکوں نے ١‏ رکان جمعیت ابل حد بی ٹکو منا ظرہ کے لے یو کیا نیوں نے جمارے نام ایک ٹشھ ی کپچی جس میں لاک اکر زار سات شرا ئا منا ظرہ ل ےک" رلیں- ہم لوگ عین وت پان کے مکان بر جا بن ےگ رشرائیا نہ سے ہونا تھے نہ ہو ئے- ہرچند ٹیر ری احاب نے جو بکثرت وہاں موجود تھے اچے مولویو نکد بھایا کہ شجرائا لے ہونے دو اور بے جا ضد نہ کرو کہ تم تصفیہ شرائیا می غلط راہ اتی رکر رے ہو گران کول اث تہ ہوا- تا کہ جمارے دوست پا رڑى صاحب تیت ابل عد یٹ سے ی ویر ول ےک رکہ ذ٣٦‏ بے شام ا نجھن ات یہ کلگتہ یس حا ض رہ کر ش را ئا یلین ہے. واپیں ٦‏ نے گر افن و کہ سیا ری صاحب موصوف ان میس تخریف نہ لا -کئی بار انف باددلایاگیاادر خی اص یو ںکی مرف تب یکملواپاگیا گ رتو اپ ندارو-جب زیادہ زور دیاگیاز جواب آیاکہ ہیں اپنے جس سے فرصت نہیں - مان

کت نوع گور ران فا با دا کرت ر ظا" ری صاع بکرم ےت زالا تک کرو سے تھ نے مواو یو سے اع کے ج٭واب و ریا تکرے - : اس خغیراتھرىی صاحب نے اچتے خز رح ے الع سوالا تک ہچ ا لیا ٠ے‏ کرو ء زا ت مت ض +لفلٹک ریا سے مولوی صاحب نے چا ککر کے انی نگ فظرٹی کااضم ور

35 34

دارم صاحب نے خاکسارے ذکرکیاکہ جع ہک نماک ادای 'ب,ر َو ور عدخبہابرنگ زا‌ےگکت ڑکا رکا مر ےگا“ کی نگریم صاحب قادیان لہ دارالہرکات می جمارے ہسایہ یس رچے تھے - ا" ےکی دن جھ ےیہک رکیا امیر حخرت چو ری صاحب کا ای یت ئل کی ت مکی دی خدا کی نزفق لاہ ری بی نیب میں - پور کے تام میں ھی رفضل صاحب اور میاں عمرصاحب ان دفوں لی اے کے لا جللم تھے- ناکسمار کے ساتھ ہرموقع بر ساخقہ ہوکر جھائتقی خدمات بی مد کت رت اور وی لیت رس - جزا عم ال ان الجزاء

اتی روں ریاست بماولپدرمیس تتغ کا کا مقدمہ زرر حاعت تھا- مجر اکر ضاتب راس کی طرف سے جج مقرر تھے مقرمہ تن فا نکی ماع ت کر رس تے- رماع تکی طرف سے حفرت مولانا جلال الین شس صاحب الو رگواہ بی تھے اتی وداافت میس وکیی کے پیش ہون کی اجازت نہ می ہن برمیں تار گی ہو جک ت- ناکسار بطور تار مولانا کے سا بی ہو رہ-- انی مشورہ محتزم چوہرری اسر اللہ ان صاحب اکنا رکوا تن :از اکسا لطور مار عزاات کے اتی پت یکر دو جن عرتبہ ہماول پور اس متقصد کے لئے مولانا ٹم کے سساھ چاناپڑا--لعد مین مولاناکا ہہ بیان ”زمقرمہ بماولپور' کے عنوان ے تی صورت یں اما کی گرانی میس لاہ ر کے ایک برلیں سے شائع ہوا-- تلیفی اغراش اور نین کے ا عتزاضات کے جو اب میں میہکنابپچہ ایک مو شر او رکا رآ ناپ ہے

تار اص ریت می ںکواے:-

مطرمہ پاوپور ے عالات و وافعات کے سللے یں ے ٹانا ضردری ‏ ے کہ اس مترمہ یں حظرت مولانا جلال الد یی کک

اک خھودت دہا- عالاککہ اس مرا حر بی ے ہرجن عفایا نکیاکہ شڈل ری خی ہوں - نید ا را آپ جھے ان سوالات کاخ اب دی لن مولوئی صاحب کے سسانئے ا سک کوک یی ندگئی - مجھوی طور بر پیک پر اپچھا اث سے اور اکٹ خی راحری خصوں] نوج ان طیقہ خی راجری مولوایوں ہا وص مولوی شاء اللہ سے خشت بن سے اذ ر کیک متا کی امیرے -" کہ کے ایام قام میس محترم بر وفیسرعبدالقادر صاحب جو تمہ سید سائرہ تا صاحب کے براوز تھے - بہت شفقت و محبت سے لے رسے-- ایک دن ہم دولو مولوی مم لیم صاحب اور نماکسا رکو ایک عر بکی دوکان پر لے گے او رتا ۱ ”الفخری“ ری کر ماما رکوانخزہ کے طوز یر یٹ نکیا سکاب می کر اڈ کی زیرکی کے مقر حالات بیان ئ گے ہیں.-- انموں نے کہ کے انم اما تکی می را ی- اہو ر شرمیں حنرم مولاناظام ا صاحب میا (بدو می )سج تھے دہ دد ڈیو ا کی رخصت پر گے- غاکسا رکو نظطارت نے اس عرصہ کے لے ما ور می مخ کیا- یما ں کاایک خاص واقہ اد آ رپا ہے- ایک خلیہ جمحہ میں لابو کی جماحت پا جھورکی عالت می نشی اخمیں بیدا رکرنے کے لئے زور دارخلیہ ھا پیرون دا رد کی کش اتا ونوں محنژم قاضی مج اسلم صاحب ام رماعت لاہو تھے اس خلیہ می ںکی قزر بھی تھی صن انفاق سے حفرت پچ رر ی فراٹر نخان صاحب ولی سے لاہور تشریف لا ہو تھے اور اس خلیہ بی فا بھی شریک تھے ان دنوں دی سمازش کے مقرمہ میں چو بر ری صاحب معرد تے لیان دیک 1وج و نکی کسی کام کے سلسلہ میں لاو رآ تھے - بعد میں ا

37

صاحب ادر مولاناظظام اج صاحب کے جانا تکی تار ی میس خقرے وہاں بی تشریف لاکر خمرو حصرکی نما زی ش کر کے پڑھائمیں اور پھر حافظ سید مقار ا شاہ صاحب جان پور یی نے از عد مخت وکاوشی جل۔ کی کار ردائی ترو ہو لی -" فرائی اور معاوخت کا تن اواگر ری|- ای رع مولانا خ عزید رن اص یت می ںگھاے:- مبارکگ ام صاحب اور مولا نان عبد القادر صاحب او زی پر ری مر . ای زمانہ میں چن مبارک اص صاحب فاضل اور چّ مولاتا شریف صاحب فاضل جو جامعہ سے تن سن فار غ ا تصیل ہو ۓے تھے عبدانقادر صاحب پاضل بھی لکل پور میں رس اور حخرت مولاتا گا تار ایک ماہ تک بطور معاون مولان جلال الدین صاحب ٹس کے ا رابڑی صاحب کی مت میں خلفی میران مس علی یت حاصل ساہھ مصروف گل رے .-* 7 رے۔* ( رن اص یت جلرے ٣‏ ۵۸) ((زار اص یت جلرے ص حم ۵ے ۹۰۱۷۶۱ء١)‏ لاک پور حال یل آ یش جھاعت احویہکو نفضل دا سی فقیری 2 ۵ تی ر ۱۹۳۲ء کو بقاعت امہ شملہ کا سالانہ جلمہ تھا- اس جلہ میں : ی- تحیل بر ضٹرے غلیفہا لثالی لال پور تریف نے گے آپ نے ا امولیت کی نھارت تغ نے حخرت مولانا خلام رسول صاحب راچی گرم کی ادای سے اس کا افتاح فرایا- اس موئع پہ جشاعت نے جلسہ کا بھی ظا موی میم صاحب اور خاکسار مارک ا ھکو شملہ کھایا آررئی پرلیں مش کیا۔۔ صخرت غلیذۃ اک الال نے پر معارف خطاب سے عاضری ن کو زا اعت ان کی فجواوں ۰۰۷+ تھاواں ہارا قام وا- دس پارہ دن ححقرت مولاناظلام رسول صاحب راجیی کرم من عبداقادر صاحب اور خاکما رکاارا ام زہ- جلسہ فضل دا کامیالی سے منعق ہو .- ار لضل میں اس ہل بعد یس پند دہ دن تک گھرنے کاارشاد مایا مد کے انح اور حضو ری تقر گی رپورٹ شملہ جماعت کے مک رٹری جن کے نا بکی طرف سے مندرچہ زہلی سے جو کیک ان ہوا ہے اس سے فا کدہ اٹھایا جائۓ اور دعوت الی اللہ کے فری فک ا ہولی:- 1 کماحقہ انام دیا جاے- جمائی بلس میس خاکسار کے علادہ ھخرت مولات رات" ”جماعت اج یہ ش لہ کاسالان ہلے ' صاحب اور مولوی مھ یم صاح بکو بھی تقر یکرنے کاموقع ملا ح ر حا جریے" ”این اریہ شملہکاسالانہ جلسہ ۷۱۵ا سرک خی سراخجام می ہنمد ففل لال پو رکی ققیراور اج "کے عنوان کے تحت یہ ٹوٹ دن پایا-عخرت مولانا لام رسول صاحب را گی اور مولوی سم ے:۔ ۱ صاحب اور چ مارک ام صاحبنے ملف مضامین پر ہمایت برلل یگل ۱۹۳۳۲ ءکو مو لا ناش مارک ات صاحب او ر موا نا اود ان پیراہہ می تقر ی ںکیں اور حخرت ضس مو عو وعلیہ الصلوۃ میم صاحب نے ماڑتھ بارہ بیے کک تقر یکیں- پھر مضور نے ۱ داللطام کی صدات ہاب تکی- لام عی اسشنٹ سیلرٹری

38

(الفضل ماکز رم ۱۹۳ء)

اکنجر می اھرت کی اعت تے س الات خجقی جس کاانعقا رگیا-- اس جلہ ٹ7

شلیت کے لئ خیار ہلل میں جو اطلاع شائع ہوگی دوہ ی:- ”مولوی جلال الین صاجب شس مولوی علیٰ مر صاحب ای ری اور ارک ا صاحب ام تن رکے سالا نہ فی جلسہ میں تقر یکنے کے لے گے ہیں قادبان سے اد ر بھی بھت سے سر اک (افضل ۰× کز ر۴ ۱۹۳ء) سچھ رمع رام پا بھی اکسا رک وکسی اع مم کے سللے من جانے کا ما ا- ان ووں ثرت نا صاحب ووالقار ری ان برادر اکر مولانا شوکت طٗ

ان صاحب “مو لان مم علی جو چ بھی دہاں موجور تے ان کے ال ی ام ہوا- ۱

گڑ میں ایل پراگرہ کے العقا کا اعلان ہوا فتنظین ۓ لف اوارون

مائیزو ںکوشائل ہو ت ےکی دعوت وی<- قادیاان میس بھی اا نکی دعوت ادر پا ہت جس بکرم مولوی مح ہلیم صاحب اور اکسا رکوو وہاں گچواپاگیا-- اس نماک میں یک پنلو اسلائی ن ری کے خلاف تھا- اس جناء نر یں جھائنی ہدایت پر۱

میس شمولیبت سے روگ دہگیا-

اور میں سیر لی کے لس کا تظا مکیاگیا- وع ۱۹۳۳ء کے آ خریی ہف رز مات نے نے کر وس 6 کے ا رادیب انس سا ل بھی سارے ہتدوحا می جا ختوں لے منخق کر ری تھیں- .اس نال کے مج کی جو مفمون مقر گمیاوہ کہ ہم حفضرت گل نے خلا کاانسدادکیاادزاہیے وا مین جاری

39

سے آزاد شد: لام اھ شری بن یں اور عزت کاعقام حا لک رھیں-'' او می ںکئیسالوں سے اتراری شورش اور مخالش تکی وجہ سے بی جب ےکامیاب نہ پک - پر ار مخالشی نکوئی نہکوگی رضنہ پیر اکر وی - پنادرادر سارے رعدی لے کے ان دنوں ام رحخرت نقاصی مج ارسف صاحب" تے- انموں ے نظارت تی غرمت میس در خواس تک یک ہکئی سالوں سے پپٹادر میں ا را رکی شو رئش کے إحت جلہہ کے کامیالی کے ساد ضعقد ہونے میں ر وی پیدا ہو جاتی ہیں- بنا ہیں جل کی کامیالی کے لئے اخموں نے یہ مجوی: یی یک کہ حتزرم مولانا جلال ال دن صاحب شس جو عال بی میں انگّتان بس فیضہ خنغْ اعلام انام د ےکر والیں آئۓ ہیں انی پنادر جوا جاے-- او راگ انی نہ مجواا جا کے فو مولوی علی شھ صاحب ابمیر یکو نوا جاۓ- فظطارت نے جضور از سکی خدمت میں ىہ خط پٹ یکیا۔ اس خط یر حضور نے نظارت کو ہرابیت فرائ یکہ نے چار ناموں ے اطلاع دی ''نظارت نے حخرت قاضی صاحب کے بی ںکردہ وو نام اور تمرانام رت حافط مبارک اج صاحب پر وف رجامعہ اح ریہ کالکھا اور چو تھا نام خر میں ماکسار عرش مبارک اح کاب یکیا۔ ضورنے جب ان ناموں سے اطلا پای و ا ماج کے متحلق ارشاد فا اہ اور کے جس مین انیس پیچموایا جا - ان ون حضرت مولوی شی رعلی صاحب تقامقام نا ظردعوت تا تھے حضرت مول وی صاحب نے و ر کے ارشادکی تقیل میس خاکسا رک فرما اکہ یناور کے جلمہ یر؟ 000-22 - خوب یادسے- حفرت مولوی صاحب خاکسار کے خیب مان مہ وا رالب کات خو وت لاے اک براہت ے آگاہ فرایا اور لا بی نے از شا کہ تق رکیل ابی طرح تار یکرلین۔''جیساکہ او رک آیا ون اس سال یر !لی“ کے جلسو ںکیلۓ موشوع آخضت اٹ خلامو کو

40 خویشسوشستفنتٹھتسیسسجًًٗٗچجتهہےے ے

آ زا مکرنااورظائی سے آزادی کے بارہ آ پکی تیم اور با ریت تا ھا- قادان سے بمعہ کے دن یناو رکیل روا گی عصرکے بعد قادیان ریڑے مین رب ا رکیل مسر نی میں تشریف لاۓے- رر رون افروز ہو تڑعاجز نے مصاف کیا اور عاکی در خواس تگا- خودکھی رما کر - تقادبان ریاوے میشن سے ام رتسراور ام تسرسے لاو ر ریا سنہ پنیا فرنی لی لکی انار یس چچھھ وقت خماکسار نے پلیٹ فارم ہگزارااور خرب 2339 820۳0 - دا تعالی کے جفورگریہ و زااری سے دعاک اور ان الفاظ ٹیل اچ آتقاے استدعاگی- *ھیرے مولی و آ قایس تیرا ایک عاجز بندہنو جاور عال بش تییفی میدان می واضل ہو اہوں اص جرب بھی میں پاد ر کے امیر تو حضرت شس صاحب کا مطال کیا تھا-- اکسمار نہ بی ولا نا شس ہے اور تہ ان کے پا یہ کاعالم - مہ دو رے پز رگوں کا ہم پل - اعت مرعر کے امیرخودبڑے عالم “سکالر “او رنقادؤں - آپ تی اس ما کو انی خاص نقز مر سے علم سے بھی نوا زی ادر اص شر صدر بھی عطاکری اور جل. سرۃ ال طلغ رمعموی کامیالی سے عق ہز اور آپ کے ہقرر وکردہ غلیفہ وت کے موی کردہ مقر رک تقر رن کیا اع صلاحت و لق عیب ہو-'' ٹر رکل آئ- - رماگ] ہوا اس پ صوار ہوگیا- -عماراراستۃ وعاگ رت 1-0 بفتھ کے روز ٹین یناد رکینٹ گی محزم حضرت قاصی رارف صاحب کھرم اگل صاحب پراچہ اور کرم الطاف غاں صاحب یش بے خاکسار 666 37 ریف لاۓ ہوۓ تھ- شرکی رن مس فلا یی خل

41

صر میں ناکما رکو بہچااگیا۔- سد کے اوپر کے حصہ میں خود تقاضی صاحب رہچے ت۔ نیاکسار دبا لا نوج ان خی رحروف'یے بزرگ خقرات اور ووست سب احاب جو سارا دن مم آتے رجح ادر مُھے دیھتے رہے- ان احیا بکی نظروں ہیں اور با وص احباب صرعد کے علاء طبقہ میں اجٹمی موس ہوا رپا کہ فراز مقرب کا وقت ہوا خنخرت ای صاحب نے امام تکراگی - ا نکی اقتزاء میں ٹیاکسار نے نماڑاداکی - سار اون احجا بک یکیغی تکو دک ھکر نمماز یس ہہس تتگریہ وزاری سے وعاکی وش می جو تی نماز ضحم ہوئی ماکسار تےککھڑے ہوک راحباب سےکآمادو ایک منٹ سطنوں سے قمل احباب تشریف رکھیں-- ایک خاص جذبہ سے راس وقت ال نالی نے مہ عطاکیااضباب سے خاطب ہوا او رگیا:- و پ پر ینا نکیوں ہیں - مد اتھالی نے پکی دم تکیلئے

ار کل جچاے -*

ان الفاظہ کا سمنا تھاکہ حخرت تقاضی صاحب جماعت کے غاٴ ہزرگ اور رت سج موعودعلیہ العلام کے صھالی نے بھی اص انداز اور جذ ہہ سےکما ”ہم انشاء اللد ججلہ۔ کامیاب ہہوگا' 2070 - رعاں ٹین

اار کے دن فریر کی سکول کے وسیج و عراش من کو تقالینوں سے اور اطراف می سک رسبیوں سے سھایا ہوا تھا-- ایک اکچھی عرزکا ٹج با یاگیا۔ جلسہ کے دو مین تھے ایک قب دوپ جو اردومیس نھادو سرا بعد دوپرجو اگری:ئی میں تھا- پہلا اجلاس شرد ہوا- حاضری فے تع سے بو ہک ر تھی معززین شمرہندو سک اور خر

آ از بقاعت مان بھی شریک جلہہ تھ - مقر رککرنے واموں میں لف نبرا بکی

خاش انا اور مروف بستیاں تھھیں-- اس اجلا سکی صدارت حتزم ان پمادر

43 42

جنموں نے ہمایت فراغ جو صلی سے اس وعو تکو قجو لگیا-- جناب را بمادر پرچند کھنہ صاحب ایم املی - بی ہند و مما چھا کے صیدر جحتزم نے فرنیر کی سکول میں جبلس کی اجاز ت عطا فربائی ماں و زو جس دوا جلا سوں میں خمایت خوش اسلولی سے سرانحام پایا- الا ادل ز صدارت جناپ غان پہادر مرزا غلام صر الٴ ماع صاحب سابق ا ضرمال پاو را ا کے لع شروع ہوا - سا مین میں رف بب کے خوائدہ مز بن موجھ تھے -- حلادت ق رآآن پاک ولعت کے بعد جناب متزم تن لہ جنٹی صاحب لی اے- الکی- ال - لی

عرزاظلام صجرائی صاحب سال ا فس بای ن ےکی- اس اجلاس می جناب چ الل کنل صاحب ال ال بی“ مردار ملاپ مگ ٴ سار جن مارک ات اور حضرت ای شجھ وف صاح بکی آخری تقر شھی- ہرمقرر نے اپنی تقر اھ اندازش وقت مفررہ کے اند رش مگی- - ناکما رکی تقر کیل کنی وت پل سے بی پر وگرام میں مقر تھا جب اکسا رنے آحفضرت انی اعلی تعلیم اور آپ کے اسودادر تل مکوجو خلامو نک و آزاوکرنے کے پارہ میں شی تفصبیل سے بی یکیا نے اس مبسوط تقر کا وقت ضحم ہو رہ تھا حخرت تقاضی صاحب نے ہاھ کے اشارہ سے ےہ تقربھ جاربی رک کاار شا وکیا فضل شیا حضو ری پاکیزہ نعلیم جو خلائی کے اناد ۲ کے بارہو میس تھی اور ا نکو انا شی ت کا من نمونہ ب نکر اجک شور اور باوقار ادراكْٔ ا لہ ا سم دحا لیت زندگی بے ایک اوت عیوروں پر سرفرا زکرونن کاروبہ تھا- سامشنان نے اسے شوق سے سااوراس ے ١‏ آموز برجتہ مقر فمائی- ان کے بعد جناب مردار ملاپ سگے صاحب جو گی خدمات اور سیاىی قربانیوں کے باعث صوبہ می خا |0 اس طط کی رٹورٹ اخبار الفضل تاوبان نے بب ر۹۳۳اء کے برچہ مس شرت رھت ہیں سپ تشریف لاے ادر مات عبت بھرے چنال ۱ [ ۔ حجحول عرن‌ ےئل گی ۲إ - الفاظ مشش ان فربا کہ ہم اسلام ادر بائی اسلا مکو نمایت عزت و ا ١‏ : اتزا مکی ٹاہ سے دیھے ہیں اد ر جاے ہی ںکہ بای اسلام نے د ناک ”ناو ریس ا تحاربزا ہکایک غائ را راظارہ“ پر ؛ محبت' کی ہد ددی اود بمادری کا سقی سکھلا بے - عردار صاجب نے تلایا کہ تام نا ہب ایک دو سرے کے ساتھہ مج اور

صحص.سصسصے اب ٹس ا 2007 کت

77 ,.ِ یی ں99 ف8ۓ

تار وت ونام

١‏ * ناو ر ٢۷‏ نو ۱۹۳۳ء صوبہ صرح دکی ار نم پطا ۶ ۱ کے کا سی رر ِ۰ و تا ہم ہت ان زہب کے نام ب عداوفوں اور خومتو ںکی آگ بھڑکاتے رچے ہیں ۱ پلیٹ فارم پر جح ہ کر اتحادع کی شاندار مار ت کا جیادر ھا- ا کےا یا جات کا یی ےکی ےون کی ان نے اور

یں ا ا یا کیں و وگرو یکا نرہ لگانے پر مکھوں اور مسلمانوں میس سرپچھٹول کے ےت سے وت رہتی ہے- سردارصاحب تے اس با تکی ضرد رت اہر یکہ ش کو بھی تخب اسلا مکی تیر ون صیف میں شمولی تکی دعوت د یگئی

44

اس ملک میں ابے نر بی جے بیشہ ہوتے را ٌ7 ا نہ بکی عزت و توق لف الف اہب کے لوگ با نکیاکر ہیں کہ رج یت نج مم کر تن کے مد ولا ا کت اھ 7ی" ری میں خلائی ادر ا گا لات عالٹوں ؛ و زاس کے ا دا دک ان باون کو جو ای اسلام علیہ الا نے اصوا و گھلا نیا کے ساتے پی کیں میان خرایااد را کہ از شک رجات مین ےم سیت جا اور مان تیم دی ہے - اس پ پہلا ا جلاس ددییے شہو- ٠‏ دو سرا اجلاس زٍ صدارت جناپ عردار راچہ گے صاحب ہے یس یْوسھتت رود بت “بے بعد دوپ رشردرج ہو اس ا جلائس میں محر“ ابان درگ یسل عفرا تثرت شال بد تے- طاوت قرآن ید ونعت کے بعد جناب مولوی نذعہ اج صاحب ای سٹوڑنٹ اسلا من ال او رتے ادا وفلائی کے متفلق رسلا علیہ السلام کی تلم پان اگرزی جا نکی - ان کے بحد جناب لالہ خر دم صاحب !یم -افے پوس رمشن کا ا رنے را سلا کک حالات گی پر زان اگ ری صلمل ای کہ تقر فرائی ور خا کر ےڈ رو ہپ[ کر کے جانا ؛س ت لی کے زریی آخضرت گا کن

45

کے گرم ا ھے رت ور پر س رشن عر بی ۶اپ > ھک ےت پل یی 7 جهاأ ید سك پورول ہے لے کت ےنا انیس اذ انی کی مکووسحت دبی جا ٣‏ رو ا 2 گا کرک جات ار ری ری ا نے لاملا ملاسلا کے بض رات زمر اڑا ود کے انز یں مزا گر رگ ور تقو رک ذ کی اپ اخدد زان ا ربق ہے کیو کہ انروںے اس د نول کا بلائی ادر رای کے لے این آب بغار 701 نے اور مو ہے تد طافقت عامل ہو جانے کے کی سے انام لے کی ٹوا ر گا ات کے پل صن رعیدالہی: صاحب صبائی نے اس مو قح کا عال ایک ری تم نماصت د لپ ا از یں سائی جس سے ڈگ ات 2طت اس زمر وڈل عرزن وذر رن ا ین دا کہ جیا معوزمقرری نے تہ مال وا می مکوویادودست دس وشن جاری رکی جانے؟۔ ایا الا کے دو ران یل بارش کاخلیف مائرئم شروخ کی

: اھ کا دہ سے عاشرین شامانہ کے یئے کم چپ کور گھ۔ اس ففارہ کی طرف

لاتے ہوئے در محثزم چناپ

وو ھی ناسل خی سو وا

46

ردور رجہ گے صاحب نے ا افشائی تقر میں جو انگ ریم

ہے و ٹر و ہےر گے

مد ادنری نے بارش لگا صورت میں اس طرع ظا ہر فرماگ یک ہک کہ رمسلم صاحبان موجو و تےگروہ چداجدا

عاضرین جلمسہ مل بندد ٹولیوں میں ٹیہھے ہووے جھے - ج اون کریم جک اس اتادداأضصال

کو زمادہ مضبوطبنانے کا رآ دو رکقاے اس لے اس نے اتی رھت ار سی شل میں بیج دی جس نے تمکو بد رکردیاکہ ددڑ دو کر یک چعت کے بیج کے ہو چا در اک دو مرے کے سات اکر ٹل جناب صررنے پاغان علسہ وحا شر کاشگری اداکرتے بو گے زا یک سک بے چو نے او روہ ان جل آے جب کہ اس لگ یس خلاف ب اہب کے لوگ ای یگ کی رح ایک ج یکن کی یت رر کے سٹ ری ا ای ا ا

ہوا-

( خاکسا راع گل برا چہ می رٹری فان ام یہ پٹااد) ١‏ و ا ا ا کک

٦‏ رر کے

تقر کے اتداء

پ5 یرپ رس پر اثاسی سرۃب تق ےکر ےکی ےکا لق تک اہ مان لم فا پرایت سے کی ہت ار و ا ار ا ےڈ کم کی رای پراست آ ضر تکی سر اما مال یں ھ-بنابریں یکاہ دوک ا جانا کپیسسٹت پوے

47 شر تکروں کا رم ال نے 5 رین کی نقرروں سے جو ردری معلومات ره 5 21 تلق مل انی ارک مک تم اتوس ے6 لاس میں شرک تگی- فی یں سی اور( ماکسا ری 5‫ ان ٣‏ وہ۷ گی نقرر سے تار ہوا ہو وس امو نک تھا یت ا ۶ وید ١‏ ےون .جس تھے لاازا ے ئن نت ہت ترک باففموص ان بھی ہوا چان بے اف شی رپورٹ گجوانے کے علاوہ عفر خلی: اگ فدصت میں جار کے زرل اطلارع کجوائی- علسہ کے کامیاب ہو نے ر ۶ ا ا ا1ا ا با رگ پاو

ْ دی اود یہ بھی بنایاکہ تضمو ری ج بھی بنایاکہ تضور رمک ژن پناورے جا رآ تق ضر و

با رو ئا

ر

خصرے یش و اے پر تپ ریف شرمام اوج 7 تپ ایا- و ےل خوگی کے اظمار کے ملق اس عائزکابھی ذکر

۴ء کے ٍ‌ ۰ئ" طخرت غلیہ لی انی نے 2

ای ان ے ہم رد ر- راولٹڑ ٠‏

را ایا ین اترک پت - صوفی صاحب اپنے و زی کی

7 ڑ ت 7 سس بش

. 48

غطىه.-ے۔ٔ ۔س۔آؤی _یے

طرح سر یگمرسیئجے- ان اشن ساس ندعیت کا فاٹس کے بارہ یں اکسا کو چتھ عم نہ تھارے- ۱ مر ی مرک کر جماعت کے ھرکز جکدل میں قیام بؤا-- ان دنو ں تھی رای ا ٹیش جوبن بر حخی- ناکما رکو حضورکی طرف سے یہ پدایت شیک سی کے ہا کھانا شی ںکھانا نہ وعوت قیو لکرنا- ڈیڈ ماہ کے قرب غاکسا رکا سر یتگرمیں ام ہاور ور رلیں اور جھاعتی تزیت کا وظیفہ اد اکر را - کسی وت لاجر ےگا میس چا رض حراب سے مل کا موتع بھی مل جاج- ہبی اور یت یکامو کی طرف ی وم تی۔- موحم کے شمریہ رد او ز آپ و بذا کے موا فی نہ آنے کے پاٹ ماکسار بہار ہوگیا۔۔ نظطارت وعوت و فان کے انع دنوں ناظ رعخرت سید زبن العابر یی ولی اللہ اہ صاحب تے- یرلیہ تر اپنی نار یکا زکرکیا- عر یتگرمیں " ڈاکٹر چوپڑا سے چیک ا پکروایا- شون نے آپ و ہوا کی تججد یی او ا کا ۱ ناموافقق ہونا رض کاسبب تلایا-نظار تکی طرف سے ب ابا ھآیا- ۱ ٌ 117“ ٤ہ‏ ط٢۷٣‏ 0 3 ۱ خاکمار نے وجوالی می اور انی اس وق تکی عالت کے ٹیش اظربے کجھ میں ار کے زرلچ جواپ دیا- ١‏ ۶۹ ۶ وت

۱ ۱ ان اروں کے کآنے جات ےکی اطع اذر نول 630 والوں نے سرک گر ۳٦‏ ۱

وم تکو کا وی چنائی ہبہ دنوں پو گورن مشیر سردار عط رسک در اکر

٘ جزل پولیں نے اکسا کو اپے ہاں بلاک رکھماکمہ یہ ت'رریں آپ دمے رہے ہیں "

1 مولا نا کیاکر رسے ہیں- شی با اگ یاکہ بماری کے باعث مہ یں دا ہیں" ْ کہ ان دفوں قرت سید زین لان ول ال شاو صاض بکشمی ابی مین مم

بھی اص نوعحیت کے فرائش انام دے رسے تھے ان کے نام نت رو نکی ہتپ

۹5

3 ان ام نے بے مجھاکہ یہ تاریںکوڈ یس سیا کی فو عی تکی ہیں - انی بار بار جا اک

ڈاکر چو ڑا 7 کرتے کے بععد اپتی ارک ی کی اپنے ھرگز اور اف کو اع دی ہے ممکن پاؤس کے ان ر بی کردپی فرا ئل اشام دبا ہوں لان پردو ظا یہ ےک تاریں الاطمش میں اور سای فوعی کی ہیں - ال خر جھے چو ہی ںکھنتوں میں علاقہ سے لے جانے کا عم دے دیا- خاکسار نے ھرک کو سس مم سے ا براس راوپنڈی دائیں قادیان آآے کا ارشاد ہوا- قادیان ش ا لن پک ا و و کے الیک ملمان پروفسرکھی تاریان آۓ- تصور نے از راہ صخشت سیددام طا پ رصاحیہ کے ممکان پر شمام سک ےکھاتے بر عاب کو اود پر ور صاح بکوادر چو پردی اصد الہ خان صاح بکوجو پروی کو ل ےک رآے تھے بلایا- خاکسار سے جب حضورنے ساراواقیہ ری ریش جو کہ ہو اسنا کھل م ساد صاحب جو مکی گر ک ےگورنر مرر نا نے اس مع مکو مضسو کر ویا- ‏ شار لف ضوع ان الفاظ می دک اح ہوا-- جع ا ۶"كەئە0, رباص مھیرے اتک ا عیمس خر نکاعم ضوع

یھ ہت ات ےا تی فا تیکولم قو کرلک اس ّ ہے ایب بس ے وتوان او قادیان آگۓ- کرت ََ الال کی قوج او مگرائی میں ا نکداعٰ تیم دلائ یئی-- ایی ایی و

پش اتی اداروں میں کا مکرتے رہ اس پرپئی پڑت وجوان کا الام قو لکرنے کے بعد حبوب ای نام رکھاگیا۔- ای نام سے مروف ہو تے-

مل یر اتکی مسلمانوں میس ا نکی شمادی ہوئی رم سید عبدائی صاحب جو

> اے مسمسمسممشتتد مسوسوسی ہی مت ا ہے ۔

جسیم : سیت سو وم سے سے سس رت 7--77751

51 ۱ 50

سأ _ ے- 7 لن

آ کل رید میس نا ظراشماعت ہیں ان کے داماد یں- ا بت مث ہوں-(الفضل اتی ۹۳۴ا صے ء٣)‏ ۳۳ء ۹۳۴ا کے وور میں لف جماعتوں کے چلسوں اشعوں میس اہ 9 شی گر مع لاہور یس مولوی مھ اسایل صاحب روڈ ی سے مناظرہ ۱ شرکتے کے علادد توخا ظمرو ںک ی بھی مفضل ند غاب کو گی ذیل ان۷ ۷د ۱ 5 0ں- شاو یکین ضطع یوب رہ کم جولائی ۱۹۳۴ء کو مولوی عبراللہ مار : : ٘ ۱

ہنا ظکروں او رججلسوں میں شرلت : تو ۰ 7 ببھنک می اس عرصہ میں مولوی شاء الل صاحب ام ضری سے

لی جولاگی ۱۹۳۳ء میں لرحیانہ کے مہ تقاضیاں می باب عبدا شمیر صاحب ۱ کی ٹیلپ مناظرہ ہوا- آ رس ل کرک یرد ز از سے من ظز م6۔- نبا رالفضل مو رنہ ٣٣‏ جولای ۹۳۳اء ۸۰- ای غام مولوی اء الد صاحب سے من ظرو کے بعد ھن ککی جائع مجر ۱ صلی وی اس س کا راع الفاظ مین ووا:< ای دد مرا منا ظردمولدی نوز تین صاح بگرجای سے بدا“ یھ" ا جولائی ۱۹۳۳ء مٴلہ قافیاں میں چّ ۱ ان ہد مناظرون میں صزر کے فرائش حضرت وہر ری غلام جن صاحب ٰ مپارکگ اض صاحب ال اور پاب عبراطی۔ یلاڈرک ا اف سکولر نے امام زنیے۔ اح 7 رسل کرک قرو پا را مزا ظز ہو1 خی ای مناظر ۱ اع تب مناظزوں میں بن دا کامیالی ہوئی< الین استجزاء اد اپ لال سے پا لیل ا تاب ہو گب عو ون وو نال اکن .اھٹا کون سے پک میس نام ہو تے- چن منا رون کے بد یھ یی بی ۱ یی انی سب منانکرو ںکی تتصعیل رع اصریت جلد جشخ میں موجودہے- ان ۳ ٰٰ‌ٴ‌'ُ'مممم ۱ دو سمالوں میس ۱۹۳۳ء - ۱۹۳۴ء میس عا زکو ہنا ظروں ؛ جما تی جلسوں اور اجناکوں ٢۷ 1 ۱‏ مار ۹۳۲ا ء کو زم میں سیر و باغ م سکم مواڑی مج سیم ما" کے کی سمازت نی ری او رن یتح و رت جن کک ملاءآور مم ٦‏ طاحب اور ماکمار نے مولوی مھ یش نکولو تار ڑدی ے وفات جاور صدراقت فی رماتھیوں کے سات کی ایک جھاعت سای میس ش رک ت کا مو شع متا رہا- ٌ۱ یچ موعو ویر من ظریکیا-- (الفضل ٭اابرىل ۹۳۲اء صف۳) ای وتوں جامعہ اتدیہ کے علباء اور فار غ ا 'تصیل با کاوفد رحب دیگیا کے ےر ماف آ پا لع گو جرانوالہ می اپپوریٹ ماظر نیم امتاز ول ناارجمنر نماں صاح بکی گگرالی مس اس وفر تے ہندوسمان کے اہم ١‏ وی زیخ تا زا کی نے مرو کادود کیا پ وگرام کے مطابق دن کے وقت ملف شبروں کے سولوں ۴- زی اکب صاحب سے مناظرہ ہو دونوں مناقروں سے سید الا ول کوں سےکیلوں کے مقابلے در رات ہک ان شمروں میس یں ک۱ تام

ھا- ہمان ٌ صاب ا اضف شب تک کی کرت اور

53 52

ہوم رہ ان تقربروں اور یں میں اس عاب ہک بھی مو متا را :

اس عرص میں حقرت مولاتا عپرا تم صاحب درد اور حفرت یم تل و 2 ال رن صاح بک پیرون لک پلترحیب انکتان اور مخرلی افریقہ تح اسلام کا مشرق ا فی کیل نقرری خر ضکیلئ رواگی کے وق تادیان کے ریوے خلیشن پر ایک ناگوا راو راف ومناک

واقیر ہواجو بماعت اور حظرت غلیفۃا سڈ کی سن رجی کی وربا رضم ا" جیساک ہشن صفحات می لکھ چک ہہوں تق ر ۱۹۳۴ء می جماعت اریہ شمل ہکا

باعث ہوا-- خحقی نکیل ای ککمیشن بویھا-- ا سکی رپورٹ پر حضورنے ائل تقادیان یھچہمےیسشس کک او اتل ۶ کو !لی ران مض بای ایک بڑا جع اس ون میس آیا- حور لے للا ھجم صاحسبدادر اکسا رک موا یھ ابی ہم ہب شملہ یں ىی ےک ِ تا کئال ایارک ار ٹس کا نظارت دعو١ت‏ و لی طرف سے ناکما رکو نیردلی (مشرثی افریتہ) ک پاسپورٹ ےر مرکو تھے زی سز قرائی .اترام اوک ون کا ےکی ہدایت بوئی اد رم مولا مہ سیم صاح بکوفاسطین جان ےکی ہدایت نیں رومان ت کی سزکیں دیں- اس موق پر عضور نے اس عاج کا ام ےکر وی اس پدای تکی یل یش رد ری کا روائ یک یی اور شملہ مس بی پا سپورٹ ام ور دک رڈنا شرع ےک وف ام رک رک کا کے فارم اور ٹوٹ وشیرہ پاسپپورٹ کے حول کے لے عکومت کے سیر 7 کے جچمہے ھچ ےر لس کی آاشلدسے قادیان دابیں نے کے چند دن بعد پا پپورٹ م لگا اور نیدی جان ےکی ٌّ شرددٹی تیارئی مس محروف ہوگیا۔ بماعت اریہ نیردی نے وہاں ش دید حخالفت باقث ہرکز سے مطال کیا تھاکہ ہیل میں مپجوایا جائے- الن ونوں جماعت دی وی کے سیک رٹڑی جن عخرت تاضی عبدالسلام صاحب تے جو ایک عرصہ ول دہ رہے ت او رگور فمنٹ سول میں رت - ان دنوں وہا ںکی خخالفت گاذک کرت ہوۓ عرکزی و زک وکی:- من ماں حخالفت تخت زور پر ہے - ہمارے غخلاف سخ تگنر ہاور اشتحال ایز لچ رشائ کیا جا ہے - چم ہفت دا ر ان اشتمارات کا واب شائ کرت ہیں - مخالنی نکو ایک چشی ر جرب یکرکے ا سال گی ہے جس میس انیس مناظرہکی شا ئا ےک رن ےکی ھا ے .-

ے مزرورولا-

سےےسصک-ەُحعحعحعےں چشچخچےوو سے ے۔۔_

کے مت مض غاب ت ہوک ری ہے

ت کا عام 2 چاے ری ا نا یک کے

کا کت وا ا و ناو ہے مر تس : تار كفضل ۴ ۱جو اکی ۱۹۳۴ء ص٢)‏

رت

مان نیت شرسناک رق پ> اعت اضر کی خالفت ہو

ا پز ای کے فضل سے رض و ا ہے

- _ نیک وک و و

سوازت تے وا ا گی بھرن صورت بے - مالین کے

اار١‏ ت کے جواب مکی ض۱ باب رتا کے

رہے ہیں

5 ۰ ر سے و ں -

0

(|افضل ۴۴ جو (اگی ۱۹۳۴ء صفہ٢)‏

اعت کا ہہ ں تسا تھ.- نیدی ماع تکی درخو ات ار یروف الف کی شر کے پش نظ راور اس ال کے باح ث کہ منا ظا فو رتا ہو جات اص اندگیڈ کے خیال سے نماکسا رو ترولی جات ےکی مرا ہوئی- ناکسمار نے اع عالا تکی بناء بر ضردری ار ی؟ ضرور یکتب اور ۶ ۴+ 4 ,0 ضز ریگ کی نا دو ران مناظر: گر ضرورت ڑے نو اص لکتب سے حوالہ تا کھت جا یں

20 عقرر ہوگئی-۔ اس کا اعلان اخار آلضل مرج ئل الفاظائیس ہو گیا

55

دا 072 تھے

طط5 اج (افریقہ) ہلل جانے کے لے اآ لوم م۴ ۱۹۳۴ء صا حے

اور اون کے مرو کضروئ۔ ھ0 مر یکو شی بر ری چو

اٹ تما صاخب/ٗ

خاوی سج

الف ے وب وائٹ ے۔

مالمار تقو رکی علاقات سے فارغ ہوکر

۸ کچھ 7 لا اے ِ> 0 6“ ے طافات

اتا اور رم شا صاحب

56

رکتٹشٹش/رو ‪سہبوےسسمىس۸أأیی۲ی۱ٹیٹصسسش ان سے بی ح نکر شاکسمار نے شاو صاحن کو ایا کہ ابی حضمور سے م لک رآ رہ ۱

ہوں اور مضور نے نے ىہ جھے برایت فرائی ہے چچلون نمیس انی" حور کے اس ارشا کو نکر شاہ صاحب نماموش ہو گئ- ایک لفظ بھی منہ سے نہ گالا- وی شاو صاحب اک سے نے اور ماکسا ری نقرری بر اشمینا نکااظمار فرایا- قادیان سے رواگی سے قل احباب اور عزیزوں سے لے اور وعوقو ںکاسلسلہ شرورع ہوگیا۔ سا سا ضزدری تیاری میں بھی مصروف رہ لح بذرکوں سے پا وص م لکر دعاکی درخواس کر ربا جامعہ اریہ اور عدرسہ اتربہ کے طلباء نے نماکسمار کے اخزاز میں دعوت جاۓ دی وخبار الفضل * میں اس وو ت کا زگ رہوا:- ددوس نو بربور نماز عص ربا یر رسہ ام یہ اور جامعہ اجب نے

مبارک اص صاحب مولوی فاضل کے اعزاز یں بد دس اچب

می ٹی پارئی اور ای رلیں بی یکیا۔- جس کے جواب میں تن صاحب

نے حق تقر یی"

مزییراسی الیشو میں بی لھا:-

<ئْ صاحب موصوف تن ہے بعد دو مکی گاڑی ے بعزم

اثرلقہ روا ہویۓ- احاب تارمان نے ہ کر کو 4

الوداع گیا- حظرت غلِفۃ 2 الثالی ایدہ اللہ تما لی نرہ الع

پاوجور علالت شی کے اپ غاد م کی زت افزائیکیلئے نیشن پہ

تٹریف نے گے ١ور‏ بی دعا فرمائی - جن صاحب کے گے میں بار ڈالا

اور مفاقہ فراا- جناب نا ظرصاحب وعوت د تی طرف سے بھی

صاح بکو ہار پہنا گیا گالڑ یکی روا گی پہ احیاب نے نرہ اے

ور کب

7

تب ریلنر سے -* (لفضل ٣نب‏ م۱۹۳ء)

ٹین اھ رتس کی ت2 ہی جانے والی ٹری نکی انار میس یھ دنت پلیٹ فارم پ گگزارا- ٹین آئی ادر سوار ہوا اور کی کیل روانہ ہوا راست میں ولی کے ریلوے شی پر جماعت کے بھت سے احباب نے اور الوداع کک ےکیلئے تشریف لائۓ ہو وے تے- ان سے لائقات ہوگی- لتض دوستوں تے دعاکی خرض سے خطوط بھی دیے- چند منٹ ٹین رکی- احاب نے یماں بھی دعائؤں سے رخصت کیااور نل وت مقررہ پر کبیئی پنیا حرت سینٹھ سابل آرم صاحب نے یت 89 کیا ان کے ہاں دد ایک دنع قیام رہا- عمباسہ جانے وانے جماز "یی ری مععلوبات آ3 فلت کی خر کی یس ہی یرت اما یل آدم کا ماک تھاون مد ہوا- چماز میں عرشہ (500010) کا کک تی کیا- بمازے رداگی ہوگی اس کا نام (0٭ ہ7) تھا- دس دنن کا سمنعد ری سفر ند ری ابردل اور پچگولو ںکی وجہ سے خخاضص پ بای کا باحث رہا- عرشہ پر بی سز

اکر باقی مسافرد ںکی طرع لیٹا رہا- لننے سے طبیعت تقر رے بھی رنئی- راس ۱

میں بیشل کا جزمرہ آیا- جماز یماں بھی ایک آدھ ون شھبرا- اگگریزو ںکی ‏ مللت یس ىی پہ جذ رہ ہے- د سںگیارہ دن کے بعد عمباسہکی بند رگاہ کلنڈنی نیا کلنڑی بث رگارہ رکم جن صا تر صاحب ای رک تے اور بھائی اللہ ھ صاح بمنائی ککرییک اد رترم ہاو مھ عالم صاحب جو ممباسہ ریلاے میشن کے چی گر کک رک تے انوں نے نماکسا رکا ٭۷ ہ٤‏ کیا-

عباسہ ت کر محنزم مرعوم و مففور اکبر علی خماں صاحب کے مکان رپا مش ھرے ما موتقع ا- ۶۶م و ا مر ا کا کا را ا ردرفوں کا خیال رکھۓ- ہر رب احدادکرتے- ان کے فی عمزب: ظفرارد رے

58

اس تعلق ر- فا ایک دن کہماں قام ا--_ ماما رکی بی سے روا گی برا ضا الحضل نے خ شا کی اور پت ناو مرن ریہ تار اطلاع موصول ہوٹ یکہ جن مبارک۹ھ صاحب مل نیردلی کی سے چم زیر سوا رہد گے یں <"' افضل ٣×‏ نوم مم ۱۹۸۳ء صفہ١)‏ میا کے بر ایک آوھ ون .را مگیا ان ووں رر ات رت تک مت ےت ود زان ابی اکچ کا رکردگی کے باعنق سی نےب ہد نت "7 او رہ گھی.۔ حضرت باب صاضب عرضہ جواافوت ہو ةَیں- و ناس تق - یردب زواگی سے پل یا ای روز الو مم عال صاضب نے بر ملف کات سے اڑا پچھراینے ہے رن پور سہ پعرردانہ 30 ك.كل"ھ۴ لے ون می کے وقت تیرولی مین جپی-

نیدی ہے انگریزںی عکومت کے زمانرش وس وق ۔اورٹ پل روڈ دا ے۔ اکٹ آرٹٹ ف ال مد کا ٹوٹ بناتے رہ ہیں ۔نیردل ایک خوصورت شرہے۔ آپ وہوا ول وت ےن زیادد سرد اورنہ بی زیادہگری مورے۔

:۸۷/۸ 6 کہ ٥‏ ۵عدام )٥ط ٢٥٥‏ 13 زماہ۲:ہ۵

ندوستان سیئر ہوتے دانے ای عکامک اکن یں باہو ے۔ بسااعت اریہ کے منعدد ورگ افراواور متعرر عو کا گی 0297

ٰ ے

تروٹی جا ں آراور مہو رجہ آجاز

مشرقی افریقہ میس احمبہ مشن کے باقاعدہ قیام سے پیل بی اشماعت امر یی ت کا انفرادی انداز می کام قدرے جاری تھا ناکما رکی خقین سے نہ ہابت ہے کہ ۷ء سے اریت کا گرا کار ہو٣‏ را اخنفنار نے اس قر رکمنا ضروری معلوم وت ہے لہ مرتوم و منظور رت میاں مھ انل صاحب سالقی ای بٹراخیار ”بد ر “لے اعری ہیں جو ہندوستان سے ممیاسہ (مترقی افریقہ )ٹیس آے اوران کی جہتی مسائی ہندوستانیوں تک بی محدود شی محتزم حضرت ڈاک رحمت می صاب ا نکی بن سے احریت میں داخل ہوئۓے کیا یوگنڑ ا ریلم ےکی تق رکے ماحلہ میس ہنددستاتوں کا ای کک رطبقہ اس علاقہ میس موجود تھا ڈاکٹر رححمت لی سا لیا ددد رن یمان آنے ہمجرت کے ماق کے رت وا گے تھے پھر تحت ڈ اک مھ عبراللہ خان صاحب نے تصوصا مجن قوم می اش پنداکیا انی می جددجعد سے جن کے ذربہ من قوم کے چند افرار جماعت اتب ٹل داگل ہوئے ‏ سے افراد )١۷۴۱۱(‏ مھبرد کے حصبۃ میں ہا ججاتے ہیں - 016:۱۳ کا قصب ہک نیا کلوی مِں ے کین ڈ اکٹ عبداللہ خان صاح بکو ٹانگا یکا بھی جانا با اور ورام ا می ہجو ادر جز:۔ سے تارف مین - لان کی لات دحا تاور یک اف . نب آج بھی اس علاقہ کے شب راج یکرتے ہیں۔ ان کے ساتھہ اد ری چتد یں تے مال سام مس ای لازوں کےکفر انی ہیا زا نے کے ما سج بیغ اص یت کابھی فریضہ امام دیا اور نیردو یکی جماعت قائ ہوگی- پھر

سے ہے

60

اس جراع کی تلیفی بد وجمد نوم ۱۹۳۴ء می اریہ مشن کے قیام کا باح(ث تی -

نیدی یش بر حم سید محراج الین صاحب پرڈیڈرنٹ جماعت احدب ملا اوران کے نے پالک مرذا عبدالفی صاحب چھے ین کی آنے ہوئے تھے حابی ملانذات اور معانتہ کے اعد حھبزئیژن ےکابوں کا ٹرتک عاص لک ر گیا سیر کے اج ےت گزم ہر صاحب اپڈا دو سیٹر(+388:8) موٹ ھکار رآنے ہوۓ تھے ای میٹ بر اب ساتہ جے ھا پچ ان کانے پک ٹڑھا- ان نون بی ایک مض مو مار ہوتی تھی- بزاعت کےکسی فرد کے پاس ان دتوں ماکسمار نے کار نہ دیکھی اور ىہ کا ری اض پا ی- اپنی اس گاڑی میں ٹھاکر ماکسما رک انڑ گی بازارٹیش گرم بھائی ووست ر صاحب 22 روکان پر یھ وت کیل چھوڑ گئ اور خوو میدن لکونل واٹ ڈیپارٹمنٹ جس کے دہ بیڈ کے ہے رف زرل گے

مم بھاتی ووست ر صاحب ہزرگ صورت اور >چرٹ ظ رآۓے۔- یىی پاش بی ہوے ٹیارنک کے کام میس خصروف ان کے سان ان کے دد بھائی بھی کا مکرتے گرم بھائی شر صاحب او کرم پھائی عبرل جن صاحب ٠‏ الن گا روکان ٹیارگ نکی حی-- یہ جملم کے رجے وائے تھے بای دوست مر صاحب حضرت مج موعور علیہ الام کے صھالی تھے لیے عجلے والوں میں عزت د71رام سے یھ جاتے۔ پاب کے آہا کا الوم اوج مگثرات وخیرو کے لوگ جو وی می عطلف پٹوں اور اموں میں روف تھے ان کان سے ما لن ھ- اکر یی زین تن نے ناشن یت رن سس کرت - ہوائی ون حم صاحب کے متحلق جا رین کھت ڈگاہ سے بے ککھھ دنا ضروری معلوم ہوتا ےکہ آنموں نے احربی تکیسے قو لکی چنانچ ایک دقعہ خاکسمار نے النا سے

61

7 دریاف تگیاکہ دہ اجر یک رح ہوئے اور عخرت کی موعور علیہ السلام کی

کہم یھکر ےت واقہ خایا- - فرت کی مو عو علیہ الصلو ة والسلا مکی شرت نز ییاب میں ھت گی - ان کے دعوی اور امام دی ہوتے کا ممزکرہ پالموم رتا جلم بھی عضو ری موئع پر تشریف لے سے می ان دنون لم می تھ- اپ یکم کے سلسلہ یں لابو رآ ان دقوں صافر مروں میں جماں تہ علتی سو جاتے اور ابنا پچھھ و تگزار لنٹ - جس مد ہیں می را قیام تاد ان کے مولوی نے حقرت سی مو عو یل اھ واسلام ک ذکرچیردی اور اس ذکری اس تےبھاکہ ر11 کے پاتھو ںکوکو ڑھ وگیاہے "اد بھی ھ دز با کی اس پ بے ال آیاکہ لاہو رآ ے ہو ئے میں قادان بھی ہوم ہیں وہاں چل گر مرذا صا ب کو بھی دک لی گ ےکیاان کے پاتھو نک وکو ڑھ ہوکیا دورد آخ 8دان ردان ہو گے - وہک کر سپ یں نماز پھے گے مور ھی سپ میں نف لائے اور دنم سپ یں آپ نشریف فرباہوۓ اور چھ تقر بھی فڈربائی ای دوران حضور اپے ہن کو بھی بلاتے - .بھی اونچاکرتے او رکبھی جا جیا لحض او قات مقر ہا و ںکو لاج ہے - ہہا ری تج (بھائی صاحب نے جایا ج وت طرف ری تو ہت صاف اور پا رے ظر آے- بعد می جب مور جانے گے لذحضورسے مصافہ ھ یکیاادر ابو رکا قصہ بھی سنایا نس پر پ رحضور نے پابھ دکھاے - ہماری تو

"2

نی وگ یک ہو رکا مولوئی جوٹ ہو تھا سش جرے پان :نے نظ زم نے عضو رکو دک ےکنا رآ پک لف و کو زان سے امن تب یکر حضورکو دک ھ ےن موس وھ ےت تیوں چھائی جب تک غا رکا نیرولی میں ر۳ بت پا سے لے رے۔۔ زم ارہ سن اگجزاء- ملف مداقع بر غدمت و ناش گی ساہہو ںکیلے بی فارم بنا کا شیکہ لا اکا رکی ر اك کا تظام اریہ مس دی کے قب میں اھ ارت ٴ روز روز بت صاحب' ولا ۶ب رالداحدضاحب

7 ٰ8 2 2 فراخی ہوگئی اور خوب فرائی ہو

کت

تھا ان وون ال ۱۸٥38‏ جن 1 نے 2

7 ا کن 1

سیر مر اقرال شثاء صاضت اور چ بد ری شار ام صاح بک دبا گا ا سار

1 ۸01 راک کا تام می اى ۸٥٥٥‏ می سکیاکی- ون ونوں خاکسیا رکال پان جار این

اور سی یی تا ایک انا رص مناخ کی استخا نکر زا یعدمیں سر زی “سال یر کک دی۔ تاان سے رداگی کے ذقت راج غلام مج "ررش مر یل میں ون چلون نا باون کے مقعال سے تو رکا را تن خا ما خلو رک سال ہی راو رھ عرصہ بعن ضس مجیو ریو نکی وج تھے سجن زی کا باۓ نش زی لگی بنا رباج ھآج تک ے”

ٰ کا کا ی٤ب‏ بب , 4 7./.

زان نل کا و ہے ا رر مو ریس ا

63

ناس اہتمام سے جماشی کاموں کو حراحجام رسیے تے بجھ سے مماعت کے اس گور کا زتگا۔- از یے ان نے ین کر شک ااداکیا اور کل تا راع تحت ای کے د تل ات کے دز ران عرت خلیفۃ انثا نے فہا ھا چچارن کا اتال ن کنا بنابریں نماکسار اپینے معمولی کے لمباس بین بی ملیوسن رسے گا- باعت سے تارف “جمائن الات ے وا قثیت اور ور ضردری معالات کے یارہ مقلوبات عاصس لکرنے کے بعد ماکسار نے ابٹی زم دا ریو نکو حتبمال لیا- یمان بت ذککرنا ضزدری ‏ ےکہ ماکسار قرتأ متا تھی برس مترق ا فی کے لاق١ن‏ بیس رہا ادد نل دس مال تک اکیاا مشنری تھا- ان دنوں مشرقی ‏ فریتہ کا ایک ہائیکھیشن ہت تھاجس کاحرکز نیدی میس تھ- اک یکھیشن کے ححت مشرقی ا فریقہ کے ممارے علاقو نکی امیک رشن “ٹر لنپپورٹ ریاڑے اور:1: ۶0 اور ڈاّان جات الس کے مائت تھے - مشرتی ا فریق ہکیڈیا کون وکنا اد ٹناکا زنجہار کے علاقؤن بر مشقیل تھا ماکیار زی طرف ضے مارے مشرکی ! فریقہ کا امجراور رای الپ مقر تھا آ خربی سالوں میس عدن بھی میری تحویل میں شال کر لیاگیا اور رایت کوٹ کہ برسال ند دہ دن عرن جاباکروں اور وہاں چماگ تربیت کے علاوہ دنر فرافُن اخجام دوں- عرصہ قام میں فضل را ضروری فرائن انام دن ےکی وپ لی ری جن کا ؤکرتحصیل سے فز خمکن نہیں البتہ خاصس خاصس شدما تکاذکرکر دن"ا نون - اللہ الننق یس اکہ اوب لہ کا ہوں ٹیردی جزانے کا متقد یہ تھاکیہ نہماں خی راھبیوں تے لت کا طوفان برپاکر رکھا تھا- منانظرہ اور پٹ تحی سکی باتیں ہوارہی تیں - اتکی طرف سے میرے یہاں کٹ سے پیعلہ من ظر :کا چینج بھی دیا جاچکاتھا- غیر الال کی بحعیت انل وقت ہنروستان کے سرکردہ متانر بن احریت گت و

64

شی رکر ری تج یک ہکوئی وہاں سے ان کا بھی عالم آے- عام خ رج کہ اخبار *زمیندار“ کے مالک ویر ظغررعلی خاں کے مشورہ سے بالا خر لال سن اش رکا نام تی کیگیا- چنانچہ اس کے لئے خی را بیو کی ان ممیت اسلام نے عکومت سے امیمرلیشی کا برامٹ حاص لکیا اور سے بلا لیا-- لال سن اختر اتی بد زبال اور جرب ز بای کے باعث معانین می اص شرت رکتا تھا-

نوم ر ۱۹۳۴ء شحم ہوا احریہ ہہ موی رپالنٹی کے و نگگزر رہے تھے اتی ۱

وو ںمحنزم سید ماج الدین صاحب فالبا دہ رکے شروع میس ایک دن آۓ اور میرے ہابت می وس شلنک کا نوٹ تھا گئے- نیاکسمار نے تچ اکہ مہ پھلا الا

ہے اس دن گی بارش اور یو نا باندگی ہو درہی شی -کمرم بھائی شی رح صاحب ا

بٹ اپنے بیوں سمیت مسحد ردلی کے پیرون یس پمولو ںک یکیاریاں درس تک رب تھے- جب بوں نے اس کام سے فراخت پائی ے ماکسار نے امیس جن شلنک الحام کے طور پر ین یکر دیے - بست دم تک دہ شوتی ےکا مکررے سے ےآ ک لکینیڈائیش ہیں ' بج یبھی ان سے جب اتا ہوں ن2 اس واققہ کابھی زگ ر٤ج‏ ے- یہ تتے ہبنظرا مھ 'ہشارت ام اور غالنا لق ام “نی رامر- جٹراور بثارت یڑا می ہیں نر رو زگار خو شال ہیں اور لاق ڈیٹرائٹ ہو٣‏ ے- ماکسار سے خاص تلق رکتا ہے اور نی رید میس ہے بقیہ رقم می سے ای ککتاب سالویشن آری کے بک سال سے خری دکی جو عیماحیت کے جیادی عقامد بر مشقتل تھی انمیں دنوں لال تسشن اخ رنے تیردولی کر شور جانا شرو عکیا- جماعت کے خلاف جانا حر نیردٹی میں پیر ویے شرو عکر وہیے- مخالفت میں گرمی پیا ہو گئی اود شرتں۔-

تھاعت نے ان ونوں تیولی ےگرین سا پل میں سیر انی گا ے

65

موضوع بر خاکسار کے لہ بج رکا ا مظا مکیا۔ اشزمار شا عکیا۔ اسے خوب شمرس تق مکی۔ فمل دوپ رکا دقت تھا۔ جماعت کے احباب بھی خخاص وق سے شال ہورے۔ خی راحعدری' نی رسلم بھ یکثرت سے ساممیشن مس موجو در تھے۔ با لکھیا سج پھر ہوا تھا۔ ماکسار کے ا ا تی کا اک ان لی اک ری پر شی رای احباب کے سا ج کش رتحدادیش موجود تھے ڈیا نظ رآیا۔ کی مدکی تونق سے آخفرت ظالڈاکی یرہ یی رن وۂ شرکامیاب لقرر کی پوپ عی۔ منزم سید مرا الدین صاحب اس جک ہکی صدار تکر رے تے اور بھت خولی سے انموں نے ماحو لک وکنٹرو لکیا ہوا تھا۔ معز اور قائل ارام بیتی تھے۔ شمرمیں ہرکوئی ا نکی عز تکر تھا۔ لیج رکے درمیا ن کسی دقت لال تین نے شورش پی راک رن ےک یکو ش کی فکھڑا ہوا۔ بج ھکمہ رہ اکلہ جپی کے انداز یں۔ محنزم سید متراج الدین صاحب بیدار مخزی سے جلسہ کے ماحو لیکو اک رہے تھ اورکنٹرول بھی تھا۔ فو رآ بو لے ”نتم لال نین ہو اک ککر و لے ا موی لے ۔ نیٹ جاؤ' سک مگیالال جن ج این نے ا2ج اھ کی موجو تھے وہ بھی سب کے سب سم گے اور چھ نہ بولی کے اور کہ گے۔ بہرعال بیج رخردعافیت سے اخظام ذس ہوا اور احاب بماعح تکوگونہ تلی بو یککہ ان کانوجوان مغ دا کے ففل سے خاص صلاحیت رککتا ہے۔ شم نیدی یش ماکسار کے اس لے کامیاب می کا نہ صرف اجنوں پر ایک کیک ان ہوا جگہ یوروں بر بھی۔ تر خخالفت کا بازا رگرم ہوم رہا۔ مال بین انی افتزاء اگیز اور اتال اگیز نقریروں سے اس می جزید اختعال پیداک رت دہا۔ غیبراتریو ںک ان

نے اجھدبوں سے ایکاٹ کا ریزولیوشن پا سکیا۔ من خیراھر یی دوستوں تے جن کے رشتہ زار اجری تے ا سک عخالف تک لن اکثریت نے بائیکا ٹکیا۔ اس

دو راع مناظ مر کی مات تل پڑگا۔. یک میس غیراصرنیوں سے من رہ کم تہ یچچ چچج ج

ےت ا ہے ےش ہو ہش سے سے ا رر ری سں شس ا رر رو رہ رر و ا وت کو رر ہے ہر تو و شی کا ظط غ اقب ور موی ین ات : الا سال سے اس کک میں متیم تھے اس مدان یش گت کی و و سو سے ٦۶:ء)-)‏ بے رم ہت سک کی مرم ڈاکڑ بر الین اح صاحب (ای- یی ای مگاڈگیا ے اما گان 2 2 نل رورٹ آخبار اافقل وبا ن کو مجواٹی ادد ا٢‏ رو ری "1۹ء صفے۔د میس شا ہوگی:-

ان ہرد وکو چو

67

نیرون مس غیرا جربیوں سے تنیم الشان منا رہ کی ہیں شش

”ایک عرصہ سے مشرقی ا فریقہ میں ایک فیعل ہکن میاحٹ کے زار کے متحلق مسلمانوں می بیجان بد اہو ر ہا تھا ۔گرباد جو دپل کک شرت خو|بشل کے مرن حضرت سی مو عو ر کے دونوں مولوی(جو رما سے ملف میس ےجس مان ین ےکی جات نہ لت ےک وط ان کے ول جات ےکلہ ق رآ نکر مکی طو ری ہ00 0900ی 0 7 عالم نہیں میگ کی خی رعا لم اد ر ز یان د راز بی می ما ہرک ہندو سان سے منکو انا جا گے اور قرع فال لال جن اترٌصاحب ک نام گلا۔

اس جن نے آتے بی خرور در اد رکستائی کے ساجھ خحد اکے ور کے عقاللہ میں اہ من کی بپھوگگوں کا استعال شرو کر دبا اور گمذشنہ خیوں کے مری نکی طرح ان سچائی کے دتمتوں کے پا ایت اء اور خشخرکے سواوو رکوگی ہیا ر ہو جھ یکیاسکتا ہے ۔ تقریی ی اور تر ری ور بر اس تے باریار منا ظھرہ کا یچچ بھی دیا۔ سے جھارے ملغ مبا رک١‏ حر صاحب مولوی فاضل نے ہنظو رکرلیااور قرادپایا کہ مرو رما صاحب پی رم پڑت رولت رام صاحب اور پپڑأت آرہ می صاح ب کی موجودگی میں فرنشین شرائیا مباحث کا تصفیہ

پت

68

تصفیہ شرائیا کے مو جع بر مولوی لال سجن صاحب وفات کے او رات اح وت ے امنسازل کو بت کے سے عقر رک بات رے لوں بھاتا تھا کانھم حم رمستتفرہ فرت من قسورہ۔ تفہ حشرائط کے دقت بی قرآنی نوا رکی چک ا سکی آمگھوں کے سا نے پچ رٹی تھی اوران عادل دبلا جا تھا یکو ا بت مشاہ جن کار حا ن بھی ای طرف خھاکہ بی مضماین بجٹ کے لے مقرررنہ ہو ںتھر انام کا رھ ایا نشرف ابی ہو کہ بث کے لئ ین مشمون مقر ہو گئ۔ا۔ حیات سح ۔٢۔ا‏ جر ا نبوت۔ ۳۔ صداقت کی موعود ےت و کے وی ا ا مقام اور انظام منا رٹ پا گے ۔

سے و سے خالی نہ ہوگاکہ مر سی مو عو وعلیہ السلام مولوی اخ کی طرف سے ایک یہ شرط بی یک یک کہ مناظظرہ میں پچ یکردہ ہرا قباس کے سا جو ال کادیا جانا رد ری نہ ہوگا۔کیاخوب منصغانہ چو یز گر و اوت می ا

انام کار ۹ا ۔.٢۲‏ جنورىی ۱۹۳۵ء بروز ہق وی او جات میں مسلم سو رٹ سگر اڈ یرد لی ٹیس مند رجہ بالا تین مضبامین پر مباتۓے ہوئے۔ بہ میاسح ےکیا تھے خدا کے پیا رے سک مو عود علیہ الام کی صداقت اور ور کے ظ مور کا پاعث تے۔ بجان اللہ وائیدیشد۔ سک مو عود بجر کی الد کے ایک نو حمرظا مکی زبان سے جھ ابی کا پغام نیرو یکی مسلم و خی رسلم ہندوستانی اقو ا مکو کہ طور یر

69

اکیا۔ ایک نو رکی بارش تھی جو عم متحصبی نکی ا عو یکو چنر میا کیمیچتشے فا علی محمدوعلی ال محمدوبارکوسلم ان حمید مجحید۔ وفات مس رر من نظ دنا جانی ہے کہ حیات و وفات تک علیہ کت الام ہے متلہ میں اریت کے مقاللہ یں برا ىی دہاکی و ےکرا پنی ملس ت کااعلا نکر ر ہے ہیں ۔ مولوی لال بین شاب انی سج کی بر وک لکر کے یہ بجھ ٹیٹھاکہ قرآن سے نا وا قف مسلمانو ں کی آ تگموں می اک بھوکک کے می کامیاب ہو جاۓ گنر جرقزم پر اسے ذلا تک ما رکھاٹی پا ئی۔ شش کلائی اور شا ا ا اک کی ا ا تا ماکز قرآنی نوا ر ہرعرتہہ اس زخوں سےگھا ت لککردبتی۔ ایک سور کی ططرح سھائی ظاہ رہوگ اور ساشنشن کے دل مان گ ےک کلام ای بار بار سک علیہ السلا مکووفات با فنت قرار دیتا ہے ای رح جس وو ہے اچ حقرت ے مر مصطی ما بی وو ت ہو گئ۔ ممولوی لال نین نے حیات کے کے شوت میں قرآ نکریم سے جو

الین ان می ہے چند ایک سے ہژں۔

١۔‏ اھدنا الصراط المستقیم صراط الین انعمت

علیھم غیرالمغضرب علیھےولاالضالین ٢۔انانحن‏ نزلناالذکروانالە٭لحافظون

آمات می

70

7+٤7‏ خر امہ

2 72 و کے ادب اور ق رآ نکر سے ان معنوں کے خوت می ںکوکی دبیل نہ یی گی۔

ایک انوھ دتعلمی کت بی تھاکہ جماں الد فاعل ہو “زی رو مفعول ہو الہ صلہ ہاور مو صول خواہ اک سسسا ءکی ا اور بی ہو ۔ تیقہ آعائعی زثرہبجسد العتصری اٹھاے جانے کے می ہوتے ہیں ۔

70 ,/) ۰ ےکلہ میں یو ں''۔ مولوی میا رک ات صاحب نے سامعی نک بتایا کہ یہ دہ پیا رے الفاظ ٹں جو ہو قت وفات آ تضرت ت مننٹی زیان ار ےک _ مہ ما بے عاشتو ںکو ان الفاظ میں تی دتے ول اور قرآن:فا٢:ے‏ > وتا جعلنا لیشیزمن اقیلکٹ الخلد افائن مات فھم المخالدون۔ اے مج تھ سے پل کسی انما نکوبھی تقیرات سے اک سی ز ندگی جم نے نمی دی ۔ جب کہ بھی جو ہ مکوسب سے پور کر پیا ر اسے ان عق بی ع رکو پور اکر کے دفات پاۓ گان دو رس ہبی جھ تجھ س ےکم بر جے کے ہی ںکی گر مدت سے جیا جاسکتے تے۔

ےل رف کک کو ارک اٹ ےکی کہ قرآن سے اق بی ہابت ہوم ےک حضرت ضس علیہ السلام ضل دنر انساوں اور تام خیوں کے وفات پاگے ہیں -

2-9 --

71

کے ملق ہوم

مد اۓ تمالی کے تل او را سان کے ساتھ میا رک ام: صاحب اج کی منا ظرنے ہمایت شغ چا ئے یں دی کے تریب آیات قرآلی سے نبوت اور رح ملعا ین کی ر مت کا تا قیامت جار ی ہو نا خابت فربایا۔ کی ضرب سے بی اترصاحب کا مروت ہونا پا ک کی آگھموں میس وا جج ہوگیا۔ اس وشت پیلک کا شوقی مباح فبراول کے وت سے بھی زیادہ تھااو ری رسلم بل ک بھی بڑی دی سے من و باضل کا مقابلہ د کچھ رہی شھی۔ لوگ ران تھے نے لال تین تو ود علامہ مج مور تھا جس نے ور وو ا فرلقہ کے وقت سے منا ظرہ کے ووت تک شور میا رکھا تھا ۔گراب ایک فو عھراجه کی کے مقالہ می سکیوں ھہدت ہو رہ ے۔ وہ اچنے سفلہ بن سے اور ض و جات شی حسخرسے ج لاکو سا دنر قرآنی نوا ر کے مقاللہ می اس کے تھام جیربے اث ہو ہوک رگزتے جات بلمہ ای تصرف سے والپیں ابی کے مت پر پوت تے ۔اىی مباصغہ کے وقت اس کے لے ایک ات کا سامان این مر پیل اد اکیہ چو نبا رکٹ اص صاحب نے جب لوعاش ابراھیم لکان صدیقا نسیاوالی عدبیٹ ہل کی نرلال تین نے ٹو ککر شور ڈال دیاکہ ىہ عبارت عد بیث ٹن تل جا ذ٥۵‏ شلنگ انعام دوں گا۔ اضر بی ہنا ظھرنے فو رآ ابن ماجہ میں سے پوری عدیث پڑت دی جس سے ملم و نی رسلم پلک پ خوب ای کنا اع ین کی سی و رت کات کے تا ۳۴ ھ "7"

72

لک کے جو جال اس نے پل کر مین کو دمحا ٭7 ۰ئ صن

ہش صراقت جو7 59 رر ےس 7 تا یں ےک یسکہسے

مل کسام کے متحلق تھا۔ لح شس تنا ز اہ بل وضم تن ین ہہ تزان کال و ہہ کے و سے می عو زعلیہ الام کے خلاف با ہکوکی کے زور سے مو ۱م مخ انا رو تہ رشب اس تک لے وف ای کاسافان خر رکا ھا و سس ایا سی عو علیہ الہ والسلا مکی صدات ماب تہکردی۔ لال جن تق رض نی ا رو نک ای اد کا ما رر سس ہے ,- رر رر سا ہے ان سے و :اق لئے ج زاب میم حاکن وو ضا ا کی شا ان کن جن تی کا جپ پالم ہہ ۓےکرشن رود رگو پال تیر ماج ترما یع و ایاج شما ھا مان ۶۶۶۹ "8 : شر کک بت ز ووئی جا ےگ ۔مگردال نین اس بات بے مععرر ہک ضرور١‏ بے

کاجب بی المام بڑھاکہ

73

الے شش یککرسے گا۔ اس پر غ رسلم یلک نے شور ڈال دیاکہ ہم لال حی نکی ان چالاکیو ںکو سن کے لے نیس آرے ۔ اس میا حت کو اسلابی مساتل کے داڑے ے باہرنہ کے جایا جائے۔ لال تین نے پا ربھی نہ مانا تذ لیس اضسرنے عم دیاکہ مباحثہ اسی صورت مم جار ہی رکھاجا تا ہے جب کہ محاہد ہکی پیرد یکی جائے ۔ تب ہہ لیس کے ڈرمے رد بکرلال جن جپ وا۔ :

لڈیمسےالالمطھرون کے معیار کے مطا ق اص ی منا ظرنے رت !رس علیہ السلا مکی عرپی تصفیف ”ا از الس" کی ا در کھو لک با اہ سور ة فا ج ھکی اس عرلی تق کو عضو رتے اود تال کی اص تید و نرت سے کل ھکر اعلا نکیاکہ مخالف مولو بی ا سک نظیر لانے سے تا عصرر ہیں کے اور ب کہ علاء کاا سکی نظرنہ لا سنا ر١‏ تالی کے کی ہو ۓ رسول کی یک صد اق ت کا زیروست نان ہے۔ لال سجن تے ا کو جو اب کیا دبتا تھا مولوی شاء الد کے مقابلہ میں تی رنوڑیی و خیرہ کا رکرتنے ل کگیا۔ اس پچ مبارک ات صاحب اعد ی مزا ظھرن ےکھاکہ اىی میدران میاحخے یں خ اور مارے ح ای ادر تممارے بددگار مولوی جھ ٹچ بر ٹیگ ہیں سب لیک ر31۔ قرع اندازئی سے تق رآ ن کاکوگی حصہ ثکا لکرا سکی تخیر ری مین گکھیں. پھر دیھیی کہ مد ا تھال یک سکی تا ئیدہکر جج ادر کون ا سک نگاہ ین مخزول ایت ہو سے ۔ اس کا یھ جو اب اس سے نہ بن کاو ر دیھٹے دالوں تے دک لاک ہکی ور مد اکے پیاردوں کامتقا بل ہکرت وا نے مغخلوب یل اور خوار ہو تے ہیں۔

74

چار وفع ؟ب دیاکیااورچارول دقع لال جن مہوت ہوا۔ آ ری دفعہ ار بی منا ظارنے حضرت ضس مو عو رعلیہ السلام کان شعر ڑھا۔ بھی نھرت نمیں ملق در مولی سے گنروں کو کل و ا کا کا اس موب پر یہ شع رب برکت اور ظفرسے پ ہوکر وق ابی کے دلوں می ؛ رک رگیا۔ غی رسلم پیک نے با نف می ام بی منا ظ رکے پل اکر مارک باددیی ۔ صد ات کے چے دلوں می ہو ۓ گے ہیں ۔ اب ااستانہ الو تاب رگ رکر ہارب یہ الا ےکہ خحد ا تھالی اس جا کو بڑہاۓے ۔ اس کے فضل سے ہہ باغ بچھو لے بیجلے ۔ بقیہ دیپ عالات انقاء اللد آتندہ ڈ اک میں رو اہ یئ جاتیں گے۔ لی ایال ہو اگی ڈ اک میں بہ منرعالات ار سال ہیں- ( حاکن دع اھ یسلت ال ظازی؛)" اخمار الم ۲ؿ فردری ۱۹۳۵ء صمفاا بر میک رڑی تحلیغ انجھن اھرے یرد ی کی طرف سے بھی تینوں مناظظرو ں کی تفصیل جیا نک یگئی ہے۔ اور آ خر میں الیم نے اس بی چہ میں 2 منا ظر نی کے متحلق مض خطوط کا ا قباس کے نان سے ذیل میں کیھا:۔ لہ منا ظظرہ ایک بہت شاند ار ہنا ظرہ تھا۔ جن اور جار زار کے درمیان عاضری تی۔ اس مناظرہ کے اتظام کیل شر صاحب پ لاس مع پپرنٹیڈڑنٹ پو لاس واسیکو سب انسیکٹان لیس او رکال

معیت کاضٹبلان کے ساتھ اتظام کے موجود تھے پیک کے ٹن

75

کے تا کے ا کت تی راجھد کی تقیسرے میں ہندو “چو تھے میس سک صاحمان تھے کہ اگر می جلاک میں شور اٹھے و ہہ باسانی معلوم ہو کے ۔ پلک تے اس مناظگر: گرا١‏ یا۔

پلک احدىی منا ظرکی ھی تاہلیت اور خراف تکی مخرف تی اور پلک نے اس ا مرکو ا بھی رح بجھ میاکہ ق رآ نکریم کے جان اور نے دالے اچم ی ہی ہیں۔ خی را ی منا ظرلال بین خی پک با ذکی اور بزرلیات کا شریف پلک نے بت برا اش لیا۔ بہت ے نیم مصلم انحاب نے ہمارے منا ظھ ریچ مبارک ام صاخ بکو ما رکبادی کے خطوط کے ۔ ا مم بھی اس کامیالی بر جن مبارک ام صاح ب کو دق دل سے میا رکباد ڑگ یکر ٤‏ ے۔*. اس مزا ظر: کے متحلق إلفضل میں مق رطور یرکککھا جا کا ہے۔ بیہاں ئن ایک

مھ دوس نکی چںھ کی نفقل پش سے دبا ہوں جو منا گر کے بر انموں نے بے

بد آپ کےا نا را مین شال خاش کہ ٹکو ماکل ہو گی ہیں اس خو شی می میس آ پکو میا رکیاد دبتا ہل اس می کو گی کک می ںککہ اھ معاللات میں ت کو با نناہمایت مشنکل ہو سے ۔ راس دن مد ا تھال کی ز بردست طاقت آپ کے ساتھ تھی اور آپ نے اج بہنیادیا ہے۔ دح نکی زیان بند ہوگنی۔ مہ کت پچھرتے تاکز تق اک وت فا نت سے یڑ ھکراو رع ا بکیا ہو ستا ن ےکہ قد اتقالی نے ز بان بی بن ھکر

ےہمث۔ہ۔۔ےسلٰ ۔ سن لر

76

دیس یکر می مین نوز بروحت نا نع تا ہوں 2 2020 نے اور دو رے دوستوں نے فو کیاکہ ا س کی زیان رک ری ہے۔ بلک نے آ پک مارک باددی اور غد اتا ی کی طرف ے چھولو ںکی روعالی بارش ہو گی" (اججت سگھ مگاڈ س سوڈ اکٹ یکیخیا الو نی ) (۲۳۔ا۔-۳۵) بگرغعیااكوم ض وص سر اتدلو نکی ان تاس خاموشی سے وابیں ہنروستتان کچچوا دیا۔ پک عرصہ بعر ایک اور مولوی بنام مج نین آیا۔ یھ عرصہ رچے اور جماعت کے غلاف ری یںکرتے کے باوجود ناکام دہ بھی دائیں چلگیا۔ اس مناظرہ: کے انظامات کے سلسلہ می يہ لکھن بھی دی کا یاعت ہہ وگاکہ بماح تکی طرف سے گرم ملک اج مین صاحب صدر تے اور عخا فی نکی طرف سے مسطرعبدال ہمجن بی رسٹرصد ر تھے صد رصاحبان کاب ذرض خراکہ مناظ کو وت کی بابنلدی کی اطلاع دیں۔ علادہ لاس کے امفظامات کے گھوڑ لیس ار اضروں کے ساتھ موجود تھے ہگ کے ار دگرد پچ رلکاتے رہے۔ ہ رع مک یگڑ ہدکی روک فا کاو را اتظا مکر رکھا تھا۔ اس سلسلہ یں ایک یہ با تبھ یکھے کے تقابل کہ زم تک مھ مین صاحب پرسٹرنے اس مناظ و یگھاگہ کی دجہ سے عرم شھرکت کا فیصل کیا تھا۔ لیان جس دن منانظرہ ہو نا تھا اس سے بی رات اخییں

المام ہوا کہ ضرور شریک ہوں۔ چنانچہ جرت سے خاکسار نے اخبیں مبیران منا ظرد

یس دیکھاکہ ٹچ کے باہرکے حصہ میس پیل ککی طرف من کر کے ٹیٹھے ہیں۔ نز میں

ے. .مھ .... ردروت اھ ھٹ ھا 0۷۷ر دی سے جو سس ےس و سس

77 ہہ ص٭٭٭٭ےووچجھھھیھےیسوڑسسشستسھسھو

آنے کاکیا مرک ہوا “تو نے سماراداقع ہگذشنہ رات کاستایا۔ ال سے ججھے یہ اصاس بج کہ اللہ تال ی کی خاص تئیہ اس خناظرہ می جماعت اور اب کو تیب ری۔ ۲ت

برعال بی مناظمرے کامیاب ہوتے۔ چچھ انجقین خمانران احریت میں شال ہوے۔ بعد میں ہہ جوں مناظگرے پوری تحصیل کے مات رمالہ ریو فک رج (ای یل معئی' جون ۱۹۳۴۵ء) اردو ایے می یکی تین ضطوں میس شیائع ہو ۓے آوچ رکال صورت میں محتزم جیاشن صاحب نے ”من رہ نیدی" زان سے شائ عکیا۔ اخار الٹضل اور اکم میس ان مناظرو ںکی مفصل رپ ریس شائع اشن کا فاص وپ کر کا ہوں۔

78

اشماعت لچ رکاخاص اجمام

الہ تعالی کی دی ہوکی نیقی سے اکسا رکو مشرقی افریقہ کے قیام میں اشاعت یچ رکا خائص خیال رہا۔ اس سلسلہ یں سب سے پل اہوار رہاللہ سوا تی زہای 1 روح کیااور ا کا ام باعصہ۷5( ۷ تع صە م۸( رکا جا ات ری ے۔ آپ ا کی *٭اویں لد سے اور جا سے شال ہو رہ ےسا رسالہ کے چپ مہرریش ممباسہ کے عیسائی باد در یکی طرف سے ایک پمفلٹ خَاَ ہوا جج 1۴9 ےط ”نکفارہ کے ذرییہ غیات''ب اس کا موضوع تھا- ۰ 9 ۹ 2۶۶ ففل ور ا سکی عحبت سے تی ہے می 10ک ۷۹ 21 (۷١6‏ ے - تر ازا نآ رسالہ جرماہ شائیع ہد :رثات عتی مضاشین اعلام کی تار مین - احریت کی صدات میں۔ بمائتی مسانل پر اور عیماتیوں کے اختراضات کے جواب میں۔ فناکسمار کے سای مغ بڑے شوق و اجتمام سے اس رمال کو اتی تھر رات نے مزینکرزتے ریا سمارے ملک می بے رسالہ تیم جن دتون نا و یک نیف نین ز× زط ة8 8737817 تشاعروں کے مفظوم کلام کا صفمہ“ اتدبی احباب اور دو سرے شتراء انا منظوم کلام کے اور اشاعت پذزم ہو٢‏ اب ہہ رسال ہگوشائع ہو ہے لیکن ہرجحن ما یعد۔ بہرحال اح بی تکی اشاعت اور تلنےکا الیک اص اور مو ذریجہ رہا۔ مسلمانوں میں پا فو جماعت کا رسالہ کی اشاعت سے فاص اضزام قائم ہوا کی ایک رسالہ تھاجو سارے

79 سہ س مس أھخھٴۃچچتےےتےٹ۹ےےےن١نی۱ھہجت_رے_حلے_9_ٰ_ٰے‏

ری افرلیقہ میس اسلا مکی می میں ان دنوں شائ ہو نا شرو ہوا۔

عوائی وبان میں رسالہ کے علاوہ ملف سم کے ہرارپاکی تنداومی لف عفادین پر اشتمارات شا رن کی بھی تونق لی-

دوم۔ ضردرت جحسوس ہبوٹ یکہ انی :کی زبان میس بھی بماع ت کال رشان ہو چنا نہ چند صخحات کا کنا ”اص یت“ کے عنوان سے ان دنوں شائح کیاگیا اگری:گی خوان طبقہ کو احریت سے تارف عاصل ہو اور جب بھی عکومت کے گازنرو نک اتریت سے وا فکرنا مقصودہو ا خط وکفابت کے سا یہ پفالٹ بھی ہنوایا جاتا۔

۳ھ عرصے بعر اگریزی زبان مل 171768 ٥[۲۲ھ‏ :788 25 ام سے اخبار مابانہ شا کرنا شر عکیاگیا۔ بانل جیجپر سے اضبار نیردلی سے پچیوایا جات سمارے مشرقی افزیقہ کے علادہ باہر کے مو ںکو بھی ہے آخبار تچجوایا جا۔ فائٍ اس اخبا رکی یڈ کیلئے ھرکز سےکرم مولوئی مھ الدین صاحب ایجم۔ اے ولس ٹکو موا یگیا۔ ان کی اع ادارت بی اور اکسا رکی گر انیم یہ اخبار اع ہت رہا۔ با نوم اگگریىی خواں افریقن می خاص موولیت اسے ری۔ انم قائصی مھ الم صاحب باقع گی سے ہزماہ ”توب پاکتتان** کک ےکر جج اتے ے شا کیا ج١٢‏ خاکسار کے اس ملک سے رخصت ہو نے تک نیردلی سے یہ اخبار ای زا۔

چمارم۔ جرت غلیفۃ لج انی نے سواجلی ترمیۃ القرآ نکیل ارد زبان یی دیاچہ تر فبایا تھا۔ قرآ نکری مکی طباعت کے ساتھ دیاچہ مس سواضیلی می خاکمار نے تمہ کے ساتھھ اسے بھی ششائ لکیا۔ اس کے علاوہ ہزا رکی تد ادیش فل کی صورت میں بھی شا عکیاگیا اور ہہ تلنغ اسلام کا ایگ موث ذریعہ خابت

80

0 دد"'ےیے____ے

0 کور ہے قام کے ابقدائی سمالوں می ب ےکوش یک کہ اسلا مکی "ما 5 .7 رر کے پش نظ رکت کی اشاعت ہد افریقنکاپڑ ھن کاخائ

رق رک کر اص قجہ لی کی اشاع تکی طرف ہوکی چنائچہ سوا نکی می نما زا

دہ چہ نر کر ٠‏ اہر و(وڈ وط0 ۴18:0 کے عخوان کا اوہ شا عکیا۔ اسباق 7

2 سے 11 ج۸8۸( شا جگیا۔ الاسلاع نوا 0 ۶ )یئ د۸ 7 و ات ۲ زا اخ تک یکنا بپ کان ات ی ٹن ع مو 17 171 مر منرت صاجزارہ رزاتیرھ ِ

رص شائ عگیا۔ پغا ریت حضرت غلیفۃ الچ الثانی کے لی رکاسوامیلی رم س مت * ذ8 کے عنوان سے شاک کیا۔ سر الٹی تا 4 . 2 دی تیم ففل الرشن صاحب مغ مخرلی افریق ہکا تین ات کو سی زہانوں ِ_ سر کے میس بی اتی یں ہارے وہاں کے مبلخوں نے فا فککھے دہ سے ےج جک ملیات ے جوائیٹ افرہ سط ہیں یکنا جو ہیا سز پچ ںی اچس دیس اش ورای ےک یش ڈیٹنں مغ ہو ہیں۔ اللہ ماب معلوم ہوا جک ادل رڈ مارشن کے مقال ممیت ان اچ 7 ج ےک یکر نی دی سے ۶3.10 کی ڈاکٹی کی ڈگ ری اس ے اص سی کا ڈاسارکے زادہ سے لی کے سلس میں جو شا دا ول نے :سارہ جخقق پٹ لک سے قا دی نکی دب یک یی یں در کر دو“ کات ے:۔

ئ[ 805ھ )رد دطلەمط نانطد ×8 ۶و ۲106۷٥‏ ےچ ْ۰ و .ہ٥۲۲‏ روزەەنجہ ×ط٣‏ زط 6 5ت8 815 د٥٤‏ زا٥‏

81

ہمجن سببسییینس۔-_ےحتجس۔ہسًسسسسممےس۹سٹ٦8۹س-‏ 7 ۲1۴۵۲ عط. 5 ٥ہ‏ صصتتا ٥٥٢ ٥ م۲68٥2ص ٤‏ طاعدہ×ط) ٥8ہ‏ ط٤‏ ٥1ص6‏ علاوعوەطنط( ططنمطڈ جچصصدة ٥وہ‏ ٥ەط٤‏ ۲٠ہ‏ دہ'' 1عطدناطەم ٥ہ" 1:٤108‏ نانطہ۔ء ۵ط عۃصنط ت رحعصمنەەن- ۶٭نطعء عطا ١‏ 0۱:]ن1اءءء 1 ٤ہ‏ عطمتلطئام (۵٥6[(مہ)‏ عاتصا ٠ہ‏ ۶×٥طصتد‏ 1ج0 8۶161 اہ آ15جزہ عط؛ ×ہ قوط ٥ئ٤‏ زط ءء×٭٥‏ 1961 111م ٥۶۱۱م‏ ط٤‏ 10118 :هی صنا مئ×م]م ط٤‏ ,1954 ص1 صمتععنمھ عط] ۰ط ٤ء‏ ءناطىام ٥8ھ‏ .101000 ص1818 رط ۷ :ذعاەمط طمناع دہ ۱۷٢‏ ەعھ ‏ صدمہ مصن) وہ

89 ۲۰8٥٥٥‏

ا نکاپچوں کے علاوہ اکسا رکو نحضرت ضس موعود علیہ الصلو ‏ والسلا مک یکتاب تی نو کاسوامیلی زبان میں تجمہ ادر ا سکی اشاعح تک نوف ی۔ ا سکتا بکی اشاع تک خاکسار نے چند کین سے ایک ای شا ککی معاوج تکی ت.ری ککی۔ ان نے نات خوی سے اکنا رک رم ججوائی۔ خاکسار نے ان کے نام اٹل پیج کے صف دد پر درج کے دھاکی خرضس سے او دب کاب ان دفوں بی ال ہوگئی۔ اص مقبول ہوگی۔ ٹہو را کے ایک تعلیم يافۃ دوست ملم جحعہ نے چا کہ وہ رات سونے سے عیل ا سکتا پکو ضردر پھتاے۔ اور اپنے کیہ کے نیچ ال را بررے۔ کموں کے ایک نوجوان میسائی تےکتاب پ ھکر اسلام قو لکیاجن کا نام فضل اوڈیرا رکھاگیا۔ شیم۔ اشاعت کے کام می ایک ا اور اہم خدم تک اللہ تال ی نے نف

دئی۔ قرآن یکا سو لی زبان می تجمہ مع تفیری نوشی۔ ایک مفصل وٹ بیس دجنوہ کی بناء پر اٹک انملس میں شائل ہے۔ تقر ذکر یما ںکردینا ضرد ری سے جب ترجہ کاکام نماکسار نے شرو حعکیابہ ماہ رمفضان البارک خھاادر نخاکسا رکا قیام

82

ان آنوں فور رقرابے) جم تھا۔ مہ ۴ا کام غاکسمار نے ۱۹۷۲ء تک رت مت ۷او مو رت سی وع وا کے رکا 0 13[ 7.5.۳7 7 کی معرت مگ رڑی انظر ٹر یوریل ایز کیئی فا رسو اض یکو نظ رخا کیل بجوایا۔ انموں نے اپنے تین سوا ضیگی زان کے کا ہریت ٦‏ 0 اس رت خی ریورٹ بد یکہ مع ۲٢٢٢‏ و مخ 3([ئ”دجۓ؛ عط هاەمط٢‏ ط٤‏ >0

رنورٹ عات کو ۱۹۴۳ء میں موصول ہوگی۔ پھلا ا یش دوس جرا ری تحداد

مس شائع ہوا۔ ىہ این الیٹ افریقن سٹینرڈ کے پرلیں مم طیع ہدا۔ اضبار اییٹ ا ذرنقن سٹینڈ رڈ نے غخاص خرخاکمار کے فوٹو کے ساھ شائ کی۔ سمارے کک کے خلف عرگروہ اواروں ے' افرنن اور دو صرے طلبقہ کے لوکوں نے وب خوب اس کا مکو سرابااور ماع تکو مبا رکباد دئی۔ بت بڑی تعداد می خطوط

شکریہ اور میا رکبادی کے نماکسا رکو موصول ہو ۓے۔

ار اریت عجلد ےامیش مورغ احریت نے اس تزجمہ کے بارہ مس ایک متقانہ فو کا سے اور جناعت کے اس کا مکو جو تیم بھی تھا ور علی بھی وب صرابا اور اینایا۔ مو رخ اص یت ”سو انی ترجہ قرآ نکی طباعت و اشاعت' کے

7

83

جعیساکہ تار اریت (جلد پشم) یش جایا جا چکاے اس تز جم کا آغا زکرم مارک اھ صاحب(ساای ری اتیل مشرق ا فریقہ) ن ےکم رمضان المبارک ۱۳۵۵ھ (مطالقی ےا نو بر۱۹۳۹ء) وکیا اور امت ۱۹۵۳ء کو الیسٹ | فرلیقن سٹینڑ رڈ لین کے یجنگ ڈ ا یکر صفری۔ لی۔ ای رن نے اس کا پملا لد ضخہ جا رکیاج رم چ ا و و اور ہے لیدعت میں تج ود اور درخ ات دم کے ا کی اشاعت کے لئ اجازت چاہی ۔کمرم جن صاح ب کو۱ می ۱۹۵۳ کو تو رکا برق موصول ہواکہ:۔

“78781810 ب18( ۰۹۰ ط۵۰‎ )٢١٢ ةد٭اطا‎ ٤.8 عتلطیام‎ 231٥ ط۷81( ۱1 1183حطكگ) [ءە قد‎

ترجمہ کیا ہے اللد تھالی ا سک اشاعت مبا رککرے۔(غیفۃام6) کو اللہ ند رہ رو زہ اخبار اص یکم جون ۱۹۵۳ء نیرد لی ۔ مشرقی ا فریقہ) تر جن القر نک" خضرح رج گرم تج مبارک اج صاحب نے "کچکشھیکھی ھت و وہ

0

٠ْ بے‎ ٢ ا سوا تیکی ترجہ ق رآ نکی طباعت واشاعت خو ب ہار ےکہ ر مضان البا رک ۱۳۵۵ھ کاپلا مارک‎ ١ ۱

۳ دنع تھا۔ نما زج کے بعد ٹماکسار نے ف ران مجید کے سو ایی ت جم ہکا کام شر عکیا۔ ان دنوں میں و را میس مٹیم تھا۔ جب نماکسار نے اس کام کا١‏ راد ہکیافق میں اکیلا تھاکوگی افرلقن دوست نہ ھا جو اس

محاملہ مین مب ری حد دکرے سو اے پر ا تھربی سکول کے ایک ا فرلنقن تیر

دناۓ احریت میں سال ۱۳٣٣٢‏ ہش / ۱۹۵۳ء کے وس کا ۱ ایک ہمایت ایم واقعہ سواجلی ت جم القرآ نکی طباعت و اشا ھت جن نے مشرتی ا فریقہ میس تن الا مکی مع مکو جز کر دباادر

۲0۴

”7ئ ٣٥٢‏ دم نا۵۸1 عط)+ ہ,عامط٢‏ عط ہ0“

84

معلم سعیری کامی کے ' جو عرلی زبان سے وافف نہ تے اور جو یھ عرصہ کے بعد کام چھو ڑکر لے گئے۔ برعال تجمہ کا کام می نے باقاعدکی کے ساتھ جار ی رھا۔ دن کے بعد ون ؛ ہغے کے بعر جن اود مال کے بعد سا لگ دتے رہے ج کہ دہ دن بھی کن بناجب میں پاروں کا :تج کل ہوگیا۔

۳ء میں جب تر جعنہ ق رآ ن کا سوہ ٹائپ ہوک رعمل ہوگیا و

اسے تفہ کے ایک ہم وا شید ری لیگ زی

برا سو اتل

15٤568-76 ×۴1[٥۴زذ31 جقعچّد]ا‎ ٥ة‎ )0٥0× 166 تاط8۷‎

کوجو سوا مت یکی ترمی و اصلاع کے لے لوم تکی طرف سے مقر تا فرش راۓ موا دیاگیا۔ اس ادا دہ نے اپنے ما ہری نکو ا سک دد کاپیاں بخرض تقید داصلاح مچجوایں اور خوا پش لک یکہ وہ تڑجمہ اور زپان دونوں کے متحلق انی راۓ سے ىر رے خو رو گر کے بعر کک بل بت و کٹ ا ہری نکی کئی صفحات بر مشقتل آراء ہیں جو اتیں۔ ا نکی تلق رت ا

یہ ترجہ جھو گی اعقبار سے بست اجچھابہے ۔ ان ما ہرین نے لتضش ماما تکی تبد بی کا مو رد دیا جو قجو لکیاگیااو رض مہ ا نکی عرلی زبان سے عم وا تفی تکی وجہ سے ا نکی تو زہ اصلاع یا راۓے رد

سے ۱

اس ابق ای نظرمالی ہے بعد بے مصودہ صواجلی زبان کے اض دم فاضل وی ہرا ف رق نکو کنواياکہ دہ غالا زان کے ام غم اور

تحت زبان کے بارس میں اتی راۓ دیں - یھ عرصہ إعر ریا ۵ء میس ہمارے عزی: بھاکی چنا عرکی عبید ىی جو میا عرصہ میرے سان رج اور جھ سے قرآن مجید کات جم پڑ ھن ادر عرلی گی اور ری ام رشن تین مال ار ررض سا 6 کے باعث اس تقائل ہو گ کہ دہ اس پر مزید ماہرانہ تقیدی ٹاہ ڈال گھیں۔ چنانچہ انموں نے اس کابقور مطالعہ “موا زنہ اور شیج کاکام رو عکر دا اور عرلی زبان سے اس کانظالق اد رد رسکی طرف تھی یو یت ورک رت جع کت دو سرے علماء نے بھی جو تق رآلی علوم اور اسلا ھی علوم کے بھی م ہر تھے اور عرپی اور سو انی دونوں زبانوں سے نماض وا قیت حاص لکر گے تے اس تربع کو بدوے خور و گر سے پڑ ھا اپنی را وی“ مو رہ دہا۔ ایدید ۔ سب ا فرلیقن ابل عم اور مارے علاء سو اتی ترجحمہ او را ںکی فصاحت سے متا تر اور خوش ہوۓ۔

7 7 یں 7 جک ےرت تر ہمہ کے کام کے بعد ا ںکی بڑی شرت سے ضردرت حسوس ہو گی کہ تفیری نوٹ بھی کے جانتیں چنانچہ ۱۹۳۹ء کے آ خرمیں با فضوص مندرجہ زی تن امو رک پر نظرررکت ہو ۓےکئی سونو ٹف ککسے گئ ۔

اول:۔ ھی بات ان نوٹوں میں ہہ ید نظر رکھ یگ یہ مشرتی افریقہ میں غیرملسوں با وص عیسائیو ں کی طرف سے ان کے

86

را و سال او رکتب میں تقر نکر مکی کی آبیت پا تخلیم یا آفضرت ت شڈ کی مفرس ز نرک پر اع نکیاگیا ہو ا ن کا اب ضرو ردیاجاۓے۔

دوم:۔ قرآ نک ری مکی تعلیم کے ساتھھ ساتھ دو مرے زاب عا مکی لی مکا مق ل کر کے اسلائی نعل مکی بر تر ب یکو ولا تل سے شابمت کیاجاۓ ۔

وم : ۔کئی برعات اور رکم و رداح شرلعت اسلامے او را سوہ ی کے غلاف ہیں اور ملمافوں می بو جہ عد م غمم قرآن داخل ہوگئی ہیں ج نکی قباح تکو وا حکر کے ال تعلیم ؛ ور صل تاکن نمایاں کے ارد

2 کت و کے ند

فوٹ سر نا رت سی موعود علیہ السلام افو حضرت غلیفۃ اع اقن کر نی ما نفد اض ےا ب نفد کے ما جا ے گے جن کے پٹ ھن سے انسالی جن اود دمار گرا انز پڑ .بے اور یقت عیاں ہو جاتی ےکم قرآن مجید بتی نو انا نکی تام ضرو ریس پور یکرت ہے اور ا سکتاب تیم شی ابی زبروست ق٥ت‏ کہ وہ لوگو ں کو ذات سے اٹھاکر رفعت اور عظمت کی چوٹیوں تک جیا تی ے۔"

جن دوستوں نے سو مکی ترجہ قرآان من گرم شی مارک اھ صاحب کا بات ایا اور تصوضی امداد فرماکی آپ نے ترجمہ کے شرع من ان ک2 ول سے شگزج+واکرتے ہونۓ گر ف ماناک

۱ ٰ

87

جھ بر لازم ‏ ےکہ می اپنے ان رفقاء کا اص طور پر ذک رکرو جنموں ۓےگمزشتہ دو تین سالوں می بمت اگر مندربی أخاص خوق اور پو ری لن اور محبت سے میراہاتھ بٹایاے ۔ خلا ا۔ شا ری عبید ىی - ۲۔ مو لان مور صاحب ناضل

حقیقت ىہ ےکہ میرے ان دو ساتمیوں نے اس تمہ و تی رکی نظرمانی سے ام ؛ نوٹو ںکی سیل ' بر وفوں کے دچھے اور تخیرے ملق وو سرے مور میس اض اداد کی ہے۔ اسی طرں مولانا عنایت از صاحب خل “موم نا جلال الد ین صاحب تھرے اعادیٹ اور در ضرودری موا اکٹ اکر تے میں اور عرلی من کے آخری روف دی میں با فضوص محتزم قاضی عبدالسلام صاحب بھٹی نے

کت ر در ے۔'' یر ناحضرت مج مو عو دکا یمان افرو ز ماچہ

دای رجہ قرآن کے سات حطرت مجع موعور“ کا ایک امان افروز دیاچہ بھی شائع ہوا جو مضور نے محنزم بن صاح بک درخواست پر عطا فرمایا۔ ىہ تر نی دییاچہ تضسورنے مول نا حر لقوب صاحب طاہرانجارج شعبہ زودنوڑ یکو گگکھوایا تھا جو انھوں نے ۱۸ ور ی ۹۵۳ا ء کو صا فکر کے جو رکی ید مت میں شی قکیا۔ تضور نے اپے تم مارک س ےکی مقامات پگ جخکی اور آ خر مم رظ بت فرماۓے۔ ۱۹۔ جوری ۳ء کو گرم شی یکن صاحب انور بر اوٹ سک رٹڑی نے اسے یرد لی پجچانے کے لے وکیل

88

انیشیر صاحب تریک چی ھکو جو ادیا-

جناب جن صاحب نے اس ا ردد یباچ کا غام فحم واج میں

تریح کیا۔و ماج کامضن حب زیل تھا:۔

اعوذباللەمن‌الشیطنالرجیم بسماللەالرحمنالرحیم جخت مل قلی ہت الکحرم مد اک نل اور رق کے ساتھ ھرالناصر

سوا ذبان می ق رآ نکر کا7 جمہ اوراس کے مخمون کے متحلق تق رنوٹ اع سے جا ر ہے ہیں۔ ا فریق ہکو اسلائی پا رجش الیک خائی ایت عاصل سے تصوباشحال مشرتی ا ف ریت ہکو۔ اسلام کے ابقدائی ایام می جب کمہ دالوں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے مظالم او رککہ میں ملمائو ں کی ر ان ناضکن ہوگی تر سو لکریم پا کے ا شا سے ملمانو ںکو ععش ہکی طرف جان ےکی برایت فرائی۔ عبشہ مت اس میضا وہ ملک ہے جوھک کیذیاکالوٹی کے ساتھھ لگا ہوا سے ۔ نے ملمان اس لک میس چچئے ود ردہاں کے بادشاہ کے بقاندن کے بائحت انی ںکی لع مکی تیف نہ بہنچائ یگئی اور ام ن کا ساس انموں تے لینا شر کیا نے لہ والوں سے يہ بات بزداشت تہ ہو گی اور انیوں ے انی قوم کے دولیڑ رو ںکویادشاہ اد دا کے دریاریوں کے لئ بہت سے تححا قف د ےک کو ایااد داش ب پر ابی تک یک دہ بادشاہ سے در خواس تکریںکہ دہ ما جری ننکو کک کی علومت کے حوال کر دے کہ دہ انع سے اپنے خیالات اور عقا تر کے مطالقن

89

شک کر اور و شا مات و پر ان کک رک ان سے بادشاہ پر زور ڈلد اتی اور مان ممما بین کک ہکو ہنس رح بھی ہو وا یں کہ لایس چناتچہ ہہ وف کہ سےگیااو رورباریوں تحصوص] بادریوں کے ذرلعہ سے بادشاہ سے سا جو اس زہات نہ میں مل سکلاح کے خرن لوک شی کت تھے ا ا شا انا نون ا اس زمانہ کے میتی بادشاہوں کا اقب ہو تھا۔ چنا بے بادشاہ کے ات میں نے شارت کی یا ان کے کیک کے بای مات کر عیشہ آ گے ہیں اور انیس کہ دالوں نے اس لئ ھا ےک ہ ان باخیو ںکو کل کی حکومت کے جو ا لے کر دیا جاے۔ یادشاہ نے ان لوگو ںکی بانتیں مس نکر مسلمانو ںکو بلو ایا اور اع سے و چچھاککہ 2 ہدس طرح آے ہیں انوں نے بنا اککہ ان بر ا نکی قو من مکردبی شی اور چ کہ ا فرنشن بادشاہ کاانصاف اور اس کاعرل مشمور تھا٥‏ ا کے ملک میں بناہ لیے کے لئ آ گے ۔ اس پ" باد شا نے مکی کے وف دکو جواب دیاکہ چو کہ ان کے خلا فکو کی سا سی جم مابیت نمیں صرف نر بی اختلاف ثابت سے اس لے وہ ا نکو وا لی ںکرنے کے لئ تار ھیں ۔ کہ کا وند جب دربار سے ناکام لوٹا اس تے درباراوںل اور پاددیو ںکو بھی تھے تقیم سے اور اشمیں اکسایاکہ بی ملمان لوگ رتس کی بھی ہج ککرت ہیں اس لے سیکیو ںکو بھی مکمہ والوں کے ساتھ ملک ران بش کرک جاچے۔

چنانچہ دوسرے دن پھردرباریوں نے بادشاہ پر زور دیاکہ ے لاک ے‫ کی بھی پچ ک کرت ہیں چنامچہ باد شا نے مسلمانو ںکو پھر

90

لدایا اور ان سے پچ پچھاککہ آپ لوگ کے کے بارے م سکیا عقیرہ ریت ہیں۔ ملمانوں نے سور ۃ مر مکی ابد کی آیات پڑ ھکرا نکو سنائمیں جن میش تک اد را نکی داد ہکا ذکر ہے اورپ رکماکہ جم کو ئی ال مات ہیں۔ ہاں انیس تد اکابیٹا ٹنیس ما تے۔ اس پ یادریوں نے شور ہیا دیاکہ دیکھو انموں نے کے کی بج ککی سے گرا فرنقن بادشما متصف اور عادل نھااس نے مھ لیاکنہ یہ ارام ان پر غلط لگایا جا را یہ لوگ سک کااد بکرتے ہیں گر ا ںکو قد ایا غد اکا ٹا یں ماتنے پ بنا تچ این نے رن جو نی سے ایک میا فرش پر سے اٹھایا او رکھاکہ خد اکی حم میں بھی سم عکودہی یھ ما:ا ہوں جو ہیکت ہیں اود یں اس درجہ سے جو انموں نے کم علیہ الام کابیا نکیا ا سے الیک گے کے باب بھی زیاددتیں نکھھتا اس پیا دزوں تے بادشاہ کے غلاف تھی آدازے کنے شرع ک کہ و بھی عرتر ہوگیا سے ینعی کے ا سار کے سیت مرعوب نمی ہو سکتا۔ جب میرا باپ ھرا فو یس چکھو ٹا بچہ تھا اور می ری لہ مرا پا قائم مقام بادشاہ متقر رکیاگیا تھا١‏ و ر تم لوگوں نے اس کے سا م لکربہ فیصل کیا تھاکہ جج ھکو ححت سے حرو مکردو۔ جب جچھے ہے بات معلوم ہو گی و باوجھ داس کےکہ میس بپچھو ٹا تھائیس تے ا بنا تن ینا چا اور وجوان ھیرے ساتھ مل گے اور میرے چان ڈ رکر دحبرداری دے ری 2 کے کر دا و ری بادشابت تماری وجہ سے نمی بللہ غحدا تھالی نے باوجود تماری ال فکوشمثوں کے یھ دی ہے ۔کیائیس اب تم سے ڈ رکر شید اکو

91

زرکرو رٹل روف 7یت سے دکی ہے نہ می تحماری مد دکا ختاج ہوں۔ می کی صورت میں تم 7 102 ا نکو نقصان خمیں پا سکتا۔

پیں اے ابل ا فرییقہ جن کے مشرقی علا کی صلی زبان سو اتی سے مس بے ترجہ آ پکو بین یکر نے مین ایک لت اور حرو رو کت ہو ںکی و کیہ ا سکاب کے ابق اگی ایام یس ا سکاب کے ما سے والو ںکو آپ کے پراعضمم نے پناہ دی تھی او ر عم د تد یمرنے سے الگا رکر دا ھااور اتصاف اور عدرل تائمککرنے کابڑا! ٹھالیا تھا۔ آ جع قرآن پا ککی تیم ١ی‏ طرح مظلوم ہے جس طر نک ھکسی زمانہ ش قرآ نکریم کے مانۓ وا نے مظلوم ہو اکرتے تھے ۔ آ ج اس قرآن ری مکودنیائیش لاتے والا نمی فوت ہو کا ہے لان اس کار و عالی وجود آج اس سے بھی زیادہ مظلوم ہے جقناکہ رج سے تقرآچھ دہ سو سال پل دہ اتی دنیادی ز ندگی میس مظلوم تھا۔ اس پر بھھو ٹے الام لگائے جاتے ہیں ۔ ا سک لاگی ہو گی لی مکو گا ڑکرد نیا کے ساتے یی کیا جانا کے اس کے بات والو نکو تی ار یل تمچھاھاج سے لیکن مرا گواو ہج ےکم وا لع ہے نس 75 - 7 کو و لک ا کا ا سے زیادہ گی تعلیم دہ ہے جو ا سکاب نی ق رآن جیر میس موجھ د ہے جیساکہ آپ خود دک لیس گے۔ دنا صرف انی طاقت اور قت کے گنڈیر ا لکی تر دی کرد تی ہے او راس کے ماستنۓ واالو ںکو ذ لی لکر

ریے۔

کن اے ابل ا فریقہ اج آ پ کابھی بسی عال ہے۔ آ پکوٹھی خی رگھوں میں و 1لک رہ اپنے لک میں بھی ذیل بی مچھاجا رہاے۔ بیپرپ>ٗ و رر رت7 قو مکو دنیاکی تر قیا کیچ ٹی بر بپنچاد یا تھالجان جج مظلوم ہے اور مھ سے ب ےگ کر د یگکئی ہے میں اسے آپ لوکوں کے سساتے یی کر ہوں ج بکہ آپ لوگو ںکی عالت بھی اسی مکی ہے او رآپ کے یل رح ون 1 کنا وو کے اق ا رای مان اور انصا فک نثا: سے اسے وکاھیں جس ہگاہ سے بای نے لہ کے مصملم ہما ری یکو دنیکھا تھا اور پچلراپی عقل اور بصیرت سے نہک 6 2 کی ہنائی ہوئی رگن عینکوں کے ذ رجہ سے اسے دکیھیں۔ جھے مین ےکہ اگر آپ الیاکریں گے و آ پکو اس ماما ی جو ہرکی تخیقت معلوم ہو جال گی او راس رس ےکو آپ لیس کے جوہکہ خد اتال نے ا سکاب کے ذربہ سے آسان سے یکا سے اک اس کے ہر کے نےکر نی سک ما یت

اے ابل ) فریقہ !ایک وفع راچ عرل اور الصاف کا بُوت ذواو ر ایک سچائی کے تا مکرنے می بدددو جو گی تما رے پیا 77 90 ۷س0" فلام تو میں آزاو٘میں ہو کتیں مظلوم علم سے چھکا را نمی پاستے۔ تید ی قد مانوں سے چھوٹ نیس کت اہن رن بہت اور کا

93

پا میس تمیں بنا ہوں۔ پغام میرا نمی بلہ تار ے اور میرے پر اکر وانے دا کا پغام ہے ۔ ہہ زمن و آسان کے پیداکرنے دالے مد اک پغام ہے۔ یہ او رپ “ا مریکہ اور الگا کے پید اکرنے دالے مد اکا پغام ہے۔ برارو ںکی تقد اد میں 'لاکھو ںکی تقر اد یش اور جائی کے جھنڈڑے کے تیچ شع ہو جا کہ ہم سب م لک دنا میس از مرن مد ا تال یی کی بادشاہ تکو تائ مک دیں اور تی و انان کی ےت وا ناکم کے لضاف یا میں ما مکردمیں۔ فد اتھالی آپ لوگو ںکو ممبربی آ داز یر للیک کن ےکی ۳ 7 تو پروش ونیایش امن او رسلا شی اور ي اور رفاہیت جیت کے قاع مکمرنے می کو شش کر رے ہوں اور پھر یکو ششل ۂ مد اتقالی کے نفل ے کاخیاپ ہو۔ (ماکسار رز ا ممودا مر غیفۃ ال الانی)

اصر یہ من مشرقی ا فریقہ نے ہہ مع رک الار ا۶د اہ پھاس ہار کی تقد وی بصورت پہفلٹ بھی شال کر کے تقی مکیا-

بی افو وو و عو مقصل خر

می ۱۹۰۵۳ ء کو ترجہ قرآن کا پسلا مخ تار ہوا اور ٦ای‏ ۴۳ء کو نیدی ہے اخار ایٹ افرشی سینڑرۂ (18508 8+35 ٥ھ‏ ٤ت‏ پل یں کی طرف ے اس کے پ لے نہ کے پیٹ سے جان ےکی تقرجب ماف ٹومع ا سکی تفعبل

رکے شا عکیاجو یہ شی:۔

ه ۶ش نانطع 5+۷ سا ص۳8ہ( ا50 11ط ت مر

٭[< ود م۸( احطانەطڈ مجد 5۷٥۱٠٥٥ ۲٥۵۶۵‏ ۶ہ ص0 ہ٥۷8(‏ ۱۱نط0 ١)‏ صد تس عط 19١,‏ صطھ سناہں۷م( ہر ة2دصطھٛ > دددہ[ہھ ئعەثتا عطا ج :1غ ۰[3ط۶۵۸٤‏ ٥ہ‏ ادج ط٤ ١(۲‏ هحصذط 8٥٤‏ 25188105 اطخ طۃہء۶ ”0+۶ راہ ط٤‏ ۶ہ عامط٣٢‏ عط نانطد +85 15:0

[۸8٤16جرددہء ٢٣۱< × ٢٢‏ عنط ٥1۸٥0‏ ×ط6" ۵ہ ج صت,صمنط ۵۵3ئ٣‏ عنط ۶ہ جرہء 18۲۱ عط٤‏ ×ط٢‏ صنط ح٤ 416٤‏ صعط ٢ج٢‏ ,ع×ّنل صزط ۱885107 ۴۵۵۵۸۶ط ×وخءمعنط چ صاع ص۷5۸۸( >ہ۵٤دصھ۸‏ .8 .6 .35۳ بدا ٥۴‏ ,564 ,43۶93 8+35 صدہ[ہھ 588٤‏ ط٤‏ ٥٤ہ‏ ×"+و جدعائخ وط ×َاەەط ط٤‏ ٥٤ہ‏ دہ ج3مّ 1,100 عط .ع1 ص۶م عط صا قط صمح ٥٥××ط٤‏

عط طجہ×ط صمناسط[×٤‏ ٥ا‏ ۶ہ منزا5ص(5]8( )ذ۸ذ ۲یہ7 سا جچمذگا۶<ہ قصہتهعتص حا3۸08( ۶6 و؛ہنجہء 10,000 ,مع ہ60 صعنعاءظ عط٤ ٤‏ ط4 8 11طادم ٥٥ط‏

دعط طءنط٢‏ ,ص<×ہ0() عط٣‏ ٤ہ‏ روجرہء :1+8 756 نانطعكت8 عط٤؛غ 4٥‏ ندجچٛدهە(١‏ ؛اع×ے٤غ‏ ۲ ا ا3ھ ط٤‏ مط ۲و ٥۱عط‏ عط٣ ٥‏ د٥ہ‏ عط 11 ٦858918510‏ 7828٤‏ با ٥٠٢0ص‏ صسنلمم۷5( حر بزنفل3صطھ اد ,ف3دصطھ 1 سصط 1-01-53۸۸ 1صنطعوظ 351:23( ٢۷‏ بطد٣×٭ط8٦‏ ّٛذ ۲٥۱۰۵‏ 3۶و٭ط ‏ ەنط

95

سسسسسسسسسسسسسسسم‌مممسسسسسسسسسسسسصصوسسسسسٔی--د-ص---و-ص--ص-.یص‫کبکک‪ٌجپسش ‏ ےو

طواعز8ٌ٤ج5. مع ۲:11 ٥٥ذزجزہوء ۶عط01‎ ٠٥ ٣ط‎ ۲۲1١ ۶۳ء ۷ئ۹۷ و ا ہ۷‎ دہ‎ 3 ٢)١ دنصنل( دعجز)ہ×ہ"7 ەط‎ ۲٥× (7۸۶.۰ 7 ۲:٠1۵ط‎ 7۴0.

2 :۱۱۵۱۵۱۵۲۰۰۰۰۱۸۵۰( وق قائت ط٢‏ ماعط 10ہ ١‏ صطے طقانعط8 ہرجہء ٥د1۶‏ 8 عط بدمنا([ ٤٣٥٤ٗ‏ عنط ااعط نہ ا١ط‏ ءط 8 ]هہ حدطە٥اطاە×ھم‏ عطا طز 8:م7۱وہء 81(ق[×ەہ ‏ نطا۶ءھ عط؛غ؛ ط٤ذ ٢٢‏ ۔یمنٹھام طاەز .11ن قد ب٥٭ّ×‏ × ٢٢‏ ٤ذ‏ ,اع دنہ ۰ھ 8۵ک صا ەہ6×صم وصناصلم صةہ ×0۱

86+8 ۲۵ذ ٤طە 288٤‏ ءا صعط؛ 176 ”ا۳۹۱ د40 ط۱ ٘اہ عنطا'' عصناجمنء×ط ×۱ د٤ہ‏ < ۲طد ھ ص7 ذ٥1‏ ممہہء ٠‏

8 ۳۱۲۶م ۱11 0٥٤و‏ ناطام عئنط؛ اعط ەممط ۲" ,78168ے اموظ ۶ہ 6 اہم ٥ط ٤٥‏ چد(آہ 18ط <٥‏ ع8 ۲× ,اصنص ٤ہ‏ ےعدّّم صدەط؛ جدنعط ص( ہ۳ ۸ہ[ ج مع ۰۸11 قد ب اق لمت 11081عزمرہ صعنصسصحہدہ0 ۶ہ (ذ٭٭ہ عط٣‏ چصتقععطدہ 09 "رع د10 ۲۷13 تحص ہہ -ط6] 5 ج 1۳0۴۱۷۰ طحانەهمط5 ط٤‏

×ط ۰٥۱‏ 8 د1ط ١ط‏ زا ند ہء ۲۷11 مہ۶( ہہ“ غِط ,”عا×۱ە× امط عنط) ٘ٗٔذ ٥صعطہ‏ ×ەر 6١۱٥ ١٠۳‏ 8

61٤م‎ ۶ 3٢٠ ٤:طع دہہ×م‎ ]٦ہ٥‎ ْ.6

۵(8 8:0 صہد٣(۲ھ‏ ٤288ا‏ ءعط؛) ۶ہ ۶اط 6 ٤ہ‏ دہذ٤۶۱۸۰ٗھ٘‏ عط]٢‏ ×ذ ٥60‏ ذ 880٥‏ د٤ہ‏ 01۰ زا1

18 ۱۲۸۰۱۸ ع۱ هط غحط]٤‏ 14د صمدط16 جم .۸5۳(

96

ط٤‏ ٥سہد*٭ط‏ ادٔدہ ×0٦‏ ۔دہ( ٤٣ہ‏ ٢۵٥ج‏ 8 جاءئنط ×× ا×ہ٣‏ ؛دہ×ع مط٤؛‏ ۶ہ عدہ ۰٢‏ ۹03 قغ قھاە عطا ٥.‏ ١٭ھ‏ ×طدءةةءز عط٤‏ ٥د‏ در چ صز”×ط ر(دصددہ 15000٤10 ١٠۱۱1٢‏ عچصنحادمجہ ۔نانطد 850 ٤١‏ جد(٥ەط-1[١۳‏ 11۲031رہ

(۸۷٥118 1 2088٤ ۰ھ‎

5٤35 18707,53 ۱1+013, (58, 16,1953(‏ ص۵٥٣[ھم‏ اقوئگ

ق رآ نکری سوا ضلی اد ر عرپی زبان میس شا ئ کر دیاگیا

) ؟۶۶١ٰ‏ 7 کپ + و معشرقی ا فربیقہ کے یراو ر ام یہ مسلم مشن کے چیف مشنری ہیں ق رآن ک ری کاعرلی سے سو ا جیٹی زبان میں تر جح کرت کابیڑاا ٹھایا-

بجعرات کے دن ان کاکام پابیہ تی لکو بہنچااور مطری۔ لی۔ اییڑرسن نے جو ائینٹ ا فرلیقن سٹینڑ رڈ لین کے ینگ ڈائرییٹرمیں ترجہ کاپسلا نے جو دیدہ زیب جلد سے زین تام صاحب موصوف ۷ھ 000 ٹیس بین ماہ صرف ہو ۓے۔

ق رآ نکریم کا پسلا نے جس میں عربی من کے سا سوا ھی جم دیاگیا ے حخرت ہرزا ٗی ر الد نع گور ١ر‏ صاحب انام بماعت اج یکو ان کے عرکز ربوہ مخرلی پاکتتان دسا لکیا جاۓ گا۔ اس کے علاوہ اس تجمہ کے نے مسٹرع علی و زم اعظم پاکتان اور مسر مج خفرارشہ ان و زس غار جہ پاکستاا نکو ار سال کے جانیں گے۔ خی ما امہ شا مارک ا صاحب نے ا ںکناب کاپ لام بے

97

ہوے فرما کیہ جب وہ تر جمہ کاکام عم ل کر گے و ن کے سان کی طباعت کا متلہ در گی تھا۔ مشرتی افریقہ ہیں کسی برلیں کے لے ہی وصص یہ رنہ

انھوں نے اییسٹ افرلقن سینڑر ڈکے لاف کو اس میم کا مکی ای ا خر نے

یف اماک اتکی اشاعت مخرں افرلت کے پاشنرون ے لے بی کت کا موجب عایت ہوگی اس :کے رجہ سےا خییں اشھینان قلب عاصعل ہوگااد ردہ اخلاقی اور دوعانی رنگ می ا نکی ربلنعد بی کا موجب ہوگانی زیو غزم کے یرسے اثرات کے اڑالہ اور لف فرٹوں میں مر تعلقات استوا رکرنے می ات م گروار ادا /تے 26

اوں نے بب یکماکہ اس مقد س کام میس آ پکی فرم نے جو یلاہ ا ںکی وج سے اللہ تھا ی اسے تھی برککت سے گاذ

ا کنا بکی ٹینکش کے مو تع بر ایسٹ ا فرلیقن سٹینڑ رڈ کاسا را طاف جس نے اس ق رآ نکری مکی طباعت مس حصہ لیاموجور تھا۔

مرا یڈ بن نے کمانکہ دودااسس' تقر بک ایک بہت با و ات رات میرف این یل ےکا ایس ور نے مرن می مم کا بکی طباعت کاکار نام مھرامحام دیا بللہ اس سل ےھ یککہ ا کی ٤‏ ۱ے کے یی 2 تا سو کے ےو کون اور روعالی تتحلان کا موجب ہوگا_ سا تی جج کی اش حوت ضخرت امی دومن لو ور

سا

98

فظاء مبارک يہ تھاکہ قرآ نکریم کے تز جم کی اشاعت کے لے خاص و جہ دی جاۓے ۔کمرم ش مارک اج صاحب نے ا لک عبل کے لئ ایک وسیج بر وگرام موہ کیا اور ااما: اسان ۱۴٣٣‏ یل ( مطابق ااجون ۱۹۵۳ء )کو ضمو رکی ود مت میں حصب زبل رپورٹ ارقال 5ین

تو رکاارشادکہ یا نکر کے سوا جی تج کی اشاعت اصل کا سے' اس کے متحلق ضرد ری پر وگر ام اد ر تما داحتا ری جا ردی ہیں۔ () اہم گی اخبارات میں بانقاعدہ اسمار )٢(‏ یرلیہ خاص پفلٹ (۳) خارات میں رو (۴) اور 2٤1058‏ 05ا17 (۵) بے کے رر )6ت مارک زرج (ع) جماعیوں کے زرل کہ وہ اس تر جح کو ک ےک رم٢عنرذین‏ کے پان ای اور فروخ تکریں اور انیں ری ککری ںک وہ افریقنزش ا سک و تی ری ۔ خودجھی ارادہ ےک ملک کادور ٥کیا‏ جاۓ۔ ؤ بؤ+ؤ ‏ 0 +) ,+0 ہزغ سے م یر این 9ءء و وت 22 ایک نماص گرا ن کیٹی مر رکرنے کی میں

ہوں۔ پاکتان کےگو رن جنزل * یرام ضرا و رفارن فرکو مقائی کشر پاکنتان کے ز ریہ سوا جیی ترجہ لبطو ر تفہ دیا جار ہاے ۔۱موز ٹردا 32 ا اس موقح برا شبارات اور فو وگ افروں کے نا7 رہ ہوں گے۔ نا یکشن پچ رخودا نکتابو ںکوکرا تی مچنوادمیں گے۔ ہر

99

ای ککی مد مت میں ایک مق رخ بھی ککھا جا ۓ گا۔ انشاء اد - اس وت تک تقریاً ۲ا برا رشن گکیکتب با ہ ملف ایگنوں “میک شاپ اور فردا فردلوگو ںکو مو ائی جاچی یں-

.رق ا فریقہ کے ملف علاء اور ا لم کے تا رات

سوا می تجمہ مرقی ا فریقہ کے احیہ مشن کا ٦ی‏ مکارنامہ سے جس نے ملا نان ا فریقہ کے جو ملے بداۓ ۔۔ ان میں عم قرآ نکی نی مشعل روش نکی اور غیرمسلموں میں اشاعت اسلام کے نۓ رت کول دی ۔ اک بر ۱۹۵۴ء کی جات ےک منزم شی مبارک اج صاحب ٹاہگا شر کے تھلیقی دورہ پر تخریف لے سج تو ایک مسلم اپ ےن رر کن اج مھ فاحت (مطازم انی رک ڈمپار تمنٹ الیسٹ افرلین ر بے )نے آپ سے طا قا تک او ریا منمبارک دیے آیا ہوں اور خو شی ری سنانے آیا ہوں۔ "جم صاحب نے اکماد کیا ؟ کن گ ےک پا کے سوا تیلی نز جم ق رآ نکری مکی الیک کاب خر یکر میں نے ایک حیساگی افریق ن کو پٹ سے کے لے دی تھی۔ اس کاخط آیا کہ میس ق رن یکا ت جم بے کر ملمان ہوگیا 2 ۱

(ڈائزک یکر ہی مارک اھ صاحب مم رد لی ۴۹اک ر۱۹۵۳ء)

اس تجح کی خبت مشرقی ا فریقہ کے چند متاز عماء اور ابل ف مکی آراء در

فی کی جائی ؤں۔

اخ الفزالی آف ممبامہکیڈیا مد رسہ خزالی میا کے بدرس اور دیٹی علو مکی

101 ۱ - 00

اشاعت کا اض شخف رکے وانے عا لم دن تھے ادردن رات درس و تج رلک ان قرآن پاک می دج یئ ہیں ہج نکو خقل بھی لی مک رکی سے ۔ کاو ظیفہ تھا-) ۴٣۔‏ جاب اے عبرال' آے موہو خزاب (اہۓ اذ ک ایک وے یا ری اور بجر تھے جک سے کے اواقت جو انی انل علاقہ ین بد و ضتان سے گے ان سے اع کے ھ رام تھ۔) نے ککھا:۔ آپ کے اس مقدس کام کا بہت بہت تکرب ۔ انف تعالی آ پ کو سی عمرعطا فرماۓ ۔ جم نے خ رآن مجید جصی پاک و مقد سکاب پالی ۔ ٢‏ جناب اعولی صاع آف زئجبار (آپ بہت عرصہ ٹانگانیکا یس فو رس میس اج تفر ےک پک یی کے ای اچ ام مق یر اعلی عدہ بر متمکن رہے۔ بعد ازاں ز نار آکر اپچنے قبیلہ کے لوکون میں رہائُل گکھعون اور آپ کے اس انتک محنت دانے کام > اظمار ہد ردی انخنازکی ا نزک کونشانع کے مظاک تق کے کن نل م رت 29 مات من سے کت) ۴۔ جناب خماری آرو بی آٌف ا رگا تر اضیہ (ار ہا کے علاقہ کے ایک مشمور انھوں نے کھاہکہ میں نے ققرآن اک کے اس ترجہ کا اتی صاحب عکم اور تن اسلام سے خصوصی دئی ر کے والے ہیں۔) نے کتھا:۔ 0 8 9۹389 ×7 پکی ططرف سے اق رآن ہاگ کے سو ایی تج و تقی کو پاگر کا تی نا کی یک ایت ممنون ہوں۔ آپ کے اس بڑے اور اہم کام بر آ پکو قرآن اک کے متوں اور اگمری: کی تفیروں میں (جن می مو ناج و لی بد اللہ اضف خی ور مارک ھا لکی تیریں ہیں) جو ۵۔ جناب ڈئی۔ اے۔ لان صاحب (یرولی میس مئیم انگ ریز نوس مم جو قرباستزہ نے بھی ہی نکوئی فرق محضوبن نمی یکرت لیکن ائیک مان اھ زین س کا مال سے ملمان ہیں۔ آپ اسلا مکی تیم سےگمری وا قفیت اور مواز :راہب بجھ پر بھت زیاد اث سے اور جس نے جے مجبو رکیاکہ خلوص قب ری نظر رھت ہیں جنوں نے "1183 ط7" ایک تحقق تا یہ عیسعیت ک7 وا ا سر ا کے را رک ا جک تی نر کے ردمیں اور اعلا مکی بر تزرىی کے سلسلہ می ںککھا و مقبول عام +وا) نے لاد 01977 لن 205 سے

انوں نے سو اتی تر جم بے نے کے بعد بعہ کے دان اہن خطبد یس اس تر جح کی نتر فکی۔ یھ حرصہ بعد انیس نیدی آنے امو ۱ لاو ون کے نان کی سوا می تج کو رات وت اکا

اک جو ا رن ےت

ً جس میں ملف ولا کل اس طرذ پہ دیے سے یں ج نکو قول سے بخیر

ارہ نہیں اور ا بے ولا تل جن سے پادد کی ەل اود دیادر یی ہچیچ ڈیل 2 0

ری ا فرینقہ کے الوکوں کے لن کیا میا رکیاد ع رق کن ےکی اجاز ت ارتا وں اور ایک سو ہمان ک کا چیک سا تہ فک کف کر رہاہوں جس سے

102

7ا00 561-00 تچ رھ ھت سی تردق ١س‏ خر کے لئ ار سال خد مت ہے ۔(ڑجمہ) ۷۔ معلم ایم۔ فی ۔ رمضان۔ پائیشی ہف ؛شچی حنزامہ (ابل تلم ممون زار "تر ری نت تی کت اہ رذز ذز )اتی ٹاون می مس دو صرا تھی ہوں ےے قرآن اک ۲ کاو انلی ترجہ ویک ےکی نف ہی۔ ضرد ری سجکتتا ہو ںکہ ا کی باب ت بج کھھوں یمیس آ ح بہت مڑی طوشی محسوسں کر ہوں اور جج ان ای نے حرت من لی یا نیش تی زگ مغ ابا "00اک ون ۲۳ پا کی خولی یا نکر ۲ ہوں۔ یجھے جب سے بی تفیرٹی ای وقت ے ۲ بے اس کا دو سری چچھوٹی چھولی تفمیروں سے جوکہ ممیاسہ اور ز نجار ٦‏ ما لع کی مین فا کر ماج ملا اش کی نے ٦‏ ترجمہ بھت بمتریایا۔ مزید یں آ یا تکی اگر چہ ہہ مق رتضی رمق نکی ٦‏ ےگ را ہریلحاظ سے اس تفیررمیں بمت سی حم تک با میتی ہیں ۔ ۲ میس نے ظفاصیرمیں مرا کے منلہ کے متحلق اتی وضاحت ئیں ٦‏ دیچھی وو رز بی نجی جاک ہآ کے تبحم و ٹخمیرٹژ ے۔ ٦‏ ے۔ معلم سوگورومرجان اوانو آف کامولو تڑاعی (صسسلم سوسا کی کے ایک ٦‏ رکردہ رگن او رگور تحنٹ سکول برا ا فرلیقن کے استاد) نے کھا:ے ١‏ یس الد تالی کا بت بت شگر اداکر ہو ںککہ جس تے ری ١ ١‏ دعائمیں قبو لکر کے میرے اج بی بھائیو کو قرآن اک کا سوا نکی ٦‏ زان مم تر جمہ و تقیرکرن ےکی فو نی عطا فربائی ننس یس بادد یڈیل

103

اور اس جیے دو سرے دشمنان اعلام کے ا ہتزاضات کے بواپ اٰیے رگ می دی گے ہ سک جن کاجو اب د بنا سے دحمنان اسلام کے لم زمایت ہی مکل ہے۔ پہ ترجہ و تفی رس ا لی ہرمصلمان سے لے ہر مہ زبررست ہتھیا ر کاکام دےگی۔ جھے جح بے عد خوش لالح لت ربالعل سے 276

۸۔ جناب محر کالونیا آف اوو زا بڑانے (اپے علا کی سرکردہ شخصیت ہیں )

کتھا:۔

یس ےی کنا ہو ںکک ہآ پکو الد تھالی نے بم ا فرینقن قو مکی عالت بر لے کے نے مہا سے اور یں ردہ عالت سے تا لک 7 بد ا ہے لیے کے نے ہے ور مار سے سا ا ات مکی

ین آرج سے آ ہے کے ساب ول ےج عقیقت ےک یم نین جات ےکک ا چھاکیاے اور براگیا-

ری کے پےے و یی کت یت کل کے انذعیرے می تے۔ الل تما ی نے آ پکو اس اھر ےک دور کرنے کے لے جمارسے پاس بھیا۔ الد تھالی آپ کے اس کا مکو قامت کک مو لی سے تام ر تھے ۔( تر جمہ) ۹۔ جناب ناصر شریف آف مہا (علاقہ ز تیار میس صرکاری ازم مے) نے

ی:۔

یس ان خوش ہو ںکہ میں تے ترجہ و فی رس ا لی قرآن پاک

104

کی خر لے بی ایک وم پفلٹ تی مکر کے تھام دوستوں میں پھیلا دیئے۔ ای عرضصہ مین یرت ذو حمزے سا تھی جس مین مسٹرا چ رید اوگوٹو شال ہیں ھیرے پا آے اور آپ ا رر ہا وی ا ار ھن ےی تی کی تے کے می ےکن می ہے دل می موجو رت ۔ بے لی احقیقت ای تفی رکابمت رنوں ے خوقی روئیجیئ فا ودج ین کہ میس جلد بی آپ سے اس تزجمہ و تخمی سوا لی قرآن اک کا نیک نے انی اس بھانے کے لے عا ص لک رکون کا۔ ١س‏ لے ٤ت‏ کک و0 سو سج وش شال ےو ۰ یی اف رو کت

و کسی ضرف ات ار یس بعت و ہد ون - می بے بڑا سی پند آیا ے۔ اس تجمہ و تغیرس عیساتوں سے زیرہ رست مقالل ہکیاگمیا ہے ۔ یہ کام یق ین ا اک ا کک کا مشرقی ا فریقہ میس چاروں طرف سے گی ررکھاتھا۔ (تجمہ)

۷ وائٹ آف مضہ (خزاضی) ضز اجکی زبان کے مخروف شاع راو ز مشور

صعمائی تن ےککھھا: -

بت ش رگزارہوں ا رت تہ آن اک کے سو اج لی تریمہ و تی کے بی مار مشرقی ا فریقہ میں شائع رت پر مبارگ یاد بے یکر ہوں۔ ت جمہ اتا عر: او راع ےک

105

انسان کادل چا متا ےک بڑعتابی جادوے اس کے علاد ہیں پچ رے نے کت کت نا ےق ملع کو سی حا خی ںکہ عربی من اور سوا مکی ت جم میس بڑیی مطابقت سے ۔ عرلی من میں بھی کوکی رای تین ۔ تق ری نو ٹس عم و ععرفت سے لبہ: ہیں ۔ عرلی ز پان سے ناو اف کے لے ان کا مطالعہ عالم بنانے کے ےَ ای ےت( ۷۔ جناب شخ اگ ائیں۔ لیینگا آف نیاسالینڈ (طلا دی )گت ہیں:۔- آپ کا بت بمت شکریہ۔ میس نے قرآن پاک سو امیلی کا ضخ وصو لکیا۔ مم اس قرآن پا ککی فصاحت تی کو دک کر دنک رہ گیا۔ ہہ ضبدت اس ق رآن کے صے میس تے ۱۹۳۲ء میں دا رامسلا میک اب سے پادری ڈ لی آف ز تجبار کا ککھا ہوا خز برا تھا۔ یق ہے سو ایل تہ و تقی رق رآؤن پاک ان ب مکی طرح مابت ہو ا ہے۔ میں اتی نی ای پا خی ین تر رت ری اور ما یق رات اور ایک ات نے ان بایان ابی تزجہ و تی کی مال وا ققہ ہی ںکوکی نہیں ملتی۔ القد تالی ا ا رو ال کت سک وا سال یا ۳۔ جناب اے ۔اےکیانڈ و آف مگلو مہ (ختاضے ) نے لگھا:- تزضہ و تغیریع اعت آع کی طرف سے شا کیانی سے بستا بی اچچھاسے ۔ ا سکی تفم رحمت و محرفت سے بر جے ۔ عرلی متنن کی تخی ری بی آسان اور شیرسیں سے اور لفظ بلط تی رت ۔ عم میراے ج وکہ اعلام می بذابی مشکل سے اس ترجہ و تفی رو انی

006

مین بڑ سے سان طرلقہ اور مار ت سے تر جیب دیاگیا سے ۔ اس مین سایق کب کے جھ نام دسیے گے ہیں اس سے پت چلا ےک ىہ تفیر لئ جج اد بڑئی ٹجتی ہے ۔ا ہے لوگ جو تتھو ڑی سی عری بھی جاتے و و سی ہے ہیں اہ ری گے اور عرلی زبان کے علم می ہمارت پید اکر گیں گے ۔ جم جماعت اجب کے ان مز اباب کے جنہموں نے اڑیی تفقی رس اجلی زان می لکی ٘ کی اشمد ضردرت ھی او ر اگ کیا بہت بمت ممنون 0+0+0" ۳۔ اب سے۔ آگی۔ الیں۔ ک1 رو طمر اتل آئے دا را لام ( جا ضی )کت یں:-

اکر چہ متعددلوگوں نے قرآن اک کے اس سو اجکی تز جم کے عحدہ اور اعلی ہونے کے بارہ میں بھست یج ککھا ے میں مزید قرآن پاک کے اس سوا تی تزجمہ کے بڑ ھن والوں پر زور وتا ہو ںکہ ش ران باک کا یہ سو اج لی تجمہ بہت بی اچھاسے اور تفیریدی واج اور ححمت سے پر اورنی احتقیقت شجزہ ہے ۔ اس لے میں اییٹ ا فرین احدیہ مس لم نیشن کاان کے اس اہم کام لین قرآنن با ککی سوا کی زبان میں تر جمہ و تقی شا کرت کا بہت بمت شک ریہ اد اکر ہووں۔ قرآن پا ککی سو اجکی تقی رمشرقی ا فریقہ سے سمارے عا مد شھو غٌکئی سالوں تک بھی نکر کے ۔ ا نکی تق سو ابی نکر سک کی ہے سدق نے کنا تر کر اک نی ین سور ایا کا مکرناکفرہے۔ اب ق رن پا ککی اس سوا لی تقیرے واج

107

70 تر آغ ری رو ون اج ہے راہ گامزن ہیں ۔ میں بماعت امہ کے لے دعاکوں ہو ںکہ اللہ تھال کی رکات ور قت اہ ں۔- آشن( 7 جہ)

تی بیو ںکا ول لم ترجہ سو الیگ یک کی ا اعت دس ہما رک کا دسر یا د0 ا و ا ا کے رت رت تی کے نے سے نت یل انی کو رسمال کے گے با لع ماما2 ڑ مین کیو ںکو جمان تو ںا سے ہت ےت ےد ھور ار قیروں نے قول اسلا مکیا۔ اس ملسلہ می بطور نمو نہ لنش خطو ما کا ؤک رگرنامناسب ہ وگا۔

ا مٹرنا رون 'نھنگ ےکا مبافیلہ کے ایک قید ی نے ق رآ نکریم کے سوا می تر جمہ کے باریار یڑ نے کے بعد اسلام تو کر لیا۔ آپ نے ۱۴۹ یرمل ۱۹۵۹ ءکواھاکہ میں نے اپنی ساددی زن گی اشاععت اعلام کے لے وق فکردی ہے اور اگر ا سے تو لکرلیا جاۓ لز بھی ین ہ ےکہ میں بپ ری طرح اس پگ لکرکے دکھائو ںگا۔

۲۔ جو روک چ وگ ودج ٥ز(‏ 2 ا سے تحت ۱۹۵۳ء سےگر قار تھے ۔ آپ نے ااجنو ری ۱۹۵۹ ءک وکا کہ می اتی جوانی کے زمانہ سے عماحیت کا بر چا رک رہ تھا لن اب یس نے ا ینار ادہ تید لک لاہ اور میس چاجتاہو کہ آپ کے ہچ نر ہب اسلا م کا مطالعہ ق رآ نکمر یم پڑ ھک رکروں-

۳٣‏ م رکب کگیرا 1۲ج دص 16 بھی ابھرش"ی

0

108

ر وین کے تج تگر فا ر تھ .٦ا‏ جن ری ۱۹۵۹ کو لھاکمہ یں ابی جوالی کے زمانہ سے عیسائی ہوں لیکن اب قرآ نکریم پٹ سے کے بعد آپ کے نہ ب کا مطالع کناچا ہت ہوں ۔ ہچھے لین ہ ےککہ ق رآ نکریم کے مطالعہ سے ند ا وا نانے جو پغام مج (رسول الد صلی اللہ علیہ سم کے ذ رجہ دیاۓ اس کا جھے (کانی )دس علم ہو جا ۓےگا۔

۴۔ جو رو کفکرن 6ج0۴0[ ٦‏ ایک 414 قری تھے۔ آپ نے ۶ اچنو ری ۱۹۵۹ کو کھھاکمہ میں قریبا٭ ۵ سا لکی عم رکا آدئی ہوں۔ اتی جوانی سے عینائی تھا لیکن اب میس تق رآ نکریم کے مطالعکا١رارہ‏ رکتاہوں۔

۵۔ ٹر ڑی۔ ایج ۔ ماد عو تے ۲۸ جونع ۱۹۵۹ء کو ہولا اد پن کپ 087 رہ م0 11018 ھئ00( نات ہی قرآن ریم کا سوا لی تجھہ) بی ام ہے اور بی و ہکتاب سے جس نے بے اور رک ١س‏ ق رین اور الھینان ولا دیا نس کہ پ مکو نشی اور کے مخو زم کے مسلنان ہو جانا چا سے ہوا کپ مین جو کیکو و لے کے خر ون و ا تا یت و امن نہب اسلا مک یکتب با فو تق رآ نکریم مسیاکیاجاۓ ۔

ران الیک اور خط مو رنہ ۲ اگست ۱۹۵۸ء می ںککھاکہ جح لگحم میس مد اکی روشنی ربھتی سے ا سگھ کی کٹی قرآ نکریم ہے ۔ یق اکر ران س ایی زیان یش آرج سے وس سال فی ترجہ ہو چنا و٣2‏ 0777 مود ارول سا آ پکو یہ اطلاع دتی بے ربی سےکمہ ہم مسلمانوں کے بڑے

109

وع ےد نع ادن ںاھ کی سے کمود( )ای اار2

صن پر ری دہ ارت با نے رسزول صلی اش علی۔ رح مکی 22901 21 کے کے کالوگی جوکونا 3 ع از ۸1 یا دا کا ط86 0:8 :1/181 تے ۱۳کت ۱۹۵۹ء کو ہو لا او پن کیپ سے ایک طول خط لکھاننس میں انوں نے بیان کیاکہ ے اما2 ا2 قیدبواں نے اپنے پر اتے نہ بکو چھو ڑ وی ے اوز رآ نکریم کا سو الین جمہ پڑ سے کے بعد ا سلا مکو قجو کر لیا ے ۔ انوں تے مزید ۱۸ا فرادکی رت شٹیگی جو اس تر ہمہ کے پڑ سن ےکی طرف ما تل ہیں اب ان میس سے رای کگکو ق رآ نک ریم کا تجح میا گر پاکیانے ۔ مسٹرکابو تی جوگونانے مو رض ۹نو م۱۹۵۹ ءکو پگ کک کہ مل اور بت سے قیدبی جنممیں آپ نے ہمریالی سے تق رآان مسیاکیا آپ کے مشن کے اس مفیدکام کے شک زار ہیں جو آپ اس ملک می ںکر ر ہے ہیں- جھم اس (نتاب کو بار بار یھ رسے ہی نک دہ میں ے رھت میر معلوم ہو تی ہے۔ بہت سے لوگ جو انی رائے تید ہل کر ر سے ہیں او ر حیساحیت مس ا نکی دی شحم ہو رہی ہے انی اس اھ رکا ضتاق ےکہ ان کے پا تق رآ نکریم کا نا مضہ ہو۔ بے اس ١ھ‏ رکاعلم ہے کہ آپ اسلا مکی اشاعت پر بست روپسہ خر کر ر ہے ہیں او رآپ

کو یہ ک نک خی ہوگ کہ اف یور می مہ ہب اسلام مکی تجزکی سے

یل رہاے۔

110

( ترجہ اخار الیٹ| ذرلقن ٹا ت۰ز ر+ر۱۹۵۹ء صفّہ١٠)‏

مندرجہ بالا ا قتبامات سے بخولی پنۃ بل سنا ےکمہ اس تج تے مشرقی افریقہ

کی علی اور جلیفی جا رب رکتاگرااڑ ڑالاے۔ یہ اض نار عم میس ۔ مان مشرقی اف کی ش مت زومسلم اور غیر مسلمم شخفصیتوں نے اس اسلائی غید مت کو فراغ دلی سے ھراباادر خر اج تسین ا داکیاوہاں ایک صاحب تچ عبد الد صاغ راز جماعت عالم نے اس تر جمہ کے ایک غا سے حص کی مرف من نف لکی او راس کے تض متقامات میں اپنے مخالفانہ نو نو ں کا اضاف ہر کے اسے ایک تہ کے ور بر شا یکیا۔ اس مرک ت کو مشرتقی ؛فریقہ کے عی علتوں میں انماکی یر نک کی نارے رکنیا نچ ایک غیراز اعت عالم لیے شریف اھ بدادی آف مھبروگی کنیا نے اتی کاب 0( 78 710( عضاے موی )کی فل بشتم ص"ہ ام میں اس روش بر تقی کرت ہو ےکھا:ے

0 فا ٠0‏ "ض۱ص

نمەھدنز اح ند۶نہ۵۸۲ عمسدۃ+ئلدا ططانەهط5 ,3ئ ا٥۷(‏ ×سعط دحناسطصەط٥٠‏ ١٣ا5‏ [۶۱٥1٥3‏ دص ۶8۵)(۶1د 11 ۶۷۰و ءزد ہد اد ٣1ط‏

ود ٥ا٥ت‏ ا ند×نہ٠‏ ہ٢٣1‏ صصدھللا : ”17ص4118 ا)۸( 30 ط۸ ۰۲۱ زء×عط5 ج0 35178۸۸( ۷۸ 710180 : ور1316ئک حعصدجصنترسلا ط8 ٢‏ سا٥7‏ ,رز ×ظ

111

(41 ٤ا1‏ 41851 ۷58 ئ ‏ 191151859 ک7 78 شغ(عیراللہ صاع )کی دوضرکی تجب از بات بی ےک آپ دیاھییں ج کہ بس فدہ قادیانیوں کے تر جم بر جمل ہکرت ہیں اود پھر ا دج رو سے یی و رک ا انت ہیں۔( ضجمہ) لغ برای کے ہہ الفاظ نہ صرف احدی عم تی ری فوقیت و ہرتریی کا کا وت ہیں بلہ ان نے جماعت اع یہ کے شا گر دہ سو اجکی ترجہ و تی کی عظفمت و افادیت بھی روز روش نکی طرت عیاں ہو عالی ے۔ ( رن اضر یت جلر ء١ ٣‏ ہ٣٢١۲)‏

ایک ج رن کا رکا برہ ا ہش ےش مت سے رٹ

مغ 0-۶8 711۶ ٥ط۲‏ صمتا 3د١٣‏ ط۲٣‏ 7399ھ رط ١ط‏ دن(ط ام نانطد۷٣5۲‏ 0-578٣), 16180‏ ص005

”(ط) ۲ج 1٥61٣٥۶۰‏ (ءء جرہ د دہ 3۹ط فا )6٥0۸065‏ 8 تل ب۴ ناطا 518 ج) وط ۲ 1ئ٤‏ دہ[0۶ ط۰٥6‏ 19557 (تاطا .78 .08080 “۲58٤‏ :7۸۷7

6اط جع طط8 1لط بام ([18[ع25 ەط٤‏ ,1953 ٣٢٢٢‏ عط٤‏ صا“ ,[ 781805 جز ”818۶3 دوء[ھ ٤8ا"‏ ط٢‏ ٥٤ہ‏ ۴۶ :۲۲۸۵180101 ج ٥‏ طمناطیام ,من چدہ گا ٥ہ‏ نآ 5۲81ء 6٥: 88 8‏ ۴15م دز ۴] زانطد "8 6٤0٦ا‏ ظ×0 ۲ا10 ١ط‏ 1166۶۸٤0۶۵۰, 1817‏ نانطد8+۷ ٣٥٥٥۵‏ ۶ہ آله ٢ا"‏ روط" عط ,ما1 201:1(" 1+168 18 83 16509888

0

112

ذ۸ ۲ا 3<۶طبہ۸5۸ طمازہ ط8 8[ ٤۶۹۰1310۶‏ 5-2“ .<” ۱۷۶٤‏ جد ۱١۸1۲۲‏ صطھھ ط٤٣‏ ۶ہ 16816 ١٥ط ۰۸١1:‏ صطھ طط :٤ه‏ ٭٥اممء‏ 2 5قدمط؛ دہ" ٢٠٢٢:۲ھ‏ 0886 طز ٥٭ًطا‏ ٥بعط‏ عاەەط ٤‏ صہەط۔ا۱ء٭ ٗ4 ع۶ دنم۔[اء و ۔ وع صت1ائطہ صدء(۲۲م اع 30( ٣٥‏ نم عطا :1ع ل۶م ۷٥9۰‏ آائظط ٠۶‏ ٥٤ہ‏ طط ط) عط٤٠‏ ٥٤ہ ۲۰٢۷‏ <دٌٔذ ٥ھ‏ طجچزط 18 ۴181581ہ ٦۶31ھ‏ عط) ,نازئطد8۷ ھٗرز( ٥×‏ عط] 861168 ٤ہ‏ 70ا 12ہ م6۴6۴ علط :>1 ٥6ہ‏ 12 عھ ۱٤.‏ صلعم ٥زط<ھ‏ ھًط؛ٴ ٥ہ‏ ص مذا:ة88 ط٤‏ ,صھع×سو راەط ١ط‏ 6ط' .8:113( ٤ہ‏ ٥د‏ عط]) ہ۶ <683 6[ آج ط(18×ہ ط٤‏ ۶ہ ٣2١۸۰13110‏ ٤٥6(جردہء‏ ے غعط) عصنەط غصنوم ٥1ا‏ نعدوم ا مد دز ٥‏ جج ع صه1 ×معطصد مغ صذ ×0 ہ1 زادہ ۰ه ٭ ۲ة عط)ا ۶ہ ٥‏ ەد٭ عط)؛ ہعامصو٭×هہ ٣١۱٢۶‏ 5 501+3 .161168 13112 ص1 دہ اع ص(چ[<ہ ط٤‏ ص( ٥۲ع‏ .1-17 51×3“ 88 ٥۱ط‏ ز۶ ۲۵۸58 18 ٥ئ‏ چەم ۲<" ١‏ دہمصا1ہ

۳ ءء۷۰۰

۳٥ ١اد‎ ء٥‎

4+ 9 ۲00-656377 86٢٢۴۵1‏ ۲1118 ا1 ۱اعط٤‏ دصمصنصنتاا۱١٣. ‏ ط .15 جج معصدہ ].7٤٥٤١٢٠٥٢٤٢ ۵٤8‏ ٥٠ہ‏ 61083۶۲ دم ہ۲۶ ظ۰ ٥6یئم‏ ء۶۶۵۰۵۲۰ ۱٦5۷۲۰‏ ×٭ ع۱٥1‏ عحط حادعدط ص۸( طحانەط8 ٤اط‏ ذط<ھ ٤ه‏ ععل×هہ٭ 15١‏ ۳۰ ۔.صمناداد5:+؛ هنط ٭ہ تلبرصعصص ٢٥١‏ 83 ,[ ۳۷ح1 -لا[7( 1310+۰ د۰ حددہء ۹۵ ۶د ۶۰ء ط۳ .د٥‏ نحعّدہذ٤11‏ 1 دد قد ٥۱1۰ء‏ ط 17111 89 :8٥1ء۵۸٤‏ ءنص×-) صناہہ](۔د”مھ رط دعا×ہ رعگا×ہ٣‏ ٭ دہ نعناہ× با۸”ەنطم۸× جع .لو زہ]ئنط ۰ع سچمھا طەزناحصظ عطا ھذ هد جا ئط۳ ۶ہ ت×حصوم 18510١08ص293]‏ عط] ٣ظ ٣٢۶ ٤٥۶۵.‏ صدناماعط0 ×ط (٤۲٤٥‏ .۰اا ط181 نائطد 8×۷ ٤5ص[‏ د([طازنظط عط٤‏ ٥٤ہ‏

ا18 عط٣؛‏ ٠ہ‏ صمتاھا8 ۱۸ 1۶٥٠٢‏ عط] اط ہز ەعتط'

113

کے سے سے ےت ا لح ٠‏ کے دح لود سے سم اس سس سس ےت ے سے

6١۱41٥۶ 6‏ مجد د٥‏ نحنحا-ہ0) .نتائنطد×5 مطط( و ,ص088 با5 ٭ٍػطغ ۶ہ ہر18 ط۶٤‏ ٭زط ٤عط‏ تاطام ج7 عط5س٢‏ ے7۳۰ ناط +213 7٦‏ ص00 ٦٦‏ ۲۸581۶1“ (۸۸٥٤٥0‏ 8( نزەنانطا 8( ز٥ہ‏ تائطة 133۳۷ 2 ,10007 615100 86:00.3 :19283 10 دمگّ ”عطء ئط: 737501 ہ۶0 1831.570٣١٦ ٦٥٥<, ٤طت٭ ]٤۰۶۹ہہ13٤5107 ۳38 ×09 1٥7٥‏ ۔طاعتاعج ٭ط ۲۶۱ وط۶ غلاط بے نط۸<۵م آدصتعنڈہ عطا ۵و ]اط صدند ۲۶ [۴جامطءہ صہ م[ئط 01 118 8180 516 0 ٥ہ‏ <رحوصمنەە ند زط <061٤360-‏ 178680 ٭آج ۶ہ فغط ٗذ صمنائندمص صعنائز×ط0 عط صعطا ق ٥۶٥‏ و مج دا ]٤]‏ ۔صمصهد[18 قصد تانصحً!؛فنعط0 ×٢٥‏ 0۶ذ٤818 ٤۶۸7‏ ەةزط ٤عط٤‏ ٣۲وہ‏ 0 03816 ٤٥‏ 1508166 وج د1ط )٥٤۰[3٤105‏ 18ط .ذعنط دنو٤٭‏ ١ء‏ 8 ط1 4٥06‏ 07 ع٥ا‏ نے ائظ 51058 ۵1[3ص۶۵٤‏ "۶ہ ٣جط‏ ھ دا :ط8 ×ہ٭ صدە عط 75 .53ع مہم د٥1عزاہ‏ طءنط۷ ب(یدمع ز<عصمنتممندد د ٥ہ‏ عچصنصته دز عا×وط50( ١و۲‏ ×ئەط+ -() 15187 ۶ہ ٣۳ہ‏ 0110۷ ط٤‏ ×ط ج ہ۶6٤8‏ 0 وط و) ٢٣ط‏ ذ ز1 ۲7۵۵۵ .3] 7 ط۱3٦ ٠٦٥٢٢٥٦ 6٠××‏ 474 )١‏ عط؛ ٭×دم×ٛہہء ٥٥‏ ٤ا‏ دہ 17 00688:00 83 20٦608‏ ×ە ط0× 18 ×٥ط‏ عنطا ٤٥‏ 80916105 :15 .1811058 ط۲۸٤‏ طط نانطہ 8 50ذ 81868 ط۶٤‏ 0816 410668656٥.‏ ,[<×و ط5۸0( طمانەط8 :صنط ٠٤‏ جج13 >ہ1ا8 ط8 ۳٣٢‏ ۲۱م )0 صدء ,ح٥:۶۲ھ 1788٥‏ ص() ٭ط ۸۰۲۰٥ح‏ ٥8ص‏ ٭ اتا ۰ع ۶135 ۶٭ط۱٠ح‏ قتط ۸8 تاتط۵ 8۳۷ عا٥۷‏ مۃ ۲۶71۸۲87۸107۰ 1.17870

ج( [166+3٥01۶۰‏ نصعاہ( ×٭زاجدہ ۲ہ ٭عق ماع مھا 'ٗ٣۶۰‏ ٥م‏ حمتغق(عصئ؛ عط؛ سذ ۃ١صہہ؟‏ ,نائطہ5

)100ج عققط ہہ <۷٤٤5166۔نععط88٥ل(‏ ۶ہ عچصمناذ٥ء١‏

ساصع] 1:13 ەط) ٥ہ‏ ٥٤٤٥٥۱1نة‏ عط ص٥عط‏ ۲ا٥٢‏ تەٛ۱ااء×ہ

114 نبحےض9ضسے-ےے _۱ےےےمکت۔بہے۔۔۔۳سٹتسجسہسسظسظصركںس.کس-×9-

6 18468ءھدز طء”نط ,هع8حع ص10 اد نعطہ ۶ہ" وتطل' ة٢٥] ٦51‏ ۴۷۱۶۸1۰ ٥٥ہ(مدداہ‏ ترصعصد ع٥ ٢٣١٠‏ قد ۱۶9۸ +٤8‏ م٭٭ ۲۶۷۷ ھ زط ۶۵۸0۱۰٥‏ ٥1ص‏ نباصدہ ہز ,نلنط٥۰۷ع8‏ ٤ہ"‏ 25ھ منلنطد ×8 ۱خ دمح ١‏ ص۷ صعلص ھ( ٥0ح‏ ونط_ 6" 858ھ اقهط طا مەعھٗ۴د1اظھ٘ا جانا برءیں ٥‏ اط ١‏ ەمطء عدط 00۵ را10 عط؛ ۶٤ہ‏ صمنطعائمہ ٥ط‏ 6809 ) 017 07 ٠ ٥3 13 6‏ ۶۰۰۸۰۵۰۰ ۰ ۱۷ع عط٤٣ ‏ کنانطد 3-1 وطنعتصة7“ 18 27 0 ای ٥رہ‏ عط۱ ۲ہ ٦چ‏ ح1س عصھ1 صمصحدہء عط) ع1 عنط_' .٥۶ہ‏ صو 871ھ اه ×هطاە ھٌزذ 8٥00٥‏ ۴٥34ص‏ ٥ا١‏ 08۰ ز۴٥٤6])‏

2٤٥< ا1ء عساصعط- ءعط غصنھ مامء عمصنەع‎ .٤8 دہ نع‎ ]٥۶ ٣٣ذ‎ ٠٥ سا نافھٗ! ا2(ء: 11ہ صهد‎ ا1٥۸۰‎ 22 2781 ھ۲٢‎ 18861036 نمحدوء ط٣ا ۱ع نمسمہ0‎ 1٤١( طعنط-‎ <١۷1٥۷ة‎ 11 3-۔ةطنانانا٦٥۲۸‎ ۱8۶۰: دہ ہ18۰ از چ صز×ہ[۱1٦۲ عط٠ ۲۰ع‎ 7> عالصساز مر ااوط‎ 8٤8۵(۲ [ ۔۔ عصء اصلاعص آص‎ “۲۴ عط 11د‎ ۶٤58 دز صمنغما‎ ۲٢٢٢ :۱۱ع‎ 12د‎ ط٣٢‎ ط٥×‎ طع٤٤٥٢ دترہ )ص۸ د۱۶٥ ٥ہ م6۴ صز ۶۵71م‎ )8۶60 1۵8۶ء ھز ا7 الط عصمنا ەصصی‎ ٤ 6487۵ 8٤ئ‎ 108 ۶ ”لائط8۷‎

ط١ ۷٢ 1٥٥٥161 ۲۵۵٥٥۶‏ زع ما ٥18م‏ عط 01ط ئنط لا .8آ ا8 ئط8]) هًٌطٍ ےصاٍِ ۶٭ا زانطہ 8 مات پ0ھھ عط) ٤۲ہ‏ دا( ۶٤188. )4٥٥0‏ ہہ 111 دہ مہ د×ہ

15 76۶[1011'۔-‎

ہ×ہ16٥ نحدہ‎ ٤60( 2.001013117.

۸ء ۰٢۰٢‏ ترتْا د۰ ہہ [۲٥‏ 5٦ا٭ء‏ ط٠‏ صن ط٢۲۳‏ ٥‏ ۶ عط] .×71 .د0ہ٥×عج‏ ہہ ۱۷ط 0 13ا41۲6۶0

کی 1 جج 4جج_ےہج ‏ ِا إ۰‫!ہ[ج[جمجہہججھ ھھحح

٣٥8 0‏ ہ۱١۶ہ۶۵۲<‏ ×ہ :۰۱۱۶3۰ ص۶1ج ٥×‏ 18531058م×ہ 1 ر2) 114,1 ٗ( ,ع(م مصودہ 5۲۰7۳۱ ×ع عط+ طص( ۲٠٥٢٢٢‏ <عطہ طز ٥٠ 18 ×٠٤‏ ۲ہ دہ( ٤۵13‏ دج ٠٥ (۷۸١018‏ ۶۸۰١ج٥<‏ قنط٤‏ ۲ہ چ صنصدءص ع77 :٭×٭×مط؛ بح ء داد ۸ ۲٥٥١٥۶٥ ء٥ ٠٥‏ إز ۶و۶ ۶۷٤3ء‏ وط۷ 0-۰ ط٣‏ 2۶341 ہ170×9 ۲٢۱۶٢ 18 ٣۶۰۵٢۱٥۱٢٢‏ (0‏ ۔دمذپا٤٥؟۴×٭ەم‏ ج٤‏ )ٴا ععیصن×ط 88 زاا ٥111565‏ جط) ۶۱د ب,دمہہ۔( ,٥٥6ج‏ دز ٤٤٤,‏ ۱116ء ط۷ 0-۰ ط)٤‏ ۰ص8 4107 183 ہء د٣٥٦‏ طّاہ صەمط ٥۷۱۷‏ 07 ة3٥۲ہ٭‏ ۶ہ دمذه٭ن ٥دا‏ ط۱ مہ 106ھ چ صنص۶ ءہء صہء مطاحدحدہ×< ترصدحہ ۶< ×ط٣‏ آبدہء ۲٥٥٥۶٥‏ ٤۲٢‏ عط؛ ٣٤٥۸۳٭<ھ‏ ۰٭د ٤غعط)‏ ج صلہہ۵۵۵٥۶‏ 01687 ط٤‏ بر(و70ط عط٢‏ ٠ہ‏ چعصنصصذععط ٭ط٤‏ 5[ .صہ<ہ0() اہ1 ءط٤‏ ٤ہ‏ عط۲ ۲ہ ما 4565ص صحدہء عط٣‏ غط٤‏ ٤وہ‏ 18 1٤‏ ٭ط ح٤‏ صعو <ہ۶ ۶<١ء۲٣ہ‏ دز ٥۱٦٥41[٢۱<-م‏ ٭<د (۶181عط5) 108۰۷ طاادعط ,دہ ٘ٗنط٥٥1ء‏ ۶ہ ۶نا ج )٦٥١۷۶0۸‏ 10ذ ع8 ەط <۱" طء×دہ٭ ٤٥‏ ٢٣ط‏ ئ ظط 1٥٥٥‏ ص۸8( .۶167ء ۴0۵0 حٌز سنط ٥٥1ذ۲م٭×<م‏ 0۶۵ برا11 ط٤‏ ,عنطا ۳٢ ٠٥ ٥٥۴ٰطن( ۰٣۷٣‏ 60 ٣‏ ×زز۔قص1 ہ01۶ اہ ط۲ د٥ء‏ ۷× د8 عغط٤‏ ط۳1 رمزدہ ٥ا‏ ٭ز 1٥648. 0”7۰ ٣×۲ ٤٤ ع٥١۱٥ 1٥٥48‏ ۱ہع 4٥‏ ٤٥‏ ہز ٥ء‏ ت۶ 7٥٥+‏ [۱ہ۶ ٭ اط٢‏ 850 860 08 چ ۶> د۱ء : حا ت16 دہ حدہء ٥اد ٥٥‏ ہ٥٤‏ 14ہ 8 16 ات٥‏ ہ٥٥0‏ ۷ھ" عط؛ ۶ہ ٥ەەمط٤‏ ٭٭ اا٥‏ ٭ه ق٘ط؛ا طغەط ۱ۓ.؛غ ۸ دمحّٛہء نعط ۶۹ ۔ ا۶٥۲‏ سصەنتاەنعط0 عط٤‏ 7٭<+ دو" ب(ە1 هعط؛ 2ص2 د٭٥ ۲٥٥٥٥‏ ۹ 6 ط ج11 صءط0 ٤٤1و ۷۲16٢۷۵ ٦۰٥‏ ”۵ عصٌان([0۵ہ۷۸( ر174) 2:168 ٢٢ہ٣‏ سذ ہ,عاممہد٭ہ ہ۳[ او صمصچنم ١,‏ ,ماد صندھ ٠٥٤ ١٥د٥ 16٥٤‏ د٥1‏ ذماہ ٤8‏ ٭نط؛ رط عمنداجدہ صمط ٥:٤۰۱‏ دہ دہء د۸ط٣'‏ ام ةذ 2 صنصح 1٥٤‏ عط ٠ہ‏ 10ط عط7_ ر1 .>ہ141 ا۶ہ

106 نگگگکگ کک کک کھککعحلٴڑب ,تچ و<۔عۃس_س___تر__ ‏ سے

6 عط ت 0مم 8 88 ع×ا[۶<٥ہ ٥3‏ ۶٥٤۱88ء‏ عطغ رت 1161 ٢٣عط‏ جعص ۃلهصتطة 800 (2) 1٤.‏ ٥ہ‏ وط 18 16 ص(٥اہء×ّ‏ ۶ہ 16٤٥1‏ 18 ۵د ×نعطا 3 دہ ٥ع‏ 18ہ عم (3) .دج سزەط |ص×عصاط ٠٥‏ ۶16131 ×صەط مد ,۵٥۵۶۱<۶×عط‏ رط دہ دم دنہ ھ جچ متا دہ ق15 ۶ط ہ(1 دہ صتز٥٥‏ ص80 818 ٤7ء‏ ظط تبعص دح عط) اطم عادصد

1859ء ۲٤18: 0886۴٥008 ٥٥ ٥٥ 16٥١ ط٥٥٥ت 1٦‏ 8058ص ە نا(طانطصة صیء اعط 73 ۶ ماعط 3 16٥‏ ۲1عوم 1٥٤٥٥۸ 8‏ ح×<د ×ط7 ۔لاصنط؛ ٤ة‏ صد صمفدہ× ٥‏ ضنلزطہ صعء ١١‏ جیطناد86 صا غعط٤‏ ٣م‏ ناەط مط 8] 5نا ۱5ەاءءہ 8 ]]1 .ھتو×طا عطا ×ط( عھنهہں اه غٌَط) ٣۰‏ ہ7٥3‏ ۴1٦187‏ چصاعط ×(عط ۱ا٥مط٢1١٣‏ ۶185 0/6916 06۶16068 70ع دہء ط٤‏ ٥ت3‏ ۷ ز صتط ت٤ا‏ ن15ذطل )6٥۶٥‏ طع تہ ۲۷۵۲6٥۲‏ ۶۰د ترەط 1 1 ٥١10م‏ ۶ہ غصتامصه 11ہ و راہ ع٤ 50٤‏ ×0 ہ٣‏ زج ۳× ٭ہ ہ٢٥٥٣ ۳٣٢‏ د1حصتصة )۲۷۵٢۴8۰‏ 11156828 رصعصد ٥×عط‏ فیا رل وہ تم ۶۸۱۰ء مز عط٤ 1١11:٤‏ 4اہہ٣٤‏ طءنط٢‏ ( ہءصدء ,ممصنط تہ ٥‏ ۶۲۵۵ جر × د1ء ۰[٥٥۳۱٥مّ ٥۶31‏ ط٠۲۰۱اد٭×ہ‏ مط رص 8 تم عط٤‏ ۶ہ ۰+[ ٤‏ ع۸ط٣‏ ر4 53 3) .ہز ا٥۶‏ ۶۸۱٢۱٢ 10‏ ۶ہ ×1 ەط تحص 0۹٥8٥‏ م7517( 4 ص٥ ٤٥87۰‏ اع 0 ہء ۵۲۵۶م عط ر5 2۴8٥3111۲۰‏ م 8058م عطا ۰٥۴۵ء‏ ّ عط 2116562 ص1 عصد دع تم صز 11+5

۴۲ ٥٣1ج‏ ٭< ۶۵۵۵۱۰ آ ۶۵810 ٣5٥‏ 11د ٢٢٢ھ‏ ج4415(ط0۶ ات١45‏ طعصصٴٗ:ہء ەط٤‏ ۶ہ اذہ عط 8 سابصدطادی تط۱٢١۲۵‏ لد۶(۱زامھ ج< ,وہہ ن٤ی‏ ٥٥۶٤.8‏ ة 117 ٤ى٣‏ 41٥٥٥8‏ ط118ذ .ہ٣‏ نع ہذ رمطو×نطا عص1ط۱ء دہء ط٠×‏ دہ ذ٤٤‏ صطہء ع1طائەەمم ×صہ ٥٣ط ٤‏ 110(۰ ۶ہ منط۱×۵× عطا طز 36۹ دەءط ٣‏ ×عط ترتع ط٤‏

8 8ط18م×ہ ۶٤ہ‏ ۲ہ 3٤ء‏ ×نط٤‏ د ہ18٦‏ 18 ۵×<عط٣_'‏

117

س٣سممپسسمسےےشس٭×٭سسممسمفسمڈه٤وسسسرسسسسست‏ سس سّسةسس- سس سمل تعسلعمس ماعسسسسسسیس××یسسسسسسیس×سوسی٭---ىے

7 7ج۱10۸٭ط٥ ٣٥٥٢ "00٤۶0۷+۶8‏ ۶۶۶۵۶۶۰ ٭طا صدء ط0 ط× ٤ 10۰‏ رہ: ٭٭قز ۲۷۰ ,ظلەمص5" ,(10) 15,9 ۶ہ ٥٤‏ ٥ط٤:18‏ 6,8 1جہ7۲: 11ز" ۷۰ بجعاہ108 1 د ,چصنٗءہ٣٣‏ ءطا ص01 ام عط غسمطد دہ نع ةَذ صمناەصعام٭ہ چدہ10 ج2 ۶ <۱۲١٢۶۴۰۱[ 0۰.29 ۳٣۷(5 ۰٥‏ 11818:20ئ٤‏ ٥۶ہ‏ ص93 م700 ٭ط ج۲۱ 5۶:16 (۲014١:٥۶‏ ٥ہءط۳_'‏ طءصھ دہ ٥ذ‏ ہ٥٥٤‏ مہو ہا د+نصمد٤زحطا‏ 118 ۲۰۱۱۰ صط وط ص0073 7111۲ ءط؛ غعط؛ ہہ جچد دہ مط۷٢ ٤٤۵‏ ھ٣‏ "٤۶‏ همصنغ هەطغ هٌعمنہه ٤ء‏ چ صعطء صیا ا رم٥‏ ,دصه×٭ اہ عط٤؛‏ ن<غدھء حط] ۱1١.‏ صسصعط51( 0 ط× ٭جد ٥صعط‏ دمظز< مادعحدطٌ١۸5‏ طحانەطڈ جدمۃاج-ر ١١۱۶[‏ ع7 ۱ صہ مصع٤‏ دہ" (٦٢٥٢‏ عط صٔز) عدم×اد- ٭ ۶م ۰1× نائنطہك٭ة همط۲ جملدا تمہ“ عصدہ مل وھ دەمطاعہٗ" ٭٭دعط٤ ٤‏ عط٤‏ ×<د×دّ-صہ عط ربآلط×طہ۶ھ عز واج دہ مصسحدہء ع ط۶ ذ”چ د ند۰۱ ٠ہ ٣٢۷٢‏ 01۲56۰۸۰“ ×1 رصدصد ١ص‏ ج۶×١4صہ‏ ععط عاانط عط] اعطا چصنتاداہ غط :16امص×ص××ہ صد ۸۵ :۔د٥۱11‏ ۰13ص۶ طجہعطا 1058ائام جرَەەط معط 'صنع×ز'"' وصلطانط ہ<ە ط۷ ,7:14 .٥0آ‏ تہ عاصئەط !طخ و) ”<ہ۱۲۶× ود1د 78۰٦8‏ ذ٘'صع ص۰۱٣‏ چصہہ"' ۱٥۱ ٥١٢‏ چصعطء و ہو ب٭اع×ع ×مط٣‏ مط٢۷‏ ؛”×ەطاہ٣‏ ط٤‏ ٤ہ‏ زع8٥00×010ط‏ دزمم ٥۱ط‏ د0 ٤10٠ئ)‏ صہصسحدہء ۲۰ ۔لدصنچونعہ عنتەط ج1 موحد د 1[۰دء عط ٤ەصمدء‏ عاط زنط عط اعط) ٢٣ط‏ ٥ا‏ ج۵۰ئ]مدو ٥1د‏ ×<مط؛ ہد "٣١۱۶٥ ہ٤ 6۱٥٠٣‏ 088ا( ,عاەعز ۶ہ جمطەنطصحلط<ھ طعناقمدظط عط؛ ۶ہ ط۵۶ موہ طدن؛زءظ ط٤‏ ۲ہ صمذادجہ7<جچدء × غاد 1952 صزذ 41٥11٢٣٥۶٥٥‏ نعط ٤۲۱۸‏ ٢۱ز‏ طط .راہ نہ8 ع(انط صع[ہ<۱ہ7 4٤‏ 168ج ,أ1طنظ ط٣‏ ۶۱۰۵۹۱ دہع دہ1 وص صهصطہ1اح صظ صو و عچ د۶3٥٤٤ھ‏ .22168 در ٥ 801۲٥ ء٥٥ ۵٢۰٥١۰۴٥‏ 0860ا 18 اذ ٭و٭ قط٤‏ ٥ع‏ ۶۸اھت زہہ٣٣‏ دز از مادح وط5( ططلانەط5

۲٢0٥6

018 آدسسسسہسہسشیوٹسسأ-صع-ص-‪۔|۔٠۔ےٹے,١,-ص۔...۔.۔۔‏ نس ٣نننسبییٹٹسسا۔‏

٥ط‏ ط0 6 ءط٣ 1856٥ ٤٥ ۶۵۵١‏ 3۶۶ ۲17:8۸5ھ 7680 بە٭ەط عقط صۃ<08 زا516 عط ,1 ,صعط ×ط٥‏ ٭ط ٦٢٥٥‏ ((عتط 8ھ0 نا1616 ×ہ 4091711055× نزرصة ٤‏ ٦٥ط٢۳1‏ 1 1818 ۶ہ ١٦60168‏

۳1616 ٭صط )طخ ٤6ز1عط‏ 8۲۰۱ء فط (۸١‏ طمانەط85 681٤١‏ 0[ 0868ا 16٤٥8,‏ طا ٭(دروط ,٥ط ۲13۷٥٥ 8 8 ۲۵۱۱۶۰٢‏ 18 |٥٥٥ 5‏ عنزطط' ۔عصنداء ([ج٤‏ نع ا٥ط‏ قلنط 005 م0ۃ (٣‏ وط۳ ہ((158) 6 ںے۔ وع (طزاا٭ دہآا: ٣ص‏ وت ٭(ر0 عطخ دد وط نی 1٥٥‏ دز صعط۸50 ۹10٥٥٥ ۵۲٢۶۶۰۱۹‏ 9 3 :16-20 ,18 .1061) [نين٥1‏ ٭صرم: سا ۱ء صنوام×هہ 8538 ٠0‏ :3075 :9-13 ,28 .768 :10 ,5 9186ھ 283:039 ,10601.38 058 :3,19-222 :٥ھ‏ :16 ,14 حطاہة 1,9-21 ہل :1:19-13 :)14-15

٦5٥86 0.9‏ وط ج 16(ەط 3۱۱۶ا دہ صحدہء ط۲٣‏ ۹۷ ق8ن٥ئ‏ ×ط٥‏ عچ(ہ٣زاعط‏ و ۶ن۰×مّ ۷٣٣‏ [8 10ء 4۲٣ ٥٥‏ 81٠٥ ۲:1111 +6٤‏ 1ج168 (ط٤ 1٥1٥‏ ٣۱×م‏ 8093 صط50( وت

8٤ء‏ ۴۵۷۲ ۲ 8ا65 607777 !ط١ ٥‏ ۹١٥(٢۷۶٢ہأ‏ :چجھ 86 متخ دصدام×ە عط٣‏ ۔عقاصەم .ہ۱١‏ ۴٣ط‏ 16۶ ور" ١۶٣‏ ۲۰۰۱م ×٥8, ٥٥ّ‏ ط٤‏ زلوعذ۲801110 ٤8‏ 11168106 +وطخہ 51د ع طط 0٥5ص(‏ ط(۴۵۵۰۵۶۰ ٥حئ٥ 2٥‏ 8 50[87 ٢8‏ ۱۲0۶7 07(11815281 00601170 ٥و‏ زم[ ذ<ء ٤0‏ ہ٣٢‏ نع ة1 غاطعدەمط٤‏ مھ سط 185(۰ داماد مع ئخ ددہء ٭ لام ن”ہعچہ<×٥٤٥ط‏ ٥ط‏ 11ے ط0۶3 ط٤‏ ۔۔ ا دہ ٥ا١‏ 7158ص1 مہ طخ ×ەط٤٥ج۱:‏ ط٥ط‏ 8) ط٤‏ ٥ء‏ 4465 ٭(ط 118ص1ج عط ص0 ۲۵۵۵ م10

107260086 ۶800م ٤ہ‏ × ٥٥ط‏ جع715ا7ة8صل صه 8٤‏ .۰< ٥ھ‏ زاەط ط٤ ۲٥+‏

1419

3.1757 1077077۸ 07 0177۷ ۲1۳۷ ۲71۸(6 77

58 ملد×دط8]م( طعانهعطڈ ۶٤ہ‏ عا×ہ عطا باہ×ز7 فان * ٥٥ط‏ مععط ۳۰ط .1000۴80662 1758018112 تازئطہ٭5ج ۶ہ (٤٥: 11٣6٤٤0 ٣٥‏ عط ٭ دا عھذلہہة قالطا ۶78۰ا صداہء صد:7۲1 م۸ ٥د‏ ×ہہ۶ آلد صا ەعمع ص1 1)ٔ ٛ ۸+" ط٣‏ ۔.طعنط ٥٭ا‏ <×دہ٤د۴٥+(:1‏ ×ہ٣‏ 4 د4 2٢٤8۰‏ دہ جع ”۲۵۵۸۸ ٥‏ ×صعط .٤٥6‏ 0۲16م

ط٣‏ .ئا86ؿ٤٦ 88٥‏ اعصدا عط٤؛‏ ٤غ‏ 8۶۹ج ×7ط ١ہ‏ ×ص×[دطا١٠١٣‏ عط؛ ٥۱۶۸۹1×ط 86۶۷٥ ٠٤‏ 810[ 35ا 08٤0‏ ۶ہ دمناد1نصنتہەەہ عط٤؛‏ طعہدم×ط٣‏ .نلنطہبم8 ۷×ط ٣١٠٢٢‏ × ععط ة(ط؟' ۔ڈصمندەہ۶×م×دہ 3صھد: 8ددہ[10 ٥0ط‏ لآل١غاصا‏ ,طء”نط٢‏ ج٥٥] ٣:[138٥ ٤٥٦٤۶‏ عطا دہ ٥۷٥٤٤ہ‏ 6 قط٣‏ ح٤‏ ٭عدہاەەم×٥‏ ما(١٤][11‏ ×۶×[ عط ععط ۸)۰ ۴110181لم8

٥ط ٥6×٣:‏ مّ ٠١٥٥٥‏ ج۲۴۰ 41٤‏ ہه :وص آاناصل :80ھ زا ٣<۶1۱٢٤٥7‏ صععدط ععط 12٦۶۵ ۱٢۶۰‏ نازئطد 8۰×۰ ۲ہ 11۲ص زدحد 0 20 ۹ ۶٥ہ‏ 8و" ّ0 0 ٥‏ عھ ‏ 151106 حدادہہ: صةذاد(×<ط۷- :اہ ۳۷ عطا فططٔ( ًامہ×ء ععط ‏ دَمنا(11 حصوەمہ×7 ٤1د‏ ہہ ٢٥٣٢ ۷‏ 18× ٥٥ط‏ ۶180×دمّٛ×ہء 15 ههأملاچسدآ۔ جک حط08[1 3۷۸( ج 15ص1ئ)ا دصہء 1130ا یم صنط ہم ,1] 9ج۲53 نصنط ٢‏ مّەقوص ڑھ صنط صٗصتنصھ ۲٢ ]31[٥ص ٦,‏ نصتطا ۶ مط018 ۷۸۸۶05 ,رن عطبدظط 21 0۸۹ ۔(نع ص-۷۸۷( ۲۶ دہ م۷۷2( ٤ا6اعاەمط ٥1۲٣٣‏ صطھ

3 ص0( ب(ہ11 عط+ ۶ہ دمذغ818 ۱< عط؛ طجدہعط7_' 0 طط۷ بج (ج× ٥‏ ٥ہ‏ 17710165٥‏ (161811 ۶ہ جہ۶0 5٤‏ 0186ئع115 صتعاءہء طجدەغط٤‏ 8 اداز ہم عط راطدحاہ×م ٭ط دٗذ ۱۱٠٥٢‏ ×۳ طاءئنط آز×٭وم”ّ 14ہ ەط7_' .ہہ 2٤8‏ 1086 رعص ٥دہأء‏ عط٤۰‏ ۶ہ ٭مصتحصلء ٤ء×نہ‏ صناعت5(

4020

عط زط ٣۶×:ط٣0٤ء‏ ٭طا ٥٭ا‏ جھ× هٍتطغ ء۶(ہ۲ 11۳۷00 .11ئط 53۳٣۷‏ ط1 <081 برا10 عط ۲ہ 81810 ص۵ قلطأ ٥٤ہ‏ گا ١٤١٢٤٥‏ هطا كادد٤]ە ٠6‏ عچطذاہہ× 166 عطا ١٤٤٢۴٤ ٤‏ هّط) ص]غٔ 2۶۰۰۹۰ طزحدہء.َْ ٥ہ‏ 81810 ط۲3٦‏ ٤.‏ ل ا8عوط0]( طانەهطة ٭ەاانط عطا ۶ہ 8181008:8 ۶95] صا اط٥٥7‏ دد نلزطة 5٢٣‏ ز ٥١٣٣۶٢٣٣٢۔٠‏ ۳۱ د3 با طط ز ‪‫ٗز٤1‏ 50188918 ,10ا ٤ء )25.١‏ ١1انط‏ عط؛ ۶ہ 10ا ٥ا‏ ۵۸) عتط ہ۷18 دمنصٗتا ١116دء۔ہء‏ ةقثتط حدذ 16116 عد ٭ہ ,(1939 1952(۰ ذ40 0۸ب)

×اتسصسااءمممہ عط٤‏ ے6۶ "ظعو دعنا۶ء٭ءھ [٥‏ ب,اطہ50 1168 ۷۶۰.۲۰ صط1 <ہ۶ ءععسعصدا1ا۔سا5ہ8 ×ططے۴ں۴۰۱ہ٤ہ‏ عنط ×عط٠٤×ہة؟‏ ح٠‏ دہ×:/۲ہھ دہ ٭ہ٭×(/٢٥۲‏ طعدہ ×ط ٣‏ مر ط× دص ط٢‏ ع مع صھ1 عط٣‏ ۱ط دہ عط ۰دا صلمم ٤68‏ 3 ط٤‏ ہزط ٤+٦١۱[‏ ۸16۶۰ ۶۰د ٢۷۰۱۶۸۰ ٣ط ٤‏ ۶ہ ٭ ظ٥ہ‏ ۱٤۰< ×6۲ ٥‏ ظط ٌصذ ناما نٗ(ت162 18 الئطد٢8‏ دک لطہ۶7:0 ۲(۵ ۵×ط 79 54د ٥‏ عق۱یصھ( هط ۶ہ نصترہ عطا طز طاحانهط5 ۶ہ ٭ جع ص138 عط٤؛‏ صعط] 135١1‏ 46ط ٥(۶ ٥‏ ه2ھ7هھ۳2۳2۳ءء

هط ×۱٥‏ مص) عنتامنىاعصتا عط ٥1٥1دھ‏ 06 ۰۰٢۰ھ۴۲۰‏ .ط1 عم نعنلہ× ے ععط معاد 10تا ئا ٦۸‏ 1 18110 تج م 35۰115( ۲۶۵1ء دہع عط٤‏ ۶ذ ٢۷۱١1٥٢٢‏ بصهەھِطا ععط ])؛: ٭ەسد٭هەطا دہناداہ ۰< علط اءەڑہ٣‏ ٣۹٢٤6‏ ۰]انصداصصہ0 2۶ع صطم عط؛ ۷ط ١عطمتلطیام‏ مط ۶ہ دامع صہصحدہء عط۲' .صہمرمصعط 11× عنط؛ عاصلط٤‏ ٤‏ ح٭< عط؛ٛ صا ٤ء‏ ٭ ہد ۰11 رخ ح۰ صدہء حٔ((:35( ط طز ١۶ص‏ رمصرعط وقعصلط) مصدہ ع77 .دہء دہ×٥٤۲نة ‏ نعط ەط صعط× .ہ٢7‏ .ج٣‏ ٥ہ‏ ج 14ہ عط٢.‏ چ صن۸دہء دہء وم . دعآحانەەمەمطصۂً هەعصد٥عط‏ .؛٦ً‏ صٛ٘ٔذ ىز٭ٛ ٤:٥٥‏ طوتطہ ١‏ ٤ء‏ تا ط11 دہ صمظھالساوەم اغ۹٘"۹۰+)۸

1021 کھسوسوھھھیھسککڈسحتٹویسیجگل020وو.ےہےپ_مے

ه( ٭××هط٤ہ ‏ نے چضنمسقھصئ .7 ۸۵۸۱۵ہ۵٥فمٌرزمہ‏ 6 وط ا(عطہ ترانس٘صصدہء 7۲۸ 341ح>هَطھ ٦ ہ٤طە×۶ 1818۶6٥‏ ۹:۷۲ طقجد٭ہ×ط]) ١٥٤٥٥٤٥۰٥ [٣٢‏ ,ظط :ص58 :103" 11٤6٥۲0۷۰ 8٥٥‏ ع٤1ً‏ طجہہ٥<×ط٤‏ ٥1۶1ء‏ 606 دہ[ھ )9 سز 18 صعٌھھ”ّم۶<مّ 3418:٥‏ صططھ )91-962 ۲٤,1937,‏ )ط٥8‏ 771881058767 11856006156ھ

158 ٥89 بد5ہ81‎ ٢ ۲159 اط‎ 27237 581۲٥٥ 8۴٣ 15.66860 228۵ء جرہہ ×٥ط ٥ہء د٥۴٢٥٤11۲ ط٣ رذ‎ 5٥8 ,غلاطا‎ 153٠٥٥٥١١, ×٥ع‎ ۲٢ 1×1 ×اہ1 ط٤ 8 ×ہ(ء‎ ۹98۲۸ 8[8م۶۸] 17'56 'عصطنڑد ں7( 11ج ۶۱۴۶ عاەەط × دہ‎ 1007 عِطغ صحەم٥٥1 8 ,٥ہ ×٠۱٥٤٥۶×<٥ەطا ,ا1‎ ط5ت ۲[[ئ۱٥2٥حردہ ۲ 3او ئن‎ 10 6٥0: 07 ۴٥8ع[0۸8‎ ہ٥‎ 788٤ ھ٤۲٤[ءج<٭‎

اس ترجہ کے اس وقت ار اپڈیشن ھپ گے ہیں۔ المدلد- اب اس کے ا نجیں ایڈر یش کی طباعت کا! تام ہو را ہے۔ مض مستشرقین نے بھی اس یم کم بر تب وکیا اور بماع تکو خاص طور پر مارک باد وی۔ پل ابریشن کے جملہ اخراجات شپاکسمار نے احباب جماعت سے اور لت دو سرے براحول سے وصول گے ۔ ائمدلہ صرخرولی سے اخراجات ادا ہے حفرت غلیف* اس الثانی کی خدمت می پز رنہ ہو ائی ڈ اک پیل اب یش نکی ایک ا کاپی جو ات یگئی۔ خاکسار

۱×ط

اس وت کے مشنری انار جکرم یل ال رعن صاحب رفیقی نے يہ ذک رکا ےک ناکما رک قمکوشش سے یہ ترجہ ای ککیکوید افریقن سےکرایاگیا۔

سن عرصہ می سکیکاما زان میں ترجہ ناکما ری ترک بر معلم نان نتھنگے نے کم ل کیا ج سکی ابی اشاعت و طباعت می ہوگی۔ ىہ فوجوان خسار کے

اپ سے 12 حھکگکگکگک ےھ

لیو , کے ےب ری ور یٹ ہے تو ل کرنے او راتریت

و رس یں ہے اہ رہہ 2 سا ا ا ای اش ا ۶ تفم بیس پڑے ہو تے او را0 سے لزمو کی فرح لگا جاک رر لیا تھا۔ قرآن یر سوج یکا جح 3وہ میں شا لاد دروم تک ہے رس وہ و رک رکوایک با پڑھااو راپ خالقد اک سے ہےر ناک کہ تھ اھ سے ۲٢‏ ۹۹۷۷ی س مت 7 کے کیا ددبارہ قرآ نکریم پڑھا۔ پچ رتا سے اکا طرح دھا کہ کے را ٦۹۹۰ء‏ مان و ای اس کی روا قون میں تی ا رک

ار ٠ہ‏ و مر ۰ ےی ھا اک کن ین اہ کر رو کان الا

2 من ہو جائؤوں گا اکر بے یھو وو وک کے لا پت ۴خ ات کک تن ا کی کے ہمارے قواعد و ضواب 7۳ہ ایال قال نے ےعمل ا بی عو تک لک مت کیا اے اور ہم س بکونے وخ شی ہوئی۔ از کی زاس گرب 2" بر ۶ت کے ول اف رر ٤‏ کر کے اج کے تعلق میں رں )رشن نے ےتال م٢‏ کھارہ 27 . ×ط٣‏ ٢۶ھ‏ ٥ء‏ صہ 0سز .0

02۵ 6ءء 10 18ةئم۶۹) عصنطعنلطتدھ پرز 2018810 ٥ط‏

123

٤8ء‏ ٥ہ‏ 18×7 ٥3×ہ٣‏ عط ٤ہ‏ [< ہ٥۰‏ ١ه‏ تازط8 ×5 1 ص8 ×سگک' عط ۲ہ صمتا دح نلطەم عط اصتداء٥٥‏ ٢٢٢۰٢۴ھ‏ ٭6 ۶٥۵4ء‏ ۶ہ ٢‏ ٥٣ہ‏ جرہ عں 1953ء ”07 لاد ۱ء ٠‏ د181 ۲ہ صمناعسا٤زہە‏ هط٦‏ ۶۱۴ 268 089005 ×ط٢٢٣٣‏ .٤٤ا٤٤‏ .س٣‏ ۲ع٭هدم عطا زا4 ->٣(۲ھ‏ ۸1616دہء عط دمت×مع <عطازہ ٥ہ‏ 10ا ۸9ذ ص79 ,نحرلڈانک ھا 4٥عطدنامجصدوعد‏ حصەەط ٭×عط د0 عطا ٥٤ہ‏

طلطامط8 ۶ہ مصنطہ<6 1د16 8607ص 5:0٥‏ 859 وط 18ا1 ظط (66.-ّ) 8 <مم ٣ا<د٥‏ صز عا۶۵ ط350(

اس-

124

مساجدکاخیام او رمساجد کے لے زمیتو ںکاتصول ٹہو رامسی کی لیر باو اور وج رعالات

ترک کم اد اشاخت میرک علاو اللہ نا کی دی گی وی سے شرق افریقہ کے قیام کے دوران خاکسا رکی گرانی اور زاتی کاوش سے پچ مساج دکی لقیر یی یی مات گی

تزاغیہ میں مہو راجھ مفرلی پر اوس کاعو بائی می کوارڑہے۔ میتی جدوجج دکاکئی سالوں سے ام مرک دہاہے۔ اس ا م شمریش مس دکی تی رکی قوف می اس مسچ دکی ےو ےن ر کے ٹورا آنے کے تل وا دہاں چند الین اجری مئیم کے انھوں نے ایگ 11013 77766 پاٹ کت ر2 کرک ا ات یا ا ا اٹ ارارہ تھاکہ جب الد تَا یٰ وٹ دے گا۔ عالات سازگار ہو کے اس پلاٹ : صح تی کی جان ےگی۔ کی سال حتف انس علات برک تیر ہو کان سار ای ٹہو را جانے کے بعد افریشن احربیت میں داخل ہونے گے اور ایک اکچ خاصیں بڑگی جماعت افریق نکی تار ہ وگ فے ضردرت موس ہول یکہ باقاعدہ اب مصو کی لقیر ہو۔ مسر کے نے تا رکرواۓے گئ۔ مقائی ٹون شپ اتھار یکو اس پاب مھ بنان ےکی دد خواس تک یگئی۔ قھام ضمردری دستاویزات اور نت نشی کے .یئ بعد مورو خوض پان شپ نے تی رکی اجازت دی .اس منظوربی کے بد اکیک جع کے دن بعد نماز جحعہ مسو رک بذیاد رک ٢‏ فص کیاگیا فیادیں چند روز کھوری جاچی

‫َ 3

425

ھیں۔ یہ کہ غیراحدیو ںکی جا سز کے قریب دد ایک فرلانک کے فاص یر ذاقح تی ۔ یاد رنکن ےکی تقریب ے فردربی ا۱۹۳ کو جم کی نما ز کے بعد مخ ری یکئی اوز جماخت کے دوتتوں میں عام الا نکیاگیاکہ اس متردہ دن بعد دعامسچ کی بیاد رکھی جا ےگی۔ انشاء الد

زا میں تقی رہوتے والی ىہ سب سے لی مسج تھی ج سکی بقیا رک کا اتظا مکیاگیا۔ ہجاۓ :اس ک ےک اس مسچھ کے ارہ جو واقعات او ز خالفت ہوئی خاکسار چچھھککے جنزم ری مر ی صاحب این نمچ اعری عبیدیی صاحب نے جو ان دنوں ساسلہ کے مب کے ظور پر ٹاڈگا شی متخن ہیں سارے عالات تا کی حاظہ سے انھوں نے رسالہ صو اہی می ککتے ہیں یماں در کر نا عتاصب خیا لکر٣‏ ہوں۔ نماکسمار نے مجحتزم گل ال رن صاحب رق سال مملغ سے ان کاارووٹش تجح کروایا ہے اور نخاکسمار نے بین ی شاہر کے طور پر لنض واقعا ت کی شیج کے ساتھ ساد یھ نوک پلک بھی درس کی ہے۔ دہ کھت ہں:-

”ے ٹرو ری پروز یع إعر روپ کا اھ ے ج ب کہ مولاناچ٘

مارک اص صاحب امیرو مشنری انچارج مشرقی ا فریقہ نے ناڑا یکا

میس تی رہونے والی بی مس رکاسنک یا رکھا۔ مہ تقریب پا نے تین

بے إعر روپ لال 6:801 :شس ہ ری اکساری اور وعاٴں

کے سا انام یذ سے ہوئی یں

سی مسلمانو ںکاضاو ٹن بے کے قرب اس د نگمرم جن صاحب نے اپنے رایوں سحیت خفبناک بی مسلمانوں کا ایک ججلوس آتے دیکھا۔ ہہ سب لوگ لاٹھیاں تاور ڈیڑے

126 020 02ء2یسپسیبتی ‏ ی:ں:ۃص-۔۔۔۔۔'_-__ےےہے_-_ے_ ےچ ک_۔

تھوں میں لے ایک جانب عرکت میں تھ اس اتدہ یش ایک نس جھ سای پہ پٹیان ےکی راوال الہش صیاحب کو یکروین مین پا کم سے ان لہ سواز تما سب سے بل اس میکہ بہنیا ہماں جن صاح بکرم اپنے ساتھیوں حبیت نک :جال ماکز ضروز شاحعت عق وردا زہ سے کرجا گے شق ان تقررف فا تے۔ اس من نے بے ساتھیو ںکوبلند آداز سے پپارا شی مبارک "اپ یہ لوگ می سے دانت پت ہوے ‏ صاح بکی جاتے رہائ کی طرف دوڑے ہاں موجو و سے ا ےےقتق یکردو''اس پر دولوگ تی سے ایس طرف جچ ہماں با جماں جن صاح بکی میم صاحبہ موجود یں لیکن خوش شتی سے دروازہ بن تھا۔ صاحب موجور تھے ۔ گر ان کے دیھتے بیشن صاحب مکتزم مھ احیاب جحاعت کچھ وم تک ممکا نک وگیرے میں لے آدازےکتے رہے۔ افریقن اعد ی مذادر قرجب بی ایک دو سرک سڑک پر امم دوس ت گبدا تی صاح بک دوکان کے اندر عو رت بعد بس اخ تکیلے آ بے اتی میں بلواکی دو سرے اععدری دوس تکرم لے گے صاحب دوکانتے فور اندر سے دردازہ بن کر لیا۔ جلوس بھی کچگیا۔ اصفرصاحب لو نکی طرف گے جو اپ ےگھریش داغل ہونے گے تے۔ ان اس دوکا نک گی رلا اور ڈنڑے مار ما کر دروازہ و ڑنے گے ۔ گرا در جانے سے مه نی نا آپ ‏ ےکن تھے ذ اما راج سےآپ زتی اکام رہے۔ خت خی ےکی عالت میں ہہ لوگ تھے۔ مہ علاقہ ٹس یس ای سم کا لو گیگھرمی داخل ہونے گے مج اف ر صاحب ایک اہر شکاری تے۔ جب انموں سیک فیادر کی ای ملمانو ںکی جائع مصود کے قرب دو ایک فرلانگ کے نے دریکھاکہ ىہ لوک آپ کے گعرکے اندر داشل ہو گے ہیں تذ فو را انی بنددی فاصلہ ۔ وا تع تھا۔ سن ملمانوں نے اس سے قلی اپ ےکی اجلاسوں می افریشن اٹھائی اور اپنے دفا عکیلے اننیں پکا راک میرے پان بندوقی ہے اور ہو اگ فا رک دیا پسٹریٹ لیوا یکی انگیخحت اور لی غیراحری مسلمانو ںکی کساٹ پر اس بات کا یا لوک فور اتب ہو گئے۔ ایک نے ابی راہ لیت چھھ آگے چاکر پچ رجلوس عز مکر رک تک ہپ ہو جائے اجوریو ںکواسس کہ مود قیرکرنے نہ دی گے جو انا کی شل اخفنیا رکری اور راستۃ مس جو اعری نظ رآیا اے زدوکو پکیا اور بماعت کی می کے ققل ہکی طرف قزرے ناصلہ بر نے وی تی ۔ اکر عومت احدیو نک || کےاایک ملغ ضیف دع رش صاع صاحب ک ےگ رک ر نکیا انیس زددکو بکریی اس کہ سیر بنانے سے نہ روک ےگی تو دہ خودقانو نکاپے اھ میں لیک رام یو نکو رض اتی احاب نے فو را یڑ کر ان کے گر کے دردازسے بن دک دے۔ 7 2 پر اس یر يہ لوگ اریہ سو لکی طرف بھاگے بھاگے گے وہاں الیک اج کی دوس تک کادن تھا۔ سنیوں نے اس دن روزہ رکھا ہوا تھا اور ہہ اعلا نکیا ھاکہ چماد فرل جو دباں بی رت تے مارااور زگ یکر دیا۔ شمرکے بائی الو ںکو جب خرہولی دہ ے۔ اس اعلان سے کرم ‏ صاض بکو ف کرنے کی یم ہفاگی حا اس رح تن جلد جل رم ش صاحب کے گ تفاظق تکی غرض سے ب۔ ایک ا دی اریت کے ننخوزکو اس شرمیں روک کھیں۔ ان کے اس انتائی خفبناک جوشد || دومت معم رمغان کے سرب چوٹیں آمیں شید زی ہوے۔ عم ربھ رکیے ای خوش کو رک ےک رش صاحب الع کے ارادہکو پان پکر قریب بی ایک اترک بھا یکا ےت لہ فیا اوت کے ہق سے کی لو او کی کان کے اندر مہ گئ۔ سنی لرانوں نے اسیا رکوش لک یک ہمسیان کا طنا ‏ شرکی سب دوکانیں بند ہوگئیں اور ہ رجہ خوف د جروس بجی لکیا۔ ٹا نا کاکی

128

تطت ٌٌَّّّ‪ٌّٔے‪ّ‪گ گےگگکگگٹ ‏ ک٥‏ ےےے>ے٤۱ه۱‏ آآ رن می ے پطا لز, 0۱ذ بل تھا۔ جو عی صرکاری افروں کک ان عالا ت گی اطلاع کبٹی فور اتی کاروں میں ڈی 7 0 38 اوردوصرے سرکاری ا ضراور فو جکادستے ش کن اور لف ناکوں پر انموں نے اتی الا یکر لگئ۔ سو سے زان افرا کو پولیس تن ےگ رم رکیا اوران کے زارف نقص ن کا مق رمہ چلااگیاں مسٹرٹراٹپ جسٹریٹ تے۔ ا نکی عداات ٹش یس کو جرانہ اور قی کی سزا ہوئی او رنشائم چیہ ہے تک ش مس ان تا گیا۔ یں کے زی ایام شی صاح بکو یٹ یکشنزصاحب اور سرننڈنٹ لس نے ا رآن ےکوکمااوز اپانکہ ان س کی خی جا ےگی۔ آپ مطمن رہیں۔ آ پک محفوظا رک ھکر ہیں تی ہوئی گی کی حفاط تکیے علومت نے بویس کے سای کی ون جک مر رج رھھے۔ شام کے قریب ان اضروں نے جو جن صاحب سے نے راک گے ون آپ سے براونش لکشن من جا ہے ہیں۔ اس لاتقات کا مق یہ تھا کہ سو کی تق کے ساسلہ می جو فضاد ہوا ہے اور شمرمیس ٦0ذ‏ ہے ا سکاکوئی تل علائ کیا جاۓے۔

چنانے اگل رن مورغہ ۸ فردری ۱۹۴۱ ءکورم مجر اصفر صاحب لو نکو ساتھ ےک رکم شی صاحب براونش لکشزاور وسڈرک فکمشنزصاح بکوبراوشش لکش سے رف میں لے۔ ا یو کے دو ران اپ موق کو صاحب نے عزم اور وضاحت کے ساتتہ بپ کرت ہو ان افسرا نکو رتا کہ لاٹ فرکی ہولڑے ۔ ہم نے ریا سے۔ اون ش پکی نظ ری سے مس کی فقی رکاکام شرو کیا کو گی انا کت خمی ںکی ج کسی کے اشتعال با انگیخت کا باعث ہو۔ ہمائیت امن و سلا نٹ سے مس ری بیار دعاؤں سے ھی ۔کوگی وجہ خی ں کہ علومت مارگ اداد نہ کرے۔ پراه کت نو جاری تھی۔ مسٹردمیرین ڈپٹا مضنزغاموش پیٹ

129

رے۔کشنرصاخب ‏ ےکماجچھ آ پککتے ہیں دو سب درست ہے لن حول یہ ےکہ امن داما نکی عال تکوشد ید خطرہ یراہ وکیاہے۔ ای عالت ینس طرح عکومت آ پکواس کہ بر مو کی فی رکی اجازت دے۔ می اور حہ بھی مشیر کی جا عق ہے۔ بھ دنوں بعد غالبا ین ار روز بت دگورنر ٹاٹگ بک و را تشریف لاے۔ ان کے لے بے مستلہ برای کاتھا اور کی دقع بی بد اور 7130 اس لک یس ہوک ایام کارگور نر نے بھی امن و امان کے شید ید خر کے یی نظراس لہ ہر و کی تق رروک دی او آخری فیصلہاس بارہ ی سک دیاادر جاعت سےکھاکہ سی اور تک کی جلاش ککریں۔

اب اس مس کیل نی ہج ہکی علاش شردع ہوئی۔ لع ری احیا بکوسچر کیل خی کہ خواب میں وکھائیگئی۔ لیان جن مارک صاحب نے با اک مسٹرٹاسن چپ لیس نے ان سے ایک د نماک آ پکی جاک گاو کے ساتے ج ھا پاٹ ہے اگ رآ پکو اس پلاٹ بہ مد فقی رک رن کی اجازت دے دی جائے ن وکیا آ پک تقر ہو گں مس باصن ن ےگھرکے اہک یھی می ہے ہے میارک سے غاموجی سے بہ با کی ش صاحب نے اضضچمس ےکم متظور فو ہ گان رکیا فرق خخالف بھی اس یل کیل رضا مند ہوگا۔ مزید شی صاحب تن ےکماکہ ریہ ار ی لاٹ ہے۔ ددم اس کا ھدآ ےکی کی من بھی مض بے سیون کی ای با متام نک یکر خاموش دادور اپے اضران اع سے اس نے مہ سااری بات جاسنائی۔ ا ضران بلا نے فرب فخالف سے می طور بی یی لھا یاکہ علومت ابو ںکو مج ہنان ےکی قابل ا عراش کہ بر احازت مفسو غکر و گی لکن اگ کسی اد رجہ مسچز بنانے کا فیصلہ وم تکرے کیا چلر کسی _ مکی روک پیدا نکی جا گی فرب خالف

نے حوعت کے کن بر اس جا تکو صلی مک لیا اور حر یک دی ۔ لض علتتوں میں ٍ

190 سس ح۔|‫ٗ ۱ح دح ہل ووو._م١ہے‏

سوال پیا ہو اہ ىہ پلاٹ جو مجوبیکیا جار اہ ہہ فو راب خانہ کیل عکومت نے ریزروگیاہواے نس پ اضران پالا جع بر اوخ لکشیرنے ناک رک اپزر شراب غانہ بنانا ٹھیک نہیں آبادئی سے باہر شراب نانہ نایا جاۓ اور ہے گل لو کاچ کی دے دی جاے۔ فریق اف نے بھی سے تل رکرو ۔ چنانیہ 8 پٹ کا مرو آا اور اضسوں نے 100100 نٹ کا پلاٹ بماعت کو اس شرط پر دے دیاکہ ال کے مات کاحصہ ای رہے گااور حکومت ممو رک ققیریں ہر مکی اسان اکر ےگی ۔ چنابچہ جتماعت ام یکو ۹۹ سا لک لیزے ایک شلگ مان کی ادائی پہ ہہ پلاٹ دے دی گیا۔ نیہ لاٹ سستابھی تھا اور پھہپلا کی بت وسخ اور شمرکے خیان وسنا ش ایک طرف فردرے فاصلہ پر بیس میشن اد مات یھ دور می منڈکی اور دو طرف مک گویا اللہ نال نے اپنے خاص فثل سے اس فتنہ اور یلوہ کے نیہ مس جماع تکو ایک بہترین پلاٹ سو رکیل دلایا۔ وللہ ائمد۔ یہ پلاٹ پے پلا ٹکی بت سے پد رچما من ڑتھا_ * کر مجکربی عبیرىی صاحب مزید اس مصویدکی تقی رکے سلسلہ مس کھت ہیں سن پلاٹ پر مدکی تیر ”اب نے پلاٹ مس مو ھکی تی رکا کام جرد ہوا ے شرمیں حالفت دلی دی شی۔ ٹرانپپورڑ نے پڑھرلانے سے انا رکر ویا۔ راجوں مستزیوں اور تکھافوں نے جو اکٹ خیرات ىی تے خخالف تکی وجہ سے کا مکرنے سے الک رکردیا۔ اللہ تما یٰ کاکرناہو اک اتی ونوں جنگ بند ہوگئی۔ جنگی قید یی ںکی ایک بہت بڑ ی کھیپ ٹیو را لاگ یگئی۔ ٹب را میں ان کاکپ کھولاگیا۔ ان قیریوں می انگ اجگے کا رگ ر*

11

کار پیٹ رآ رکی یٹ اور راع وغیرہ تے۔ روم میق لک بر ج نے کی پکانڑنٹ سے در خواس کر کے ان قیریوں می سے چھ قیدکی اپنے بر کو مزی ن کرنے اور ضردری اصلا نکیل عاصحل کے کپ کان فک رت مضری سے وخ یی رو مین میلک اور قیدی بھی روم نک یق و تک۔ جب جن صاح بکو معلوم ہو کہ اس مرح قی کی الیک نم بی ج کو دے گے ہیں و انہوں نے بھی کیمپ 409 6 ٰھ ۶ھٹ عذایت گئ جالی ںگ رکیس پکانڈخٹ نے اس وجہ سے انا رکردیاکہ یہ یتقو لک میں اور ان کے نج عیادت غانے بر ج کی ر ہے سے ہیں ود کے فی دیے جا تھنے۔ عیمائی کس طرح ملمانوں کی عبات گا ہکی تی رکا کا مکریں ۔ اس پر چتزم جن صاحب نے عکوممت کے متعلقہ اضر ڈانئریکٹ رآف مین باد راو را ن کون کے گر ان اگ سے دارلسلام جاک ملا جا تکی ادر ان سے ان قیریو نکو میرک تیر کیلع دیے جات ےک وکما۔ جن پہ ان ا ضریوں نےکر نل منر یکا یٹ کو پرابی تک کہ مسلمان اس جنگ کے دو ران ہما رے 11168 یں موی کی تق رکیل قو اعد کے مطابقی انیس قیدری دے دہیے جاکھیں جس بر دی کے تریب خیددی جن میں سے چم ما رھ کان اد یھ دو نے کا گر جے 7166004 تل( آرکی نٹ بھی ایک تے۔ان قیدبو ں کل رو زانہ وو شلنگ مقر ہو١۔‏ دو پ مکاکھاناان قد یو ں کوچ صاحب کےگھرسے مایا جانے لگا۔ فضل ند ا کام رد ہوکیا۔ اب پچھ و کی ٹرا پور ٹ کا متلہ تھا۔ تام ام یوں

132

س ےک ماکاک قری بکی الیک ھا ٹڑبی ٤٣٢٢‏ ۱1ب محنزم جج صا بکی محیت میں وہاں اکیٹھ ہوں۔ دوبان ے پچ ر نےکر مد کے پلاٹ پ لا 77 بالات ھانرں ک رر ے76 ڈیڑت سو آدئی پچ رشمرمیں مد کے پلاٹ پر لاک کرت ر سے ۔ مزید تانب نے نہ تری کک یکہ ہرجعۃ کے ون جب اجزىی ا ضا نماز جع کیل آنیں ن3 ہ جن اسیک ایک پچھرما یاکرے۔ بوڈ ھے ؛جوان * جے اوز خور جن صاحب اس برای ت کی تل می پھر اکر سر کے پاٹ پت کرت ر ہے او رپپچھرد ںکاھ رل گگیا-

محمزم شی صاحب کے کیک سلوک سے متاث ہوکر اکر قیری یکن گ کہ سے نا 81 میں او ر وی الد تکئی مار قیریوں ےآ سے و زیاف ت گیا کہ وہ آپ تیر ے اور مو جورم عالت ے آزاو بن شی صاحب جرف من اق نے فا زجب “یدک تر کل ہوگی۔ الا اتید ای سے لفاظ گرم جن صاحب کے متہ ے ۔ ملا الیل اس کے مطابق ہد ا۔ مس دک تی رکمل ہونے پر نک انی شتم ہوگی اور قیدیو نکو ان کے ون تو اتے اور رپاکرتے کا فیصل ہکیاگیا۔ اس مود کاسنک جیا حنزم جن صاحب نے رکھا۔ اللہ تعالی کے جضور دماوں کے بعد افرشن ام یی اجاب اور امن اعد یی دوحتو ںکی موجو دی میں مو رنہ ۳٢‏ جولا گی ۱۹۴۲ء کو کیک فیاد رکھاگیا۔ ۱ مان

٦٦ب‏ ٰ۷ 3 وتقار حم لکیا۔ زدو رو نکی عطر کا مکیا۔ ھا ڑ سے پچھ رکا ٹ کا ٹکر

1

333

لاے رے۔ ران کے میینہ میں شھد یدمگر می میس بھی کا مکرتے رہے پالا خ ۱۹۴۴ء میں مر بفضل ند اعمل ہوگئی ۔ مسی کی تقیر کا ا ار شلنگ اٹھا۔حضرت خلیطۃ الم لی نے ص رکا نام سر ففل رکھا اور ۱۹۴۵ء کی ھرکزی و کی تقادیان میس مس رکا وٹ دکھاکرا حا بکو خور سن کیا۔(ر ہو رٹ ص٣فح٣٠)‏

اس مس رکا فا ںککرم جن صاحب نے ۴ ا دعب ر۲ ۱۹۴ ءکو فرایا۔ ای وع مارک پار کے پنام ہر طرف سے خوصول ہوۓ۔ سلطان آف ز تجبار مگور نر خاننگا یکا ا گور نر کے سیل رٹری ایی نیشن ڈان یی مہ تعلیم 'سفراء میں سے اھ ریہ کے سفیراو رپ لینڈاو رپالینڑ کے ینید اور جا زا از لے ان موق با میا رکا کک پغام جوا ۔ ىہ سب پغامات منزم چو پر ری تار اع صاحب ایاز نے سنائے۔ مشرکی ا فریقہ کے اخبارات الیسٹ ا فرلنقن سینڑ رڈنا گا یکا ینڑرڑ۔- سواتلی اخبار 8878 اور 7 0.2 صرخیوں کے سا مس رکی تیراو رافتقا حکی خریں شا کیں۔

شب رکے محززین ا فی ''ایشین کے معز فرا' ران اع ےر اش نز ٹکٹ کشن اور ڈسٹرکٹ | نی ر یلوے نے شرک تکی۔ مسر کے افتقتا نکی خرنیرد لی ری یڑ ٹیشن سے بھی نر ہوگی۔ جماعت ٹا یکا کے اتکی احاب ادر نبردٹی سے بھی کی دوست افقا کے موںع پر تخریف لاے۔ می ازان حژم پر عبدالر زان شا صاحب نے دی جب بے اذان ارس ون اتے سئ 3

ڈنٹرکٹ انی کی میم بے اخخقار ہوک کن یں اکیا ہم ہہ آواز

44

و مسر ید سا کال با دئن! نی کروی مھدم یو او خوانی بی الک ای یڑل جن سوج ر خی ای خوقع یر یر اقامت تمرم یبا زیم : ضاتب اب .نے یک یج

اٹ کا می کروی ہےر ٹل تو از کی گا سام ستاما ہرز ورای ےس رڈ ۔ تی۶ شا ے ”رانا ہلاو ان ا ور کی نا کی ا اف ا دنس یپ یپوی رتا ہے اط را نکر مک جرد

۶ یی مرحی جک می ران ے ور رن

کنا کی نت ای ا تر ری ئل زین یں اک یرت وی شی صرتی )٢‏ عہوض تغل ای رو کچ بڈزج کیو سے کفات ابا ہت ئ1 رمیر چیپ ر تی ا ان سے ای نی وغل سے باہو اد لی دو ری ہگ ؟اکی طورر از اگوی دی اپ زع دز ملف کزد اپ نیل گں سے کر را ساب نے ان سےکماھاکہ جو تی مجری فی سیل بر کلی کات تی رر تارنی یر گاے+

کک ید صاحب کامفمون تار یھر خر

سر سلام۔رارالسلام

راہ میں دو مر مد خاکسا کو اپنے قام کے دو ران در السلام می ہنواتے کی وی لھی۔ یش زان کادارالافہ ہے اور بن رگاہبھی۔ دا زا سلام می مر کی زین کے مو لکی میک بدت س ےکونشن جاری تھی۔ جو زمین کا گڑا شر مو کے جو ی:کرتے داراسلا مکی میو نپ لکونسل اس روگ دچق۔ دا راسلام کی می سی لکول یس پھ افراد اعت کے خلاف تھے ۔ شمرمس بھی ملمانوں مس خلت تھی۔ اس ہناء ہکات نہکوئی عذ رکر کے میدن لکونسل چ رکیے تج کردہ لاٹ کے سے مس روک پید اکر دق ۔ گور خزامیہ عرایڈورڈ وا تل رخصت بعد جب دای آ ےآ خاکسار اس داع داراسلام شر تھا ان کے آنے پر اسے ٭<0 :۴1 ۱۷۷ر خوش آمدید بذ ریہ تا رکھااودراسی تا رمیں ىہ ذک رگ یکیاکر آپ کے دور علومت میس مدکی زین کے حاص لکرنے یش روم ہیں۔ اس جار ۱ اگ رخ رکا من تک کہ ٥+3‏ کے زم وگ خر تے "مکی اوران طخ اسے لجہ دلائی۔ دز موصوف نے جو تی بے ہر ابی تگو رن رکی طرف سے اسے لی خاکسار کے بارہ میں یھنا شرد کالہ دارالعلام میں ہہ شف سکماں ہے او رکے اق سے داب کیا جا سکتا ہے۔ بلاخ کی طرح اسے معلوم ہو کہ اکسا ربچ مریٹ مس احائیل سور کے اوپر ج بالا خانہ ہے وہاں مئیم ہے۔ اساعیبل سور چچاپیوں کا مشمور تھا رکی ٹور تھا اور پالوم الیٹین اور با وص بہنابیوں کے آلیں یی لیے جے کامقام ساس پنے کے رجہ کے و زمر موعوف تے س نک کرا۔ شاکراز ای دز سے سے گے دن ان کے دفز پیا ان کا ام خالال ین عیرس تھا باہم

16

گنو شروع ہوئی۔ ا سکنگو میں پچجھ تیزی بھی خماکسا رکی طرف سے ہوگی۔ دز موصوف فور بول اٹھا! آکیگو ہہ خیال خی ں کے 0301810600778320 870 میس نے اس جيزی مم بی اسے جوا ماک کیا آ پکو یہ خیال خی کہ 21518٤68 0۶6[18[‏ <0 آ۔ تجزی اس وج سے ہو یک مباعص زین کے حول میںگز رگیااور میونچ لکونسل وارالسلام اور تحلقہ حکام ہریلاٹ پ> کوئی : کوئی اتا ضکروہیے۔ اس گنو سے وزم کے روہ می تجبد بی کی اور جب اسے اس کے دریاف تکرنے پر ای اہ اب فلاں ہہ کا پلاٹ ہم نے دیکھاے اس ہے ملق مظوری کا فیصل کیا جاے۔ ے پلاٹ ھنڑالہ بلڈنگ اور ان اسلامی کی عمارت کے درمیانع عیان ش کے وسطے میں تھا اور سان ھا مییران اور مدان کی دو سر اطراف میں شر وزي موصوف ۓ دارالظا م گی مو نچل کوضل تے ے:رالط گیا نین مبكید سے کم الہ بم بلاٹ 08166 18 بداعت احری یکو می رکی ققی رکیے دینا چاہتی ہے۔ باوج دکھی ع مک دوکوں کے کول مور ہ وگ یکہ ححکوت کے وزم کی طرف سے جوکار زدائی ہوکی ہے اس ں کی می مکی روک نہ ڈانے ۔ بالا خر بت پلاٹ جماع تکولیزیرع لکیا۔ ہہ عوم تکی زین تھی ارچ 7۶۷٥‏ ا بسرعال ایک ا پلاٹ تاور بست بی انگ موق بر شمرکے عین وس یل تھا۔- پاٹ کے حول کے بعد مسو کی تقی رکا فیصلہ ہوا ۔ نقنے جا رکرواۓ گے النا ۹ى و رو ہے تی فی کے کاروبار می وہ رات وغیورد کے کام جوا نکی فرم کے ذتے ا ن کو اخیام دینے۔ پرائیوئنٹ طور بھی دہ تقیرات کے گے لیے تے۔ دای رن انا ے کان بر نماکسار ہے سا باہو فض لکریم صاحب لونع صدر بقاعت دارالسام ار

17

گرم سید مھ سردر شاو صاحب جنزل مک رٹریی ماع تہکو ےک انی لیک ان أ۔ . نے یس دہ ضرد ری 76:08 جن یکریسں گے۔ ان سے پچ می اور یا تکریی ٠‏

58ک کی ا موں نے جو و جائی کی وا تی رق جو اس نے مدکی تی اسے اد اکر وی جب دیداریی ققیر ہو جائی کی قے مقررہ رقماداکرنی ہگی۔ پعت پانے او رحمل ہونے پہ جع تکی ا رق یں اد اکرنا ہوگی۔ بے سب 608 ھکر اسر نے اىسن سےکما۔ چو ری صاحب اس دت ے جارے پا رح تیں - الع 6:05" کے مطالق تو "2 آپ کام شرد عکردیں جوں جوں رٹ آتی جاے گیا کو دنت جائی ہے۔ عجرت نے اد ی طرف دگٹ اکا او رک لا ش صاجب کیصی بات کر رہے ہیں۔ الییا باقوں صےکیا مارتیں خی ہیں آپ کی جماعت تو بہت امیرہے۔ آپ ان 0+8 اگوی تلیمکرہیں۔ می نے ا ےکما جماعت بے نک امہ رہے۔ اس کا اپنانظام ہے۔ اس مد کے لے اس وت ہثارے پا رم نییں۔ لن خدا کے فقل سے امید رکھتے ہی کہ جب ترک ہدگی نو رٹم آنی شروع ہو جا گی ۔گراس کا را رکہ دہ تو ان 7608ء تی کا مکرے گا اود ا۸ا را زہکہ اس وت ہمارے پان رتم نہیں ' دوج لاک اس سے ہم مرا ق یکر ری ہیں۔ جرت سے یی دبکھتے۔ آ خر یبور ہوک رکن الاک آ پکیا اچ ہیں۔ بچتخالی ہہونے کے باث دوستوں کے اس کے مات تعلقات بھی تے۔ اکسا رکی بھی عمز تکرب تھا۔ اسے بایاگمیاکہ اکر بی ×70 آ پکو مظور ہو گر 16جاھ ج٥‏ ط× 16به 29 9 کام رایپ گر تاور جب سے دیھنے گاکہ بی ا کی حخقرا تکس ش مکی بات کرت ہیں او ر جن اک

18

ىہ جیدگی سے بات شی سکمہ رہے۔ لیکن ہمارے اصرار ہاور سی دی سے اس 07 کو انتا رکرنے بر اس زور دی کے اگا1 ل0 نقلشہ مین کام شرو کر ہوں۔ اللہ تھالی نے اس کے ول میں ڈال دیاکہ تم پپیوں سے ححروم نمی رو کک

ال کا اضا نکہ اس نے کام شرد کر دیا۔ مد کے پلاٹ پر دفت مفردہ پ نیاد ںکھور یگیًں _ یا رک ے کا موںٹع آیا .لوس تکی طرف سے گرا یکااتظام لی طوزب فااور ہہیں برای کہ بڑا گشن نہکرریں غاموشی سے اد رکھ ہیں۔ ٹہو را کے خالا تکی وجہ سے لوم تکی طرف سے میں یہ ہدایت ہوگی- 5 تا نیک جماعت کے زمہ وار اخیاب اؤ زاس وت کے مغ جو وہاں موجود کے نال مولوی عبداککریم صاحب شریا او مولوی جلال الدین صاحب قراس مج ھی زار کے وقت موجود تھے۔ دعاؤں سے نماکسار نے بیادی ابینٹ رک دی- غدا تو یی ا تی اور شرت س ےکھی تم ککوئی شاضانہ نہ اٹھاد رنہ حی شر او راز رکرو کے ہساپوں میس س ےکی عم کاکوئی شور برا ہوا۔ محچدتیرعدٹی شرد حا ہوگی . باریس جب ای وگئیں ےمد کے فضل سے چندہمسویر وصول ہونا جرد ہوا اور ایک معقول رت وصول ہوگئی ۔ نیکیدار صاح بب کو بزیادوں کے لف رہو جانے بر جب اسے رتم لی ت2ا کو مزید شی اور اشمینان ؛وا 1اسا ادنگ تق کاکام جلد جلد ہونے گا۔ ہرمرعلہ بر نس قرر مد کے علیہ جات آتے اسے اورک و ہے۔ صو مل ہوگئی اور بڑا خاصا خیش ن کا تظام می کے اتاج پر امام 7٦‏ "۵ھ" ن بت سے مخززینع شر کے علادہکیٹیا کور نر او دو صرے سرکردہاضراب کے مارک باد کے پیام موضھول ہوۓے۔ لوکل اخیار می افتتاح کے نکش ن کا امت انداز میس ذکرہوا۔ ول المد-

٦

۱ جح س1 گچچں چک ھ ِ9 َکےےے

899٭1.

عفرت غلیفہ الچ الثانی نے اس سو کا نام سلام شون فیایا۔ سد کے سا دشر کے علاوہ یی کی راک کاو ک بھی انظام بداادد رپائیشی سےکرے اور دخ کی قمیرکردائی۔ ماکسار دو ایک ماوکی رخصت پر ربدہچلاگیا۔ ٢٢‏ ہز رکی رت بای رہق ھی جو میکید ار صاح بکومسجد کے معمل ہو جانے پر دتی تھی۔ اسے مض خیراعری ملمانوں نےکماکہ اتدیو ںکو چالی نہ دو جب تک تار بی بقیہ تم نہ مل جاے۔ دا لا گکرے اس ن ےکماہہ مد کا معاللہ ہے۔ دا گھرہے۔ میں چالی نہیں

١‏ انت 26 ای ہے دوں گا ٢‏ ان کا با قاعدہ افتقاج ہو اور نمازمیں اداکریں۔

میری رخصت کے ایام میں جو تانمقام مشنٹری انجارج تھے حبکید ار نے ان سے ایک دو دفعہ رق م کا مطلہ ہکیا۔ انموں نے ھرکز میں رت غلیفۃ اس الا یکو کیا کہ صاحب قرض چھوڑ گے ہیں۔ شفیکیدار جھ سے بار جار عطالہ کر ہے۔ ور نے انیس ککھاکہ جہماں سے بن صاحب دیاکرتے تھ اس طربق سے تم بھی نرہ احباب جماعت سے وصو لکرو اور رض اداکرد۔ جن صاحب مسر یماں ات لے کر نہیں آے اور وکالت تشی رکو عم دیا کہ جن صاح بکو جلد وابیں مشرق افریقہ مجواویں-

یھ دوں بعد اکسا رکی دای ہوئی۔ اب اس قرض کی ادا ئگ کیل گر ہوا۔ دعاکی۔ اللہ تھالی نے راس ہکھولا اور مھ دی۔ جماعت کے ند اص دوستوں ے قش صنہ مقررہ رمک وصو لکیا۔ جب یہ سارکی رتم قرضس سنہ کے طوری ایک دوماہ میں اکسا رکو وصول ہوگئی ے شحیکید ا رکو اد اکر دی۔ عزید ۵۰۰ شلنک شک نے کے طور پر اسے ادا کہ آپ نے وھ 01 17ک ری کی الہ کیا اس رح یدارک تی ھی مو ان کا رق بھی اڑا ہو جن زوستوں سے فرص حسنہلیا فھاان سے وعدہ تھاکہ قرعہ کے سام ہردوس تکوہجن کا

141

7

کت سج جا چا پت بب 7 کرو ںگا۔ چتندو اور علیہ جا تکی کرک جماعت میں کرو 1 سے ىِ ىًُُ ںہ بزں ج گی ازجا نر لیا تھا کو ادا فا ماع کیل زمینو ںکاحصول اک اچچ سے مم شس ےہ

ماڑ رگا“

حراضیہ میس اع دو مساجد کے علادہ مور وگو رو یتو ایک کر رتو اصورت علاد ہے اد رھ اترک مدت سے واں رہ رہے تھے عومت سے زین کا قطعہ لیزر اص لکیا۔ اسی طرح ٹانگا میس جضماعت اریہ کے حلص افراد رج تھ وہاں بھی کک رب ور یی کے راو ا ںا قلومت سے ایک قطلعہ زین کا ھاص لکید خداکے فضل سے میرنے اس کلک سے ےس نت ہردد مقامات میں بھی مساجد قفیرہو گی ہیں بمہ مزیر ژوڑو۔ یں بھی ایک شاندار مصو دکی تقی رکمل ہوئی۔ المدلہ ماع تکوسے لئ نمی ۔

مور وگور دکی زین کے بارہیش بی اکھناد نیک بائٹ ہوگاکہ اکسمار کے اس لیگ سے آ جانے کے بعد آزادی کے دوں میں اس شمرکے ا فریقن نے عکومت سے درخواس تک یکہ اتدبو ںکو سو رکیل جھ لہ دیگئی ہے اس می ںکی وت وم تکی پارٹیٰ :<0 7 کا ایقرائی جس بوا تھا اس وجہ سے امریوں سے ہے پاٹ دائیں لے لیا جائے۔ اس شمریش ان دفو ںکرم نذیر اج صاحب ڈار بطور پریٹیڈنٹ پوس سج تے۔ ای رح ان کے بھائی ڈاک بل احد صاحب ڈار بھی یش سکرتے تھ۔ اپنے وت می ان دوفوں نے جھائتی خدمات میس پو راخ لا بیرے چھونے بائیکرم نی احھ صاحب شع بھی اس شر می خا ھا یا کاٹ نی می ملازم تے اور ممان فوازی اور پر طرح احا بکی خدمت م سکشادگی مات حصہ ین تھ۔ اگ چہ ان لوکوں کا نیک اٹ تھا را فریقن اس بات بر لے

می یی کت سے لیرہوگی او تید مرکنتا ے التائ کا ےس ۱

142

ہوۓ ھکل ہے یلاٹ را کک و ا

٥ <۷!”‏ :زط و 1[ نل و ال وت سے پ کر نوں نے مور کو دی 80پاٹ کان در ات رد ہیں اق یں ہا ںی ب51 نیمز دی ہیں لف کت ا ا ری کو سس کت2 ی و کت کے صر رکو تصفاتہ اور جزات منراد ففل کی ہے ہج یسا مر وف تق می

بیغیامیں مساجد

کرہو را سے ا بپکیمیا کالوٹی میس ان دخوں جھ

کل ان سٹور میں مساجد کا اش ںہ ا ا

0 ٠ے‏ وا تم ےت و تا ا ا ا ا کے سے کک ری ےکی خیکٹری

سے ضردری انا ص7 لی |گٹیڑے اجازت ے پور ٥3۵ء٥7۶‏

0:7 رس ہریت

طو کا رم عم اکر خان صاحب نمور ی نے جو الناد نل خنیکید ۱ر یکرت سے ات زا ال اضن الجزاء- 2 رت کے طور بر آج تک احتعال ‏ ۷

ہے۔

پک سے وزمر تشم اوربعد میں صدر ہے 1

۱

14 ھکس مہ سس باے ےچ چس سے سے

بر ش رت و و یئ ح سید محراع الین صاحب نے رتح دی ادر یہ رق, مس کی تی کے کے ہے سے سس کیا ہد رہ انداز یش یہو گی ہز اہ اللہ ان الجزاء کل

۱ وج بط رگاہ ہوتے کے آنے جانے والے ممانوں کا 25 کے رام کر ض ظا میمرت ا ہو موہ سو ہت ۔ لہ تال ان الا اس کہ کی سی کی یرش لوکل بحاعت باففدوص محروم و مففور باہو مج عالم صاحب اور ان کے پچوں من ےگمراں تہ

٤ ..‏ ں تر رص بے کوں بی بی ےش بھی کا کیب کہ ے۔ : اد ے۔ این کا خاصی آبادی ھی ہے۔ ریلوسے یش بھی ہے_ حطر ات چھئی من ونوں جح ہت ٠‏ کے لے پاٹ کے ول کی عکومت سےکو ش کک بعض خیر تو نے یداہ زی کے صول کے رہش لشوس وا سد حب جو ایا ہندوڈاکٹراور شریف الس شمری تھ اور تا زا نشی ۔ متا ""**“"م',"سسس0 ٤‏ می علاق یش مک کے ایک طرف اع تکوپلاٹ گیا رم حجیب اللھ ات جسوال ان دفوں دہاں کی می" جیلئی میں ملازم تھ۔ انموں نے بتایا و مل ایت للہ لصاح جو ان رو دا ےھ سار ے حرصہ قیام مر ا فرییقہ مم انہوں نے بیوگنڈا اور لحتقہ علاقوں کے احاب سے اس

144

سیر کے ل ےکسی قزر ند بھی وعسو لکیا کس یکا کے سلسلہ میس خاکحار ان ذنول نت کن کے راس خیردلی جا ٹھا۔ احیا بکومزیدہاکیدک یک مدکی یر کی ھکومش کریی۔ خاکسار نے اس وقت یازو ںک کید وا یکچ ایک سد شلنک بی زی زین مور لت کی تھی لینی چھکی۔ ای زیاد کر کحودنے کیا رت ز تی ٹہ گرا یی یا دس کان تھیں۔ سو ماش ہبی الیاھاکہ گی اشن ارت ہے۔ بت زوین جس ون صاتب او راخیاپ لکن 00 صرف بنیز کھووئی بی مناسب خیں پ خرن اان مس یکن یں جے۔ میں میں یےکتا را گند انشاء ال کھا و کاکام دے گا آپ جیادی ن ھدوا لو جس موس می سپ دوں پ گرم زکرم خان صاحب ورک امو مین کانوں کے بیاتے کا کہ ملا۔ اخیوں ت ےکرک مسر جو تقشہ کے مطابی ہے دہ وا رس گے۔ بت بدی سو ربھی نہ تھی۔ اس کے سا تہ مشن پوس جماعت چند سے نو نے۔ انل خیدا ا طرح می نگئی و رمشن پوس مین کے قیا مکی بھی علیہ جات سے من گیا صی ر کسموں کافوڈ پچ کیا جا رپاے۔ اللہ ا ان سب را بکوجزاء خیررے جنموں نے ان تی ککاموں میں حصہلیا۔

گن ٹیس مساجد کےکوا نف ورای مت کک یں

رق فزیقہ کا تراہم ملک اڑا ے۔ بهت سر زنک سے ادر امرگ ری ےس شھ اص ل کر ےک یکو ششک یکئی ۔ککپال می اساعیل ماع فا2 کے نان اکک پاٹ حاص لکیاگیا۔ بعد یں بے پلاٹ فوخ تکرنابڑا۔ ا ںکی اکچھی تمت دصول پو۔ اعت نے یوقم یرد ری ازاں ری دد سر من کے حصو لکا

1045

کش لک یگئی۔ یا رکوشٹل اور جدوجد کے بعد 20+08 سک کے پانئیں طرف ایک پارک تھااورسگرین۔ خوش شعتی سے اس پارک میں جماع تک بات دماگیا۔ اس کے اوپر جو مسر کگزر دق شی اس کے انیس طرف میگ رہ مے کا تھا بعد یس یو نیو ری بی نگئی تھی- دو مرا پلاٹ مسید جن کیل حا لکیاکیا۔ خماصا بڑا پاٹ سے جو د ریا نیل کے کنارو کے شم ریس ہہ پلاٹ ہے۔ تسراپلاٹ مسائا یس عاص لکیاگیا۔ حکومت سے سے پلاٹ یزیر دہاں کے تو اعد کے مطالقی عاصل کے گئے۔ ح بے پل کان سی سیک ات مات گے ودرکس وین کی این کید وائ یگیگیں۔ محتزم عم جا برا زیم صاحب ان دفوں دہاں میا تے۔ خاکمار کے سا م کر ہ رکشل یں دہ مھ رہے۔ بہت ام کے آدی تے۔ جب